بھارتی نوجوان تعلیم سے محروم

09:06 AM, 25 Sep, 2026

بھارت کے 250 اضلاع میں تقریباً 25 فیصد نوجوان تعلیم، روزگار یا تربیت سے محروم ہیں۔ سرکاری سروے کے مطابق ملک کے ڈھائی سو اضلاع میں ایک چوتھائی (25 فیصد) نوجوان کسی بھی تعلیمی، روزگار یا پیشہ ورانہ تربیت کے عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ اعداد و شمار سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس میں سے صرف 7 فیصد کو ملازمت مل سکی، جبکہ 93 فیصد گریجویٹس روزگار کے حصول سے محروم رہے۔ ماہرین اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں اس بحران کی بڑی وجہ معاشی پالیسیوں کی خامیوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکامی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت میں بڑھتی بے روزگاری نے بی جے پی کی کھوکھلی معاشی ترقی کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی ملازمت کی تلاش میں بھارتی نوجوان ابھی گپتا درجنوں انٹرویوز کے باوجود تاحال روزگار حاصل کرنے میں ناکام ہے ۔ملازمت کے متلاشی ابھی گپتا کا کہنا ہے کہ؛روزانہ صبح سے شام تک کا تمام وقت صرف کام کی تلاش میں گزرتا ہے۔تین سالہ تکنیکی ڈگری مکمل کرنے کے باوجود مناسب روزگار کا ملنا مشکل ہو چکا ہے۔شعبہ ٹیکنالوجی میں زیادہ عرصے کا تعطل ڈگری کی عملی قدر و قیمت کو ختم کر دیتا ہے۔معروف لیبر اکنامسٹ روزا ابراہم کے مطابق مالی بوجھ کے تحت مجبوری میں کیا گیا کام انسان کا وقار اور مقصدِ حیات چھین لیتا ہے۔
بھارت میں مسلمان نوجوانوں کی حالت زار اس وقت سماجی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی محاذوں پر سنگین چیلنجز کا شکار ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک میں مسلمان نوجوان خود کو الگ تھلگ، عدم تحفظ اور پسماندگی کی دلدل میں محسوس کر رہے ہیں۔مختلف تحقیقاتی رپورٹس اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، بھارتی مسلم نوجوانوں کی موجودہ صورتحال کے اہم پہلو میں تعلیمی اور معاشی پسماندگی اور ر وزگار کے مواقع کی کمی ہے۔ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں مسلم نوجوانوں کو ملازمتوں کے حصول میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اعلی مالی مشکلات اور تعلیمی اداروں میں معاندانہ ماحول کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مسلم نوجوانوں کی شرح دیگر مذاہب کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ ماضی کی سرکاری رپورٹس (جیسے سچر کمیٹی) نے واضح کیا تھا کہ بھارتی مسلمانوں کی حالت بعض شعبوں میں دلتوں (اچھوتوں) سے بھی ابتر ہے، اور نوجوان نسل اب بھی اس پسماندگی سے نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے یا پرامن احتجاج کرنے والے طالب علموں اور نوجوانوں کو کچلنے کے لیے یو اے پی اے (UAPA) جیسے سخت ترین انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندِ سلاسل کیا جاتا ہے۔
 انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی بار آواز اٹھائی ہے کہ دہشت گردی یا دیگر جرائم کے نام پر مسلم نوجوانوں کو مشتبہ بنا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے، اور سالہا سال عدالتوں میں بے گناہی ثابت کرنے میں ان کی جوانی جیلوں کی نذر ہو جاتی ہے۔حالیہ برسوں میں گائے کی اسمگلنگ، جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے، یا دیگر مذہبی بہانوں سے انتہا پسند ہندوؤں کے مشتعل ہجوم کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو سرِعام وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے اور جان سے مارنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔سوشل میڈیا اور سیاسی اسٹیجوں سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عام مسلم نوجوان مسلسل ذہنی تناؤ اور عدم تحفظ کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں۔
 متنازعہ قوانین (جیسے CAA اور NRC) نے مسلم نوجوانوں کے اندر یہ خوف پیدا کیا ہے کہ انہیں ان کے اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا جائے گا۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں مسلم نوجوانوں کو ٹکٹ دینے یا ان کے حقوق کی بات کرنے سے کتراتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ خود کو سیاسی طور پر بے یار و مددگار پاتے ہیں۔ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حالات مزید سنگین ہیں، جہاں نوجوانوں کو سیاسی حقوق مانگنے، احتجاج کرنے یا حقِ خودارادیت کی بات کرنے پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور حریت پسند رہنماؤں اور نوجوانوں کو تہاڑ جیل سمیت مختلف بھارتی جیلوں میں کٹھن حالات میں قید رکھا گیا ہے۔
بھارت میں مسلم نوجوان اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک طرف اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے دباؤ میں ہیں، تو دوسری طرف نظام کی ناانصافیوں، معاشی محرومیوں اور انتہا پسندی کا براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ ان حالات نے نوجوانوں کے اندر مایوسی کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد اور بیداری کا جذبہ بھی پیدا کیا ہے۔

مزیدخبریں