کبھی کبھی انسان کو نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ اس سے محروم ہوجاتا ہے۔ گھر کی قیمت اس بے گھر سے پوچھئے جس کے پاس سر چھپانے کو چھت نہیں، اپنوں کی قدر اس شخص سے پوچھئے جس نے ہجرت میں اپنے عزیز و اقارب کھو دیے، اور وطن کی قدر ان لوگوں سے پوچھئے جن کے پاس اپنی کہلانے والی کوئی سرزمین نہیں۔
پاکستان ہمارے لیے محض نقشے پر بنا ہوا ایک ملک نہیں۔ یہ ہماری شناخت ہے، ہماری آزادی ہے، ہماری عزت ہے، ہماری اجتماعی چھت ہے۔ یہ وہ مٹی ہے جس میں ہمارے بزرگ آسودہ خاک ہیں، جہاں ہماری نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں اور جہاں ہمارے بچوں کے مستقبل کے خواب سانس لیتے ہیں۔ پاکستان ایک نعمت ہے؛ ایک ایسی نعمت جس کی حفاظت صرف جذبے سے نہیں، شعور، اتحاد اور ذمہ داری سے کرنا ہوگی۔ پاکستان ہے تو سیاست ہے، سیاسی جماعتیں ہیں، سیاسی قیادت ہے، انتخابات ہیں، پارلیمان ہے، اختلاف رائے ہے، صحافت ہے، عدالت ہے اور پْرامن احتجاج کا حق ہے۔ پاکستان نہ ہو تو یہ سب نام، یہ سب بحثیں، یہ سب حقوق بے معنی ہوجاتے ہیں۔ جس سرزمین پر ہمارا وجود قائم ہے، اسے کسی وقتی سیاسی اختلاف کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شخصیت، اصول سے بڑی اور جماعت، وطن سے مقدم ہوجائے۔ ہمیں یہ حقیقت دل میں اتارنی ہوگی کہ کوئی بھی شخصیت، خواہ کتنی ہی مقبول، محترم یا بااثر کیوں نہ ہو، پاکستان سے بڑی نہیں ہوسکتی۔ شخصیات تاریخ کا حصہ بنتی ہیں؛ وطن تاریخ بناتا ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، جماعتیں عروج و زوال دیکھتی ہیں، قیادتیں آتی جاتی ہیں، مگر پاکستان کو ہمیشہ باقی رہنا ہے۔
اس لیے شخصیت پرستی کے حصار میں قید لوگوں کو اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی۔ اپنے سیاسی رہنما سے محبت ضرور کیجیے، اس کی حمایت کیجیے، اس کے لیے سیاسی جدوجہد کیجیے، مگر اپنے وطن کو اس محبت سے ہمیشہ بلند رکھیے۔ کیونکہ لیڈر آپ کے سیاسی نظریے کا مرکز تو ہوسکتا ہے، لیکن پاکستان آپ کے وجود کا مرکز ہے۔ یاد رکھئے کہ کسی شخصیت سے وفاداری اگر وطن سے وفاداری پر غالب آجائے تو پھر سیاست خدمت و عبادت نہیں رہتی بلکہ، اندھی اور جذباتی وابستگی بن جاتی ہے۔
آج پاکستان ایک نہایت حساس دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف سرحدی اور بیرونی سلامتی کے خطرات ہیں، دوسری طرف ملک کے اندر دہشت گردی اور بدامنی کے چیلنجز موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں سرحد پار کارروائیوں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں نے وطن عزیز میں سکیورٹی ماحول کی سنگینی مزید واضح کر دی ہے۔ اس نازک موقعہ پہ ہمیں من حیث القوم یہ سمجھنا ہوگا کہ دشمن ہمیشہ توپ اور میزائل سے حملہ نہیں کرتا۔ وہ قوم کے اندر شک، نفرت، اشتعال اور تصادم پیدا کرکے اپنے مقاصد بھی حاصل کرتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے ہی لوگوں سے لڑنے لگے، جب سیاسی اختلاف دشمنی بن جائے، جب سڑکیں میدانِ تصادم بن جائیں اور جب ریاستی ادارے مسلسل محاذ آرائی میں الجھ جائیں تو دشمن کو گولی چلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لیے دشمن کے کسی ایسے ایجنڈے کا حصہ بننا قومی نقصان ہے جو پاکستان کو مسلسل بے یقینی، افراتفری اور عدم استحکام کی صورتحال میں رکھنا چاہتا ہو۔ اسی طرح اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مضبوط پاکستان کا مطلب خاموش پاکستان نہیں۔ جمہوریت اختلاف سے زندہ رہتی ہے۔ حکومت سے سوال کرنا، اس پہ تنقید کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، سیاسی جدوجہد کرنا حق ہے اور پْرامن احتجاج بھی آئینی حق ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 16 شہریوں کو پْرامن اور غیر مسلح اجتماع کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے یا اس کا رکن بننے کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن قانون کی مقررہ حدود کے ساتھ۔ لہٰذا مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کا طریقہ کار ہے۔ مسئلہ سیاست نہیں، سیاست کو تصادم میں بدل دینا ہے۔ مسئلہ احتجاج نہیں، احتجاج کے نام پر تشدد، توڑ پھوڑ اور شہریوں کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنا اور پورے ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ جہاں ہمیں اپنے حقوق عزیز ہونے چاہئیں وہیں ایک مہذب شہری کے طور پہ اپنے آئینی و قانونی فرائض بھی۔
دوسری طرف ریاست کی ذمہ داری بھی اسی قدر اہم ہے۔ اگر کوئی شہری آئین اور قانون کے اندر رہ کر اختلاف کرتا ہے تو اسے دلیل، سیاسی عمل اور قانون کے ذریعے جواب ملنا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص یا گروہ تشدد، دہشت گردی، توڑ پھوڑ یا عوام اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے کی طرف جاتا ہے تو ریاست کو قانون کے مطابق بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔ ریاستی اختیار کسی شخصیت کے خلاف نہیں، قانون کی حکمرانی کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ قانون کا ہاتھ مضبوط ہو، مگر انصاف کے اصول بھی مضبوط رہیں۔ سیاسی قیادتوں پر بھی ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کارکن صرف نعرے لگانے والا ہجوم نہیں بلکہ اس ملک کے شہری ہیں۔ لہٰذا انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ سیاسی جماعت کا پرچم قابل احترام ہوسکتا ہے، مگر قومی پرچم سب سے بلند ہے۔ اختلاف کیجیے، مگر اپنے سیاسی مخالف کو دشمن نہ بنائیے۔ حکومت بدلنے کی جدوجہد کیجیے، مگر ملک کو کمزور کرکے نہیں۔ اقتدار آج کسی کے پاس ہے،تو کل کسی اور کے پاس ہوسکتا ہے؛لیکن وطن ہمیشہ ہمارا اپنا رہنا ہے اور رہنا چاہئے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے سوچئے: اگر خدانخواستہ وطن کمزور ہوجائے، معیشت بیٹھ جائے، قانون کی گرفت ختم ہوجائے، امن برباد ہوجائے اور ریاست اندرونی انتشار کا شکار ہوجائے تو پھر ہماری سیاست کہاں ہوگی؟ کس کے جلسے ہوں گے؟ کس کے انتخابات ہوں گے؟ کس کی حکومت ہوگی؟ کس کی اپوزیشن ہوگی؟ کس پارلیمان میں تقریریں ہوں گی؟ کڑوی حقیقت تو یہی ہے کہ جب وطن محفوظ نہ رہے تو سیاسی کامیابیاں بھی بے معنی ہو جاتی ہیں۔ ہمیں یہ بات آج سمجھنی ہوگی، کل شاید دیر ہوجائے۔ پاکستان کسی ایک خاندان، جماعت، رہنما یا ادارے کی ملکیت نہیں۔ یہ ہم سب کی مشترکہ امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت سرحد پر کھڑا سپاہی بھی کرتا ہے، عدالت میں بیٹھا منصف بھی، کلاس روم میں پڑھاتا استاد بھی، کھیت میں محنت کرتا کسان بھی، دفتر میں کام کرتا شہری بھی اور ووٹ ڈالنے والا عام پاکستانی بھی۔
ہمیں سیاست کرنی ہے، مگر آئین کے اندر رہ کر۔ ہمیں اختلاف کرنا ہے، مگر تہذیب کے ساتھ۔ ہمیں احتجاج کرنا ہے، مگر پْرامن طریقے سے۔ ہمیں اپنے حقوق مانگنے ہیں، مگر دوسروں کے حقوق پامال کیے بغیر۔ اپنی سیاسی محبت کو قومی محبت پر غالب نہ آنے دیں۔ یہ ملک قربانیوں کی امانت ہے؛ اسے انتشار کی نذر نہ کریں۔ کیونکہ پاکستان سلامت ہے تو ہماری شناخت، آزادی، سیاست اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سلامت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہر وقت ذہن میں رکھئے کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔
پاکستان ہے تو سب کچھ ہے
09:25 AM, 25 Sep, 2026