نئے صوبے، کیپٹن صفدر کا درست مؤقف!

09:22 AM, 25 Sep, 2026

یہ کسی کا دعویٰ ہے ثبوت نہیں، نئے صوبوں کا غلغلہ جس مقصد کے لئے بلند کیا گیا تھا وہ پورا ہو گیا ہے اس لئے اب راجستھان میں نہر کی طرح یہ منصوبہ بھی قصہ ماضی بن جائے گا، جب تک نئے صوبوں کا منصوبہ ماضی کا قصہ نہیں بن جاتا اس وقت تک اس دعویٰ کی صداقت مشکوک رہے گی۔
نئے صوبوں کے حوالے سے کیپٹن (ر) صفدر کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پروپیگنڈہ کیا گیا کہ وہ نئے صوبوں کے خلاف ہیں اس پروپیگنڈہ کا انہوں نے ایک جلسہ عام میں جواب دے دیا ہے اس لئے میرا مقصد ان کی صفائی پیش کرنا نہیں ہے تاہم اس سے طاقت کے زعم میں پنپنے والے منصوبوں کی یادتازہ ہو گئی ہے۔
بانی پاکستان نے کہا تھا کہ ’’پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا‘‘۔ ان کی تاریخی طور پر ایک مرتبہ کہی گئی بات کو غلطی سے ’’پاکستان نظام کی تجربہ گاہ ہو گا‘‘ سمجھ کیا گیا۔ تاریخی طور پر پاکستان میں نظام کا آغاز نیم پارلیمانی نظام سے ہوا تفصیلات بہت سی جبنیوں کے شکن آلود ہونے کا باعث بن سکتی ہیں۔ قیام پاکستان کے7 سال بعد 1954ئ میں جو آئین بنا گورنر جنرل ملک غلام محمد کی جمہوریت دشمنی کی نذر ہو گیا۔ دوسرا آئین 1956ئ میں بنا یہ بھی گورنر جنرل سکندر مرزا کی آمرا نے ہوس کا شکار ہو گیا۔ ملک میں مارشل لائ نافذ کر دیا گیا۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے جو مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر بھی تھا۔ صدر سکندر مرزا (جو 1956ئ کے آئین کے تحت گورنر جنرل سے پاکستان کا پہلا صدر بنا تھا) کو بزور چلتا کر کے خود صدر اور مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر بن گیا پھر اس نے 1962ئ میں اپنی مرضی کا آئین بنایا تمام تر انتظامی و آئینی اختیارات صدر کی ذات میں مرتکز ہو گئے۔ جس کی بنا پر اسے لائل پور (فیصل آباد) کا گھنٹہ گھر کہا گیا تھا۔ جنرل ایوب خان نے اپنے آئین کے ساتھ اپنا نظام بھی ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کے نام سے نافذ کر دیا۔ ڈنڈے کے زور پر نافذ کردہ یہ نظام ایوب خان کے رخصت ہوتے ہی اپنی موت آپ مر گیا۔ 1962ئ کا آئین منسوخ کر کے جنرل یحییٰ خان نے اپنا آئین اور اپنا نظام بنایا جو اس کے ساتھ رخصت ہوا۔ جنرل ضیائ الحق نے اپنا آئینی و انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ غیر جماعتی انتخابات کے لئے بلدیاتی اداروں کے انتخابات کی صورت بنایا۔ جنرل ضیائ الحق فضائی حادثہ کا شکار ہوئے تو یہ نظام بھی گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے سٹی ناظم کا نظام بنایا وہ نہ رہا تو یہ نظام بھی نہیں رہا۔
سوال پیدا ہوتا ہے ایسا کیوں ہوتا رہا۔ ان میں کوئی ایک نظام بھی عوام کی نظر میں فیضان ثمرات نہیں دیکھا گیا کیونکہ ان نظاموں کو عوامی و سیاسی تائید حاصل نہیں تھی۔ یہ بات دراصل کیپٹن صفدر نے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ کیپٹن صفدر کا مؤقف ہے اتنا اہم قومی قدم اٹھانے سے پہلے موجودہ نازک حالات، آئینی تقاضوں اور تمام قومی و مذہبی قیادت کی رائے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ یاد رہے 2010ئ میں جب ہزارہ کے عوام نے ہزارہ صوبوں کی تحریک شروع کی۔ کیپٹن صفدر نے کھل کر اس کی حمایت کی تھی۔ اس میں کئی جانیں قربان ہوئیں۔ ہزارہ کے عوام نے 17جولائی 1947ئ کو تاریخی ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیئے۔ ہزارہ کا علاقہ 1901ئ میں پنجاب سے کاٹ کر تب صوبہ سرحد اب خیبرپختونخوا میں شامل کیا گیا تھا تب اس کے خلاف مزاحمت کو انگریز سرکار نے ناکام بنا دیا تھا۔
حقیقت پسندی یہ ہے صوبہ بنائو مگر عوام کی مرضی اور سیاسی و مذہبی قیادت کی آزادانہ مشاورت سے ورنہ اس کا انجام ڈنڈے کے زور پر بنائے جانے والے نظاموں جیسا ہی ہو گا۔ 

اسرار بخاری        براہ راست

مزیدخبریں