اسلام آباد: چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے گورننس کا نظام بہتر کرنا ہوگا، کیونکہ جب حکومتیں کمزور ہوتی ہیں تو ادارے بھی ناکام ہو جاتے ہیں، اور یہی کرپشن، ناانصافی اور عوامی محرومیوں کی بنیاد بنتی ہے۔
وہ فاسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں سیمینار "2030 کا پاکستان: چیلنج، امکانات اور نئی راہیں" سے خطاب کر رہے تھے۔میاں عامر محمود نے ایک بڑی اور عملی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موجودہ چار صوبوں کی بجائے تمام 33 ڈویژنز کو علیحدہ صوبوں میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس ہوں گے تو مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے اور ہر علاقے کے لوگوں کی آواز براہِ راست وزیراعلیٰ یا انتظامیہ تک پہنچ سکے گی۔
انہوں نے کہا: "ایک شخص 13 کروڑ کی آبادی پر مشتمل صوبے کو مؤثر طریقے سے نہیں چلا سکتا، اس کے لیے چھوٹے یونٹس، زیادہ اختیارات اور بہتر نظم و نسق کی ضرورت ہے۔"
میاں عامر نے کہا کہ پاکستان میں انصاف کا حال یہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں فیصلے آنے میں 16 سے 18 سال لگتے ہیں، اور عدالتوں میں ہزاروں کیسز زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق یہ عدالتوں کا قصور نہیں، بلکہ پورا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا "آج چور اور ڈاکو سزا نہیں پاتے، بلکہ آسانی سے بری ہو جاتے ہیں۔ جب سزا اور جزا کا نظام نہ ہو تو جرائم بڑھتے ہیں اور عوام مایوس ہوتے ہیں۔"خطاب میں انہوں نے تعلیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 44 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں یعنی ان کی جسمانی اور دماغی نشوونما رک گئی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا "ہماری آدھی آبادی ایسی بن رہی ہے جو آگے جا کر تعلیم، روزگار اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔" انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت ایک بچے پر ماہانہ 4400 روپے خرچ کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار انتہائی کمزور ہے۔
انہوں نے فیصل آباد کی مثال دی اور کہا کہ "یہ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے، مگر یہاں ڈھنگ کا ہسپتال، اسکول یا یونیورسٹی تک نہیں۔ فیصل آباد کے لوگوں کو چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے لاہور جانا پڑتا ہے، کیونکہ وسائل صرف بڑے شہروں تک محدود کر دیے گئے ہیں۔"
میاں عامر نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں کی فی کس آمدن میں 3 سے 4 گنا اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں بھی ایسے ماڈل پر عمل کیا جائے تو پسماندہ علاقے خوشحال ہو سکتے ہیں۔
میاں عامر محمود نے نوجوانوں کو ملک کی 64 فیصد آبادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا آج کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے اور نوجوان اسے اپنے مسائل، سوالات اور اصلاحات کے لیے استعمال کریں۔
انہوں نے کہا: "ہم ووٹ لینے نہیں، مسئلے حل کرنے آئے ہیں۔ نوجوان ہماری بات سنیں، سمجھیں اور دوسروں تک پہنچائیں، کیونکہ یہی آپ کا اصل کردار ہے۔"آخر میں میاں عامر محمود نے کہا کہ اگر عوام ایک نکتے پر متحد ہو جائیں تو کوئی سیاسی جماعت ان کی بات کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔"یہ وقت ہے سوچنے کا، سوال کرنے کا اور سسٹم کو بدلنے کا — ورنہ ہم آنے والے 20 سال بھی کھو دیں گے۔"