واشنگٹن : وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آج واشنگٹن میں ایک اہم ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہوگی۔
اس ملاقات میں عالمی اور علاقائی صورتحال، مسلم دنیا کے چیلنجز، اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کا امکان ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی ممکنہ طور پر اس ملاقات میں شریک ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مسلم ممالک کی قیادت کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد پر بھی غور ہوگا۔ اس دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایک اہم اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر، فلسطین اور دیگر اہم عالمی معاملات پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کریں گے۔
وزیراعظم نے حالیہ دورہ نیویارک کے دوران کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں امیر قطر، اردن کے بادشاہ، انڈونیشیا اور چین کے وزرائے اعظم، سری لنکا کے صدر، کویت کے ولی عہد، اور آسٹریا کے چانسلر شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون، تجارت، سفارتکاری اور خطے میں امن کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔
ایک ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ہنستے ہوئے آسٹریا کے چانسلر سے کہا کہ "شاید کل ہی آپ کے ملک کا دورہ کر لوں!" جس پر قہقہے لگے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور ترقی کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، اور تمام بڑے بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤقف جرات مندی سے پیش کرتا رہے گا۔