شاعر مشرق نے عالم اسلام کے ممالک اسلام کے سنہرے اصولوں کے مطابق جمہوری سیاسی نظام وضع کر کے انفرادی طور پر مستحکم اور مضبوط ملک بنیں اور جمہوری اسلامی ممالک کا ایک بلاک قائم کرنے کا تصور دیا تھا، علامہ محمد اقبال کے تصور اور ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل کی کوششوں سے 1997 میں 8 مسلم ممالک کا ڈی ایٹ کے نام سے اتحاد وجود میں آیا تھا جس میں طے پایا پاکستان، ایران، ترکی، انڈونیشیا، نائجیریا، ملائیشیا، مصر اور بنگلہ دیش باہمی تجارت کو فروغ دیں گے، ستر کی دہائی تک بھٹو اور شاہ فیصل کا دور متوازن تھا، 1997ء تک واحد سپر پاور امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر جڑ پکڑ چکا تھا۔ امریکہ کی بالادستی کی بنا پر عالم اسلام اور او آئی سی دبائو کا شکار، اسی دباؤ کی بنا پر ڈی ایٹ کانفرنس کوئی قابل ذکر کردار ادا نہ کر سکی، اب ایک نیا اسلامی بلاک بننے جا رہا ہے جس کی بنیاد سعودیہ اور پاکستان نے رکھ دی ہے۔ اس بارے میں حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 29 ستمبر کو طلب کیا جائے گا جس کے بعد پاکستان اور سعودیہ ایک نئے دور کا آغاز کریں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتے ہیں، معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستانی عوام کو سر زمینِ حرمین شریفین سے خاص عقیدت ہے اور 1960 سے دفاعی تعاون پاک سعودی تعلقات کا بنیادی ستون رہا ہے، پاکستان نے قطر پر اسرائیلی حملے کا معاملہ انسانی حقوق کونسل جنیوا میں بھی اٹھایا جس سے مسلم امہ کے ستون مضبوط ہوئے اور دنیا پاکستان کی طرف دیکھنے لگی بے شک سعودیہ اسلامی دنیا کیلئے ایک رول ماڈل ہے لیکن وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ دوست ملک سعودیہ بھی پاکستان سے معاہدہ کیے بغیر نہ رہ سکا تاہم معاہدہ ایک رات میں نہیں طے پایا، اس میں کئی ماہ کی محنت شامل ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ باضابطہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھا خوش آئند بات یہ ہے کہ دیگر ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں تاہم اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات کا نیا باب تاریخی تسلسل کی کڑی ہے جو دہائیوں پر محیط ہے، 1967 میں دفاعی پروٹوکول سے لے کر 1982 کے دفاعی معاہدے اور 1989 میں خلیج بحران کے دوران پاکستانی افواج کی تعیناتی تک، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید شاہ فیصل اسلامی دنیا میں ہیرو کی طرح ابھرے، فروری 1974ء میں اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں ہوئی، اجلاس شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ کوششوں اور شہید شاہ فیصل آل سعود کے فیاضانہ مالی تعاون اور سرپرستی کا نتیجہ تھا۔ 1967ء میں امریکہ اور مغرب کی سرپرستی میں عرب اسرائیل جنگ سے نہ صرف یہ کہ عرب اتحاد کا شیرازہ بکھر گیا، ساتھ ہی صدر ناصر کے اقتدار کا سورج بھی ڈوب گیا، جنگ کے فوراً بعد اسرائیل کے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریاں نے کہا تھا کہ اب عرب کبھی متحد ہو کر ہمارے لیے خطرہ نہیں بنیں گے مگر ایک اسلامی ملک ہمارے لیے چیلنج ہے اور وہ ہے پاکستان۔ ڈیوڈ بن گوریاں کے بیان کے صرف تین سال بعد پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ بھٹو نے بجا طور پر کہا تھا کہ وہ بکھرے ہوئے ریزے جمع کر کے ایک ملک کی ازسر نو تعمیر کیلئے آئے ہیں۔ دل شکستہ پاکستان کو پھر سے متحد کرنا کٹھن کام تھا اور یہ کام ذوالفقار علی بھٹو نے انجام دیا۔ ایک پُرعزم قدم بڑھانے اور اونچا اڑنے کے قابل ہونے کیلئے ابھی ایک اور قوت کی ضرورت تھی اور اس وقت کا سامان بھی بھٹو نے کیا جب لاہور میں دنیا بھر کے مسلمان حکمرانوں کا اکٹھ تھا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی پہلے کی ہے، 1943 میں جب بنگال میں قحط پڑا تو شاہ سعود بن عبدالعزیز نے قائداعظم کی اپیل پر غیر منقسم ہندوستان کے لوگوں کے لیے امداد بھجوائی۔ 1946 میں شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز نے اقوام متحدہ کے نیویارک میں واقع ہیڈکوارٹر میں مسلم لیگ کے وفد کے لیے بین الاقوامی تعاون کا اہتمام کیا، قیام پاکستان کے بعد سعودی عرب پاکستان کو تسلیم کرنے والے اولین ملکوں میں سے ایک تھا، 1953 میں دونوں ملکوں کے درمیاں دوستی کا معاہدیہ ہوا، 1965 جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دیا اور 1969 میں دونوں ملکوں نے پہلے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، سقوط ڈھاکہ کے وقت بھی سعودی عرب نے پاکستان کی حمایت کی اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں وقت لیا، 1970 کی دہائی ہی میں پاکستانی کارکنان نے بڑی تعداد میں بغرضِ ملازمت سعودی عرب کا رخ کیا۔ 80 کی دہائی میں دونوں ملکوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا 1982 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان سعودی عرب کو دفاعی تربیت اور دفاعی سازو سامان کی تیاری میں معاونت فراہم کرنا تھی،1989 میں جب عراق نے کویت پر
حملہ کیا تو سعودیہ کو اپنے بارڈرز پر دفاعی خطرات کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت بھی پاکستان نے افواج سعودی عرب بھجوائی تھیں۔ حالیہ پاک سعودیہ معاہدہ امت مسلمہ کے اتحاد کی جیت و کشمیر کی آزادی کی نوید ہے۔ اللہ کریم نے یہ سعادت افواج پاکستان کو عطا کی ہے کہ پاک فوج حرمین شریفین کی حفاظت کی قومی اور دینی ذمہ داری کے فرائض انجام دے گی۔ یاد رہے بھٹو کے دور حکومت میں شاہ فیصل سے اسی طرح کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس پر پانچ لاکھ جوان سعودیہ گئے تھے اس وقت ایک سپاہی کی تنخواہ 18 ہزار تھی۔ اب بھی حکومت پاکستان اور خصوصاً فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اس بارے میں بات کرنی چاہیے تاکہ لاکھوں افراد کو روز گار ملے پاکستان اور سعودیہ معاہدہ خطے اور اسلامی دنیا کے لیے گیم چینجز ثابت ہو گا حرمین شریفین کی حفاظت ہر مسلمان کے دل میں ہے دفاعی معاہدہ نے ازلی دشمن بھارت اور امت مسلمہ کے دشمن یہود و نصاری کی نیندیں حرام کر دیں اسلامی نیٹو بلاک کی تشکیل کی طرف پہلا قدم قرار دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاہدے کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں۔
پاک سعودیہ معاہدہ، ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں
09:25 AM, 25 Sep, 2025