اسلام آباد پولیس میں تعینات نوجوان افسر عدیل اکبر نے اگلے روز گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، خودکشی کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے، ظاہر ہے جب اللہ انسانوں کو زندگی ایک بہت بڑی نعمت کے طور پر عطا فرماتا ہے پھر کوئی انسان اپنی زندگی کا خاتمہ خود کیسے کر سکتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس کا جواب دہ اصل میں اْس سسٹم کو ہونا چاہئے جس میں ہر طرح کی بداخلاقیاں جب حد سے بڑھ جاتی ہیں، ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے، انسان کی عزت نفس اْس کا وقار پل پل مجروع ہونے لگتا ہے، پھر کوئی غیرت مند انسان جب اس سسٹم کے مطابق نہیں چل پاتا بعض اوقات وہ اتنا اْکتا جاتا ہے اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہوئے وہ یہ بھی نہیں سوچتا وہ تو اللہ کے پاس جا رہا ہے مگر اپنے پیچھے جو عزیز و اقارب، بیوی بچے، والدین وہ چھوڑ کر جا رہا ہے اْن کا کیا بنے گا ؟ جس سسٹم سے اْکتا کر اْس نے اپنی خودکشی کی وہ سسٹم یا وہ ظالم سماج اْس کے جانے کے بعد اْس کے والدین یا اْس کے بیوی بچوں کو تاحیات کوئی تحفظ فراہم کر سکے گا ؟ عدیل اکبر جن کی ماتحتی میں تھا میں اْن میں سے کچھ افسروں کی فطرت سے بخوبی واقف ہوں، ان میں ایک تو باقاعدہ نفسیاتی مریض اور قصائی ہے، حرام مال اگر کسی کو ذبح کر کے بھی ملتا ہو وہ نہیں چھوڑتا، اْس کے بہت سے قصے کہانیاں ذاتی طور پر مجھے معلوم ہیں، جہاں جہاں وہ تعینات رہا اپنے ماتحتوں کو اذیت کے اْسی مقام پر لے آیا جس مقام پر پہنچ کر عدیل اکبر نے خودکشی کر لی، کاہنے اور کمینے پولیس افسروں کی ماتحتی میں رہنے والے جو پولیس افسر خودکشیاں کرنے پر مجبور نہیں ہوتے اْن میں اکثر اعصابی طور پر اتنے مضبوط ہوتے ہیں اْن کا باس اْنہیں جتنی چاہے گالیاں نکالے، اْنہیں غیر ضروری طور پر ساری ساری رات جگائے رکھے، اْن کے خلاف گھٹیا سازشیں کرے، وہ ماتحت افسر یہ سب بڑی آسانی و خندہ پیشانی سے قبول کر لیتے ہیں، آسانی و خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی ایک وجہ حرام کی کمائی بھی ہوسکتی ہے، جو کسی کے منہ کو لہو کی طرح لگ جائے پھر اپنے کسی گھٹیا باس کی گالیاں سْنتے ہوئے بھی اْسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے’’باس‘‘ کے منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں، کسی نے کہا عدیل اکبر کے پاس دوسرا راستہ بھی تھا وہ استعفیٰ دے دیتا، میرے نزدیک یہ خودکشی سے زیادہ مشکل راستہ تھا، سی ایس ایس کسی نوجوان کا بہت بڑا خواب ہوتا ہے، ایک زمانے میں پاکستان میں عزت مندی کا واحد راستہ سی ایس ایس اور پی ایم ایس وغیرہ کرنا تھا، جب سے ہمارے بے شمار افسروں کے منہ کو کرپشن کا لہو لگ گیا، حکمرانوں کی گھٹیا خوشامد کر کے اپنی مرضی کے تقرر تبادلے کروانے کی اْنہیں عادت پڑگئی، اْس کے بعد اپنے ماتحتوں کی بے عزتی کرنے میں وہ فخر محسوس کرنے لگے، چنانچہ اب یہ عزت مندی کا نہیں صرف حرام مال کمانے یا دیگر خرافات کا ایک راستہ بن کر رہ گیا ہے، جو افسر یہ گھٹیا کام نہیں کرتے، جو اپنی گریس ہر حال میں بحال رکھنا چاہتے ہیں وہ جب سی ایس ایس یا پی ایم ایس کا راستہ اپناتے ہیں بہت جلد اْنہیں احساس ہوتا ہے یہ راستہ کوئی اورہے،
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں بس دیکھنا اْنہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبرہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
عدیل اکبر کی منزل ابھی دْور تھی، اسے ابھی بہت اعلیٰ عہدوں تک پہنچنا تھا مگر جب اْسے راستے میں خبرہوئی کہ یہ راستہ کوئی اورہے تو وہ خود کشی کے رستے پر چل نکلا، خودکشی اسلام میں یقینا حرام ہے مگر عدیل اکبر جب اللہ کے پاس جا کر اپنے ’’باس‘‘ یا دیگر افسروں و حکمرانوں کی شکایت لگائے گا ممکن ہے اللہ خودکشی سمیت اْس کے باقی سارے گناہ بھی معاف فرما دے، اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے’’عدیل اکبر کی موت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں‘‘، کیا اسلام آباد کے پولیس افسر اپنے ہی خلاف تحقیقات کر رہے ہیں ؟ اگر ایساہے تو عدیل اکبر کو آنے والی ’’ آخری کال‘‘ کو نظر انداز کر کے ممکن ہے اس خود کشی کو کوئی اور رنگ دیا جائے، فنکار کمینے اور کاہنے پولیس افسروں سے اپنے کسی ماتحت کے لئے کسی اچھائی یا سچائی کی اْمید ظاہر ہے نہیں جا سکتی، اپنی کْتی کمینی فطرت و طبیعت کے مطابق اْنہوں نے جب بھی کرنی ہے کسی ماتحت کے لیے کوئی خرابی ہی کرنی ہے، کسی نے ’’اعتراف جرم‘‘ تھوڑی کر لینا ہے کہ میں نے اپنے ماتحت کو اتنی غلیظ گالیاں دیں، اْسے اتنا ڈانٹا وہ اس کیفیت میں مبتلا ہو گیا اْسے سوائے خودکشی کے کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دیا، ہمارے کچھ افسران خصوصا ًہمارے کچھ پولیس افسران جیسے جیسے اعلیٰ عہدوں پر پہنچتے جاتے ہیں کچھ زیادہ ہی کمینے ہوتے جاتے ہیں، اپنے نام سے ملتا جْلتا ایسا ہی ایک’’کمینہ افسر‘‘ جب آر پی او شیخوپورہ تھا اپنے ماتحت ڈی پی او کو اْس نے کال کی، وہ کال اٹینڈ نہیں کر سکا، جب ڈی پی او نے اسے کال بیک کی ’’کمینے آر پی او‘‘ نے مغلظات بکنا شروع کر دیں جو اْس کی’’خصوصی شناخت‘‘ ہے، ڈی پی او نے اْسے بتایا’’سر میں نماز پڑھ رہا تھا اس لیے آپ کی کال اٹینڈ نہیں کر سکا‘‘،’’کمینے آر پی او‘‘ نے ڈی پی او سے پوچھا تمہاری نماز زیادہ ضروری تھی یا میری کال ؟ ڈی پی او نے کہا ’’سر نماز زیادہ ضروری تھی‘‘، اْس کے بعد اپنی کتی کمینی طبیعت کے مطابق اس ’’کمینے آر پی او‘‘ نے ڈی پی او کے خلاف ایسی ایسی گھٹیا سازشیں شروع کر دیں بیچارہ ڈی پی او آئی جی کے پاس پیش ہوا اور گزارش کی میں اس آر پی او کی ماتحتی میں کام نہیں کر سکتا یا تو میری چھٹی کی درخواست منظور فرما لیں، یا میرا تبادلہ کر دیں‘‘، ڈی پی او چونکہ بہت ایماندار اور گریس فل پولیس افسر تھا آئی جی نے اْس کی دونوں باتیں نہیں مانی اور ’’کمینے آر پی او شیخوپورہ‘‘ کو سمجھایا ’’اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ، یہ نہ ہو کوئی ڈی پی او تم سے ویسی بد سلوکی کر دے جو فیصل آباد تمہاری تعیناتی میں تمہاری بدتمیزی پر ایک انسپکٹر و سب انسپکٹر نے کچھ اس انداز میں کر دی تھی تمہیں میز کے نیچے چھپنا پڑ گیا تھا، اْس کے بعد اْس انسپکٹر و سب انسپکٹر سے تمہیں معافی بھی مانگنا پڑی تھی‘‘، کچھ پولیس افسر بڑے غیرت مند ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ بے غیرتی کرنے والے کو مار دیتے ہیں یا خود کو مار لیتے ہیں، بے غیرتی کرنے والا شْکر کرے وہ اْس وقت ایس پی عدیل اکبر کے پاس نہیں تھا،اسی لیے عدیل اکبر کو دوسرا راستہ اپنانا پڑا، اللہ اْس کی مغفرت فرمائے اور کاہنے، کمینے و کرپٹ پولیس افسروں کو وہ ہدایت دے جو وہ کسی صورت میں اپنے لئے نہیں چاہتے۔
پولیس افسر کی خودکشی
09:21 AM, 25 Oct, 2025