پاک افغان تعلقات ،دوستی اور دشمنی کی داستان … !

09:18 AM, 25 Oct, 2025

پاکستان اور افغانستان دو ہمسایہ ملک ہی نہیں برادر اسلامی ملک بھی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اس کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عشروں سے قائم روابط کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ برادر اسلامی ملک ہونے کے باوجود افغانستان کبھی بھی پاکستان کے بارے میں معاندانہ اور مخاصمانہ سوچ رکھنے سے باز نہیں آیا۔ وہاں کوئی بھی حکومت ہو، کوئی بھی حکمران ہو، کوئی بھی گروہ برسرِ اقتدار ہو، وہ پاکستان سے ہر طرح کی سہولیات اور رعایات حاصل کرنے اور مفادات سمیٹنے کے باوجود پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا رویہ کیا رہا ہے، بلا خوفِ دردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان افغانستان کو برادر اسلامی ملک اور قریبی ہمسایہ سمجھتے ہوئے اُس کی طرف دوستی کا ہاتھ ہی نہیں بڑھاتا رہا ہے بلکہ وسیع ظرفی اور وسیع قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس کی طرف سے کی جانے والی معاندانہ اور مخاصمانہ کاروائیوں سے صرف نظر بھی کرتا رہا ہے اور کسی طرح بیرونی جارحیت کے مقابلے میں بھی افغانستان کی ہر طرح سے معاونت بھی کر تا رہا ہے۔ 
سوچنے کی بات ہے کہ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف معاندانہ اور مخاصمانہ سرگرمیوں کا ارتکاب اور اس کے ساتھ افغانیوںکا پاکستان سے نفرت کا اظہار ، آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ اس پر غورکریں تو اسے بڑی حد تک افغانیوں کی احسان فراموشی کی سرشت ، صدیوں سے اُن کی لوٹ مار کی روایات اور دھونس دھاندلی اور طاقت کے زور پر مطلب براری کی عادات کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ 
پاکستان افغانستان کی طالبان رجیم سے ایک مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان کے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں اور باغیوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے سہولت کار، مدد گار اور شریک کار کا کردار ادا کرنے سے باز رہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم نے پاکستان کے اس مطالبے کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ وہ اِدھر اُدھر کے جواز پیش کر کے اس کو ہوا میں اُڑاتی ہی نہیں رہی ہے بلکہ اُس کی بجائے بھارت سے اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان طالبان رجیم نے بھارت کی شہ پر پاکستان کے خلاف بذاتِ خود جارحیت کا ارتکاب کرنے پر تیار ہو گیا اور اکتوبر کے پہلے عشرے کے دوران نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ ایک طرف تحریکِ طالبان پاکستان کے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں میں اضافہ ہوا تو اُس کے ساتھ افغان مسلح دستوں نے پاک افغان سرحد عبور کر کے پاکستان کے کئی مقامات کو اپنے حملوں اور جارحیت کا نشانہ بنایا۔ ظاہر ہے پاکستان اس صورتحال کو کسی حال میں بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا چنانچہ پاکستان نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے افغانستان کی کئی سرحدی چوکیوں سمیت کابل، قندھار، سپین بولدک اور بعض دوسرے مقامات پر اُن کے فوجی اور دفاعی مراکز اور دہشت گردی کی تربیت گاہوں کے اڈوں کو ایسے نشانہ بنایا کہ افغان رجیم کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ وہ قطر اور ترکی کو بیچ میں ڈال کر جنگ بندی اور سیز فائر کی اپیلیں کرنے پر مجبو ر ہو گئے ۔ اس طرح عارضی جنگ بندی ہوئی اور پھر قطر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان 14 گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے جن میں قطر اور ترکی نے ثالث کا کردار ادا کیا اور اس طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ اب 25 اکتوبر کو جب یہ سطور شائع ہونگی ، استنبول ترکی میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مذاکرات کا دور ہو گا اور متنازعہ معاملات کو طے کرنے کی کوشش ہو گی۔ 
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی موجودہ صورتحال کی یہ منظر کشی انتہائی تکلیف دہ ہے اور دُکھ میں مزید اضافہ اُس وقت ہو جاتا ہے جب یہ خیال آتا ہے کہ ہم لوگ یعنی پاکستانی افغانیوں کے ساتھ ہمیشہ بے پناہ مروت اور محبت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے زمانہ وسطیٰ یا اُس سے بھی پہلے کے سلطان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری جیسے مسلمان حکمران جو برصغیر جنوبی ایشیا ء یا دوسرے لفظوں میں برصغیر پاک و ہند پر حملہ آور ہوتے رہے ، وہ ہمارے لئے ہمیشہ سے قومی اور ملی ہیرو کے درجے پر فائز ر ہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اُن سے لگائو کا اور کیا اظہار ہو سکتا ہے کہ ہم نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں کو غزنوی اور غوری جیسے نام دے رکھے ہیں۔ میں اپنی بات کر وں تو علامہ اقبال ؒ کا افغان باقی کوہسار باقی جیسا مصرع اور اُن کی نظم شکوہ کے    ؎  ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز / نہ کوئی بندہ رہانہ بندہ نواز یا پھر   ؎  قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پر مرتی / بُت فروشی کے عوض بُت شکنی کیوں کرتی، جیسے اشعار میرے دل میں افغانیوں سے محبت اور عقیدت کے جذبات کو اُبھارتے رہے ہیں۔ ماضی قریب کا ذکر کریں تو دسمبر 1979ء میں روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہو گئیں اور پچا س لاکھ تک افغان اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان میں مہاجر بن کر آن وارد ہوئے تو ہم نے اُن کو پناہ ہی نہ دی بلکہ روس کے خلاف جہاد میں (سچی بات ہے اب اس کو جہاد کہتے ہوئے دل نہیں مانتا) پاکستان کے حکمرانوں سمیت پاکستان کے عوام نے افغانیوں کی دامے، درمے اور سُخنے مدد ہی نہ کی بلکہ اس میں اس جوش و جذبے اورملی حمیت و غیرت کے ساتھ حصہ لیا کہ پاکستان کی سلامتی کو دائو پر لگانے سے گریز نہ کیا۔ افغان جہادی لیڈر ہمارے محبوب ٹھہرے اور اُن کی کامیابیوں پر ہم جشن مناتے رہے۔ 1996ء میں افغانسان میں طالبان کا دور شروع ہوا تو ہم نے طالبان کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا اور اُن کی حکومت کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا تب بھی ہم نے طالبان کی کھلے عام یا چوری چھُپے حمایت اور سرپرستی کرنے سے دریغ نہ کیا۔ افغانستان میں آج جو طالبان کی حکومت کو سنبھالے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور پاکستان کے خلاف آئے روز زہر اُگلنے سے باز نہیں آتے وہ سب پاکستان میں پناہ لیے رہے ہیں۔ بلا شبہ افغانیوں کا یہ رویہ اُن کی احسان فراموشی اور قدر ناشناسی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزیدخبریں