مضبوط گورننس اور تعلیمی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں، صوبائی ڈھانچہ ناکافی ہوچکا ہے: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

07:48 PM, 25 Nov, 2025

کراچی: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی انتظامی اور حکومتی ساخت وقت کے ساتھ ساتھ عوامی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم ہمیشہ مارشل لا کے دوران تشکیل پایا، جبکہ جمہوری دور میں اس نظام کو مضبوط بنانے کی سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آئیں۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی 1951 کی مردم شماری کے 33.7 ملین سے بڑھ کر آج 243 ملین تک پہنچ چکی ہے، لیکن ملک اب بھی صرف چار صوبوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ بڑھتی آبادی کے ساتھ حکومتی یونٹس میں اضافہ ضروری ہوتا ہے۔ چین میں 31 اور امریکا میں آبادی کے تناسب سے 50 ایڈمنسٹریٹو یونٹس موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اب تک صرف پانچ کیپٹل سٹیز قائم کی ہیں، جبکہ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کا انتظامی ڈھانچہ مسلسل دباؤ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس اور بہتر گورننس ماڈل کے بغیر ملکی نظام میں بہتری ممکن نہیں۔

میاں عامر محمود نے واضح کیا کہ ان کا اور پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، اور آج کی گفتگو مکمل طور پر غیر سیاسی اور ملک کے بہتر مستقبل سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے بھی ڈسٹرکٹ گورنرز کے نظام کی تجویز پیش کی تھی تاکہ اختیارات کو مقامی سطح پر منتقل کر کے عوامی خدمات مؤثر طریقے سے فراہم کی جا سکیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل تعلیم سے جڑا ہوا ہے اور تعلیمی اداروں کا کردار نوجوانوں کو باشعور، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مزیدخبریں