پاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا، پالیسی صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

04:42 PM, 25 Nov, 2025

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی حملہ نہیں کیا اور ملک کی پالیسی صرف دہشت گردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل قانونی عمل کے تحت جاری ہے اور اس پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ جیسے ہی معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا، فوری اعلان کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا اور دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی، نہ کوئی “گڈ” یا “بیڈ” طالبان ہیں۔

انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی طرح فیصلے کرے اور نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح عمل نہ کرے۔ انہوں نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، کیونکہ دہشت گردی کے کئی واقعات میں انہی گاڑیوں کا استعمال ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ریاست کے طور پر ردعمل دیتا ہے اور “بلڈ اور بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ حملے بھی ہوں اور تجارت بھی، یہ ممکن نہیں۔”

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تحریک طالبان افغانستان اور ٹی ٹی پی میں کوئی فرق نہیں اور پاکستان حق پر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ سیاسی جماعتیں اور دیگر عناصر بیرون ممالک سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم چلا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر سے اب تک 4,910 انسداد دہشت گردی آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن میں روزانہ اوسطاً 232 آپریشن شامل ہیں، اور اس دوران 336 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

مزیدخبریں