اسلام آباد کچہری دھماکے کی کابل میں منصوبہ بندی بے نقاب، سہولت کار کا اعتراف

04:19 PM, 25 Nov, 2025

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ حملہ افغانستان میں تیار کیا گیا تھا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق، حملہ آور اپنے اصل ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوا، لیکن اس نے اسلام آباد کے ایک مضافاتی علاقے کو نشانہ بنایا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچا گیا۔

عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 48 گھنٹوں میں 4 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار دہشت گردوں میں ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی، اور شاہ منیر شامل ہیں۔ ساجد اللہ کو حملے کا مرکزی ملزم قرار دیا گیا، جس نے خودکش حملہ آور کو ہینڈل کیا تھا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق ساجد اللہ نے 2015 میں تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی پی) میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہاں تربیت حاصل کی تھی۔ 2023 میں وہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے کمانڈر داد اللہ سے ملا، اور دونوں کے درمیان حملے کی منصوبہ بندی ہوئی۔ ساجد اللہ نے افغانستان میں دہشت گردوں سے رابطے بڑھائے اور حملے کے لیے ضروری مواد حاصل کیا۔

ساجد اللہ نے اعتراف کیا کہ اس نے خودکش جیکٹ پشاور میں ایک قبرستان سے حاصل کی اور پھر اسلام آباد میں حملے کے لیے پہنچا۔ اس کے ساتھ دیگر دہشت گردوں نے بھی معاونت فراہم کی تھی۔

ساجد اللہ نے بتایا کہ میں کمانڈر ابوحمزہ کے پاس 2023میں افغانستان دوبارہ گیا، میری افغانستان میں کمانڈر تحریک طالبان داداللہ سے ملاقات ہوئی، ہم ایک رات گزار کر پاکستان واپس آئے، مجھے ایک دن تصاویر بھیجی گئیں اورکہا گیا قبرستان سے خودکش جیکٹ لے لو۔

دہشت گرد نے کہا کہ پشاور میں ایک قبرستان سے خودکش جیکٹ حاصل کی اوراڈے پر جاکر اسلام آباد پہنچا، مجھے پیغام آیا کہ دوتین روز میں آپ کے پاس قاری عثمان نامی بندہ افغانستان سے آئے گا، خودکش حملہ آور ایک دودن میرے پاس گھر میں رہا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بروقت کارروائی نے پاکستان کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا، اور اس حملے کے پیچھے ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک کا ہاتھ تھا، جو افغانستان میں سرگرم ہے۔ وزیر اطلاعات نے حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

مزیدخبریں