پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

12:08 PM, 25 Nov, 2025

پشاور:  پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے کی۔

سماعت کے دوران، وزیراعلیٰ کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹس میں الزام لگایا ہے کہ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ جلسہ حویلیاں میں تھے، جو این اے 18 کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اور ان کے اس خطاب سے الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی۔

وزیراعلیٰ کے وکیل نے جلسے کی تقریر کی تفصیل پڑھ کر عدالت کو بتایا کہ سہیل آفریدی نے صرف یہ کہا تھا کہ "جو کوئی بھی دھاندلی کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔"

جسٹس وقار احمد نے کہا کہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی، لہذا وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اس کارروائی میں حصہ لیں اور تھوڑا انتظار کریں۔

جسٹس ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی سخت قدم اٹھائے گا، تب ہم اس پر بات کریں گے، ورنہ آپ اپنے مسائل خود پیدا کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے وکیل نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف دو مختلف کارروائیاں چل رہی ہیں—ایک ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس کی طرف سے اور دوسری الیکشن کمیشن کی طرف سے۔ ان کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کو بائی پاس کر کے نوٹس جاری کیا، جو کہ ان کے مطابق غیر قانونی ہے۔

الیکشن کمیشن کے نمائندے نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا پورا اختیار ہے اور اس کا کام ہے کہ وہ انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے، اور ابھی تک ان کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

جسٹس سید ارشد علی نے الیکشن کمیشن کے نمائندے سے سوال کیا کہ کیا ابھی تک وزیراعلیٰ کو نااہل یا کام سے روکنے کا کوئی حکم دیا گیا ہے؟ انہوں نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے بھی استفسار کیا کہ آپ کے تحفظات کیا ہیں؟ وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیراعلیٰ کے خلاف فوجداری کارروائی بھی شروع کر سکتا ہے۔آخر میں، عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔

مزیدخبریں