اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار

10:52 AM, 25 Nov, 2025

نیویارک : اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے کے انسانی حقوق کے ماہرین نے حراست کے دوران تشدد، مشکوک اموات اور دیگر ناروا سلوک کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، بھارتی سکیورٹی فورسز اور حکام نے پہلگام واقعہ کے بعد بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ 2800 سے زائد افراد، جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں، غیر قانونی طور پر گرفتار کیے گئے۔

عالمی ادارے نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت یا بغیر کسی الزام کے، مسلمان خاندانوں کے گھروں کو تباہ کیا گیا، اور تشدد اور امتیازی سلوک کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا آزادانہ اور شفاف جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران تشدد، بدسلوکی، حراستی اموات اور لنچنگ کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین نے گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی کو اجتماعی سزا کے طور پر دیکھتے ہوئے اسے ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، موبائل انٹرنیٹ کی معطلی اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن میں صحافیوں کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں، کو بلاک کرنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کشمیری طلبہ کی نگرانی، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ گجرات اور آسام میں مسلمانوں کے گھروں، مساجد اور کاروبار کی مسماری اور جبری بے دخلیوں کو امتیازی اقدام قرار دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کو جبری طور پر واپس بھیجنے کے عمل کو روکے، قوانین میں اصلاحات کرے، شفاف تحقیقات کرائے، اور تمام من مانی حراستوں کا خاتمہ کرے۔

مزیدخبریں