سرمایہ کاری پالیسی پر نظر ثانی ناگزیر

09:19 AM, 25 Nov, 2025

موجودہ حالات میں جامع سرمایہ کاری اور کاروباری تحفظ پالیسی کا متعارف کرایا جانا ناگزیر ہے۔ عالمی اور ملکی معاشی حالات ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں مضبوط، واضح اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں کسی بھی ملک کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔ پاکستان کی معاشی صورتِ حال پچھلے چند برس سے مسلسل دباؤ کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ غیر ملکی کمپنیوں کا ملک سے انخلا ہے۔ متعدد بین الاقوامی کمپنیاں نہ صرف اپنے کاروبار محدود کر رہی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں مکمل طور پر سرمایہ نکال کر دوسرے خطوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔ یہ رجحان انتہائی تشویش ناک ہے کیونکہ یہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کا اعلان نہیں بلکہ ملکی معیشت کے اندر موجود بے یقینی اور عدم استحکام کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر جامع سرمایہ کاری اور کاروباری تحفظ پالیسی متعارف کرائے تاکہ بین الاقوامی کمپنیوں کے انخلا کے سلسلے کو روکا جا سکے اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی بحال کیا جا سکے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کسی ریڑھ کی ہڈی سے کم نہیں۔ جب عالمی کمپنیوں کا اعتماد کم ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست مقامی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑتے ہیں۔ بین الاقوامی کمپنیاں دنیا بھر میں معاشی رجحانات، ٹیکس استحکام، کاروباری ماحول اور حکومتی رویوں کو مدنظر رکھ کر اپنے فیصلے کرتی ہیں۔ اگر انہیں پاکستان میں غیر یقینی معاشی پالیسیوں، بھاری ٹیکسز، ریگولیٹری پیچیدگیوں اور منافع کی واپسی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ لازمی طور پر زیادہ سازگار ماحول والے ممالک کا رخ کریں گی۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام میں حالیہ برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس کمی ہونا ایک سنگین سوال کھڑا کرتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جائے۔ پاکستان میں بے شمار کمپنیاں اس وقت ریگولیٹری اداروں کے پیچیدہ قوانین، غیر ضروری دستاویزات، طویل منظوری کے عمل اور متضاد پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار سادگی چاہتے ہیں واضح قوانین، شفاف نظام اور ایسا ماحول جہاں ان کے جائز کاروباری معاملات بغیر تاخیر نمٹائے جا سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ریگولیٹری نظام کو سہل بنائے، متعلقہ اداروں کی تعداد کم کی جائے اور ’’ون ونڈو آپریشن‘‘ کے ذریعے تمام پرمٹس، رجسٹریشن اور منظوریوں کا عمل آسان بنایا جائے۔ جب تک سرمایہ کاروں کا وقت اور پیسہ غیر ضروری طریقہ کار میں ضائع ہوتا رہے گا، پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے پسندیدہ مقام نہیں سمجھا جائے گا۔بین الاقوامی کمپنیوں کے انخلا کی ایک اور بڑی وجہ ٹیکس پالیسیوں میں عدم استحکام اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔ بار بار بدلتی ہوئی ٹیکس شرح، اضافی لیویز، ریگولیٹری ڈیوٹیز اور کارپوریٹ ٹیکس کی بلند شرح نہ صرف غیر ملکی بلکہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتی ہیں۔ ایک جانب دنیا مسابقتی ٹیکس نظام کے ذریعے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان میں بھاری ٹیکس بوجھ کاروبار کو غیر منافع بخش بنا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم شرح اور کم تعداد پر مبنی ٹیکس نظام متعارف کرائے جو سادہ، قابلِ فہم اور مستحکم ہو۔ یہ رویہ سرمایہ کاروں کو بتائے گا کہ پاکستان طویل المدتی پالیسیوں پر یقین رکھتا ہے اور یہاں غیر یقینی صورتحال کم ہے۔منافع کی واپسی یعنی Profit repatriation بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس نے غیر ملکی کمپنیوں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار جب کسی ملک میں آتے ہیں تو وہ اس توقع کے ساتھ سرمایہ لگاتے ہیں کہ وہ اپنے سالانہ منافع کو قانونی طور پر اپنے ہیڈ آفس منتقل کر سکیں گے۔ لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں زرمبادلہ کے مسائل، سٹیٹ بینک کی پابندیوں اور سرکاری رکاوٹوں کے باعث کمپنیوں کو منافع کی واپسی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کمپنیوں کے لیے مشکلات بڑھیں بلکہ نئی سرمایہ کاری آنے میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی۔ حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے اور منافع کی واپسی کو آسان بنانے کے لیے واضح اور شفاف نظام تشکیل دینا ہو گا۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو غیر ملکی کمپنیوں کو محض صارفین کا بڑا بازار دکھا کر راغب نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں یہاں طویل المدتی سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایسے صنعتی زون اور اقتصادی راہداری منصوبے تیار کرے جہاں غیر ملکی کمپنیاں نہ صرف فیکٹریاں لگائیں بلکہ مقامی شعبے کے ساتھ شراکت داری بھی کر سکیں۔ جوائنٹ وینچر ماڈل دنیا بھر میں کامیاب رہا ہے اور پاکستان میں بھی یہ ماڈل مقامی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی معیار اور بہتر تربیت کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے حکومت کو نجی شعبے کی صلاحیت بڑھانے، آسان قرضوں کی فراہمی اور تکنیکی تربیت کے پروگرام شروع کرنا ہوں گے تاکہ مقامی کمپنیاں عالمی معیار کے مطابق شراکت داری کر سکیں۔یوٹیلٹی بلز کے بڑھتے ہوئے نرخ بھی کاروباری لاگت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ صنعتوں کے لیے بجلی، گیس اور دیگر سہولیات کی مناسب قیمتیں انتہائی ضروری ہیں۔ جب کاروبار پر لاگت بڑھتی ہے تو سرمایہ کاری کی کشش میں کمی آتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتوں کے لیے خصوصی ٹیرف پیکیج متعارف کرائے، لائن لاسز کو کم کرے اور متبادل توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھائے تاکہ طویل المدتی طور پر سستی بجلی اور سہولیات دستیاب ہو سکیں۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی ملک سے غیر ملکی کمپنیوں کا انخلا صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ عالمی ساکھ کے لیے بھی خطرناک ہوتا ہے۔ دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے، اور سرمایہ وہیں جاتا ہے جہاں اعتماد، استحکام، آسانی اور منافع کی گنجائش ہو۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کا تشخص بہتر ہو اور معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو تو اسے بروقت، ٹھوس اور سرمایہ کاری دوست اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ سرمایہ کاروں کے قانونی معاملات فوری حل کرے، پالیسیوں کو مستقل مزاجی دے اور ایسا ماحول پیدا کرے جس میں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔جامع سرمایہ کاری اور کاروباری تحفظ پالیسی کا متعارف کرایا جانا اب ایک آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا انحصار اسی بات پر ہے کہ وہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کتنی جلدی حاصل کرتا ہے اور انہیں ترقی، استحکام اور منافع کا محفوظ راستہ فراہم کرتا ہے۔ اگر آج بروقت اصلاحات کر لی جائیں تو پاکستان نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے رجحان کو روک سکتا ہے بلکہ آنے والے برسوں میں اسے نئے عروج تک لے جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں