معرکہ معیشت جیتنے کیلئے ایس ایم تنویر کامعاشی ماڈل

09:18 AM, 25 Nov, 2025

جماعت اسلامی کے لاہور اجتماع میں جہاں سیاسی، سماجی، ادبی شخصیات اور سفارتکاروں نے شرکت کی وہیں بزنس کمیونٹی کے قائدین کی شرکت نے بھی اجتماع کو تقویت بخشی۔پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے غیر متنازع لیڈر اور فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)میں برسر اقتدار یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر کے جرأت مندانہ خطاب نے جماعت اسلامی کے کارکنان کے دل جیت لئے۔ بلاشبہ انکا خطاب پاکستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کے دل کی آواز ہی نہیں بلکہ تمام تر کاروباری شعبے سے وابستہ افراد اور پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمان تھی جو یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں معاشی ٹائیگر بن جائے ۔ میں اپنے اس کالم کی ابتدا میں ہی ڈاکٹر حمیرا عنبرین کے ایک کالم کا حوالہ دیتا چلوں جس میں انکا یہی کہناتھا کہ ایس ایم تنویر نے اپنی تقریر میں وہ حقائق بیان کیے جن کا سامنا ہر پاکستانی روزانہ کرتا ہے اور کڑھتا رہتا ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے نہ تو قومی اور صوبائی سطح پر کوئی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ ایس ایم تنویر نے جماعت اسلامی کے اجتماع میں واضح طور پر کہا کہ ہم اپنی بہادر افواج کی جدو جہد کی بدولت فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں معرکہ حق تو جیت گئے ہیں لیکن اب ہمیں پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کیلئے معرکہ معیشت جیتنا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے کیونکہ قومی معیشت سست روی کا شکار ہے، شرح سود اور مہنگائی میں تضاد سے ملکی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہے، قرض کا بوجھ مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے لیکن حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں۔ ٹیکسز کے بوجھ نے نہ صرف ملک میں ہونے والی سرمایہ کاری کو کنویں میں دھکیل دیا ہے بلکہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ بیرون ممالک کے جارہے ہیں۔ملکی میں نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری تک گئی ہے اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین، وفاقی وزیر قیصراحمدشیخ نے کراچی میں معروف ایگزی فیشن سپیشلسٹ خورشید برلاس کی منعقد کردہ پراپرٹی ایکسپو میں تقریر کے دوران الزام لگایا ہے کہ نجکاری کے عمل میں مسلم لیگ(ن) کی حلیف جماعت پیپلز پارٹی رکاوٹ ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت نہیں چاہتی کہ نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ہو یہی وجہ ہے کے قومی خزانے سے بھاری رقم سٹیل ملز میں کام نہ کرنے والے ملازمین کو دی جارہی ہے۔ درحقیقت ناقص ملکی پالیسیوں کے سبب نوجوان نسل شدید بیروزگاری کا شکار ہوکر مایوسی میں مبتلا ہے اور ہرماہ 50 سے 70 ہزار قابل اور تربیت یافتہ نوجوان روزگار کمانے کیلئے ملک سے باہر جارہے ہیں جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، پیرا میڈیکل سٹاف بھی شامل ہیں۔ مایوسی کے اس ماحول میں جماعتِ اسلامی کے ’’نظام بدلو‘‘ اجتماع میں ملک کے ممتاز صنعتکار ایس ایم تنویر کی قومی جذبے سے بھرپورموثر ترین تقریر نوجوانوں کو ہمت دیتی دکھائی دی۔ایس ایم تنویر؛ یہ ایک قومی فکری دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عسکری لحاظ سے محفوظ ہے اور اب پاکستان کو دفاعی کامیابیوں پر فخر کرنے سے زیادہ مضبوط معاشی ملک بنانے کی جانب قوم بڑھاناہوں گے اور اس کیلئے قوم تو قربانیاں دیتی آئی ہے لیکن اب سیاستدانوں، بیوروکریسی کو بھی قربانیاں دینا ہونگی اور معاشی خودانحصاری کے سفر پر نکلنا ہوگا۔ایس ایم تنویر کی تقریب میں نئے صوبوں کی بھی بات کی گئی جو اب وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان اس وقت 45 کھرب روپے کے اندرونی اور 132 ارب ڈالر سے بھی زائد کی بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ۔ان حالات میں آئی آیم آیف کی پاکستان میں ہونے والی کرپشن کی رپورٹ نے تہلکہ سا مچا دیا۔اگر حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی اس رپورٹ کو سنجیدہ نہ لیا تو کرپشن جو اس وقت کینسر کو روپ دھار چکی ہے وہ وینٹی لیٹر پر جاکر پاکستان کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ایس ایم تنویر نے معیشت کی بحالی کے لیے ایک ایسا متبادل ماڈل پیش کیا جو نہ صرف پالیسی سطح پر قابلِ غور ہے بلکہ فوری توجہ کا متقاضی بھی ہے۔ ان کا ''ڈسٹرکٹ اکانومی'' ماڈل اس تصور پر مبنی ہے کہ پاکستان میں موجود 33 ڈویژنز کو انتظامی خودمختاری دے کر انہیں اقتصادی یونٹس میں تبدیل کیا جائے، جو مقامی صنعت، تعلیم، صحت، پیداوار اور برآمدات کے نظام کو خود چلائیں۔ یہ تصور صرف انتظامی تقسیم نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی قومی ترقیاتی حکمت عملی ہے۔ایس ایم تنویر کے ڈسٹرکٹ اکنامی کو بزنس کمیونٹی بھرپور سپورٹ کررہی ہے اور انکا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ اکانومی کا منصوبہ معیشت کی بحالی اور تیز رفتار ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو اپنائے اور اختیارات کو مقامی سطح پر منتقل کرے ۔ پاکستان بھر کی کاروباری برادری کی نمائندہ تنظیم ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بھی معاشی بحالی،پائیدار ترقی اور ثمرات کی نیچے تک منتقلی کیلے نئے صوبوں کی تجویز کی بھرپور حمایت کی ہے اور انکا کہناہے کہ پاکستان کی ترقی،خوشحالی کیلے ڈسٹرکٹ اکانومی کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،پاکستان کی معیشت کی مکمل بحالی کیلے بزنس کمیونٹی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا،بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت دیگر اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں، انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری پاکستان کیلے ناگزیر ہے،نجکاری کے عمل کو ہر صورت مکمل کیا جانا چاہیے۔انکا بھی یہی کہنا تھا کہ فیڈریشن 2030 تک ملکی برآمدات کو 100بلین ڈالر تک لے جانے کے مشن پر گامزن ہے، برآمدات میں اضافے کیلے مقامی معیشت کو پائوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کی اتنی بڑی آبادی کو موجودہ انتظامی تقسیم کے ساتھ بہتر طریقے سے چلانا نا ممکن ہے۔یہ بات بالکل درست ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر معیشت نہیں چلائی جا سکتی۔ معاشی فیصلے ضلعی سطح پر ہونے چاہئیں تاکہ مقامی قیادت اپنے علاقوں کے مطابق ترقیاتی منصوبے بنا سکے، مرکز اور ضلعی معیشتوں کے درمیان بڑھتا ہوا خلا معاشی جمود کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔ اگر ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے قائم کیے جائیں تو برآمدات100سے150 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں ، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں میں بنیادی اصلاحات کی جائیں اور کاروباری برادری کے نمائندوں کو ان اصلاحات کیلئے آن بورڈ لیا جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا ہر ضلع دنیا میں منفرد مقام حاصل کر سکتا ہے اگر اسے آزادی، سرمایہ اور منصوبہ بندی دی جائے، چنیوٹ کا اعلیٰ فرنیچر، سیالکوٹ کے عالمی معیار کے سرجیکل آلات و کھیلوں کا سامان، سوات کے قیمتی پتھر، سرگودھا کے خوش ذائقہ کینو، اور گوجرانوالہ کی بھاری صنعتیں قیمتی سرمایہ ہیں، پاکستان کی اصل دولت مرکز میں نہیں بلکہ اضلاع میں پوشیدہ ہے اور ملک کے تمام ہی اضلاع میں تیار ہونے والی مصنوعات ویلیو ایڈڈ کے ذریعہ دنیا بھر میں نمایاں جگہ حاصل کرسکتی ہیں۔ایس ایم تنویر کا پیغام واضح تھا کہ ترقی صرف مرکزی حکومت سے ممکن نہیں، بلکہ ضلعی سطح پر اقتصادی خودکفالت سے آ سکتی ہے، اس سے نہ صرف کرپشن کا دائرہ محدود ہوگا بلکہ ترقی کے ثمرات ہر پاکستانی تک پہنچیں گے،اگر ہر ضلع اپنی برآمدات، روزگار، تعلیم، اور صنعت کی منصوبہ بندی خود کرے تو پاکستان کو کسی قرض کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ ہم اپنی قوت سے 100 ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس بات سے کون متفق نہیں کہ جب تک سیاست میں دیانت، شفافیت اور میرٹ کے اصول نہیں اپنائے جائیں گے، معیشت بھی بحال نہیں ہو سکتی، اسی لیے ایس ایم تنزیرنے ’’ معرکہ معیشت‘‘ کو صرف اقتصادی جنگ نہیں بلکہ ایک نظریاتی و اخلاقی جدوجہد قرار دیا۔پاکستان کا نوجوان آج ملک میں رہ کر اپنے مستقبل کیلئے فکرمند اور خوفزدہ ہے، جب تک یہ نوجوان روزگار، ہنر اور مقصد سے خالی رہیں گے، ملک کی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا،افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارا نوجوان چاہے ڈاکٹر ہو یا انجینئر یا پھر کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو وہ صرف بیرون ملک جانے کے لئے پرتول رہا ہے کیونکہ انہیں ملک میں رہتے ہوئے اپنا مضبوط مستقبل دکھائی نہیں دے رہا اسی لئے ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں افراد بہتر مستقبل کیلئے دوسرے ممالک سدھار رہے ہیں لیکن اگر پاکستان میں ہی نوجوانوں کومیرٹ پر ملازمتیں ملیں تو جیسے ان کے بزرگوں نے طوفان سے کشتی نکالی تھی ویسے ہی ہماری نوجوان نسل بھی ملک کو ترقی کے ساحل سے آگے لے جاسکتی ہے۔ لیکن اس کیلئے ہمارے حکمرانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ مرکزیت، کرپشن، نااہلی اور ناانصافی کے اسی نظام کے ساتھ جینے کے بجائے آئی ایم ایف کی کرپشن کی کہانی کو سچ مان کر ملک سے گند کو صاف کریں اور ایک ایسا نیا نظام بنایا جائے جہاں ہر فرد کو عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا حق ملے؟۔

مزیدخبریں