فارس کا سلمانؓ اور مدینہ

09:17 AM, 25 Nov, 2025

ہم نے ایسی اجلی اور نور میں دھل چکی صبح ہمارے مقدر میں ودیعت کرنے والے مشرق و مغرب کے خالق کا شکر ادا کیا اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے ہوٹل کی فور سٹار ایستادگی کے باوجود پست دکھائی دیتی کثیرالمنزلہ عمارت سے نکل کر سڑک پر آ گئے۔ گاڑی کے ڈرائیور نے اپنا رخ مدینہ کے مضافات کی جانب موڑ دیا۔ ہم نے اس عاشق کے گاؤں جانا تھا جنہیں محبوب رب ذوالجلال محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا سلمان تم میری اہلبیت میں سے ہو۔ جن کے مشورے سے جنگ خندق جیتی گئی اور دیکھتے دیکھتے وہ غلام سے شاہ ہوتے گئے۔ نبی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا سے رحلت کے بعد انہیں شہر بدر کیا گیا مگر پھر جب دن پھرے تو گورنر بنا دئیے گئے۔ ہمارے گمان میں بھی نہ تھا کہ وقت ہم پر یوں مہربان ہو چکا ہے کہ جن زمینوں پر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش کف پا ثبت ہیں، جہاں سرکارؐ رک رک کر چلتے تھے اور چلتے چلتے رک کر کنویں کے پانیوں کو لمس عطا کر کے امر کر جاتے تھے، ہم انہی راہوں پر محو سفر ہیں۔ عشق کے اپنے ہی زمان و مکاں ہوتے ہیں اور ہم اس وقت پہلی ہجری میں کھڑے تھے۔ سامنے مسجد قبا تھی جسے رسول برحقؐ نے پہلی مسجد ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ جہاں پر دو رکعت نفل کی ادائیگی کو مقبول عمرہ کے برابر ہونے کی ضمانت خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی اور یہ ضمانت ان ساتھیوں کے مرجھائے ہوئے چہروں کو دیکھ کر دی تھی جو قربت رسولؐ کے باوجود مکہ سے دوری اور عمرہ کی ادائیگی سے محرومی کے دکھ میں مبتلا تھے اور ثواب کو عددی گنتی میں شمار کرتے تھے تو انہیں آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دکھ سے نکالنے کے لئے اپنی ضمانت دی تھی کہ مسجد قبا کے مقام پر نوافل کی ادائیگی بھی مقبول ہو چکے عمرے کے برابر ہے۔ مدینہ میں شائد یہ واحد جگہ تھی جہاں پر کوئی حدیث درج تھی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں پہلی بار سلمان فارسی اپنے محبوب کے روبرو پیش ہوئے تھے۔ یہ سرزمین عرش معلیٰ کا درجہ اس دن ہی دھار گئی تھی جب ہجرت کے وقت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلا پڑاؤ یہاں کیا تھا۔ یہاں پر سیکڑوں لوگ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہنے کے لئے آئے تھے۔ کچھ تجسس میں اور کچھ یہودی کہانیاں بنانے کے لئے آئے تھے۔ یہودیوں سے آخری نبی کا اعزاز چھیننے والے آل اسماعیل کے فرزند محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کب عزیز ہو سکتے تھے مگر پھر اپنے اپنے مذہبی پیشواؤں سے سنی گئی کہانیوں کو مجسم کر دینے والے نبی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے بہت سے لوگ آئے تھے مگر قرب و جوار سے آئے تھے۔ دور دراز سے صرف 
سلمان فارسیؓ آئے تھے اور ان کی شکل و صورت دوسرے لوگوں سے مختلف تھی کیونکہ وہ عربی تھے اور نہ ہی یہودی۔ سلمان فارسیؓ اصفہان کے قریبی گاؤں جے میں آتش پرست قبیلے میں پیدا ہوئے تھے اور تجسس انہیں بے سکون رکھتا تھا۔ آتش پرستی سے غیر مطمئن سلمانؓ نے عیسائیت قبول کر لی اور بشپ کے پاس رہنے لگے۔ اصفہان سے عراق چلے گئے جہاں انہیں راہبوں کی قربت میسر رہی اور یہی وہ چاہتے بھی تھے کہ صاحب علم و حلم لوگوں میں رہیں۔ جب عیسائی بشپ نے انہیں وصیت کی کہ وہ موصل کے راہب کے پاس چلا جائے۔ ایک راہب نے سلمانؓ کو بتایا کہ یہی وہ زمانہ ہے جب ایک نبی آئے گا جس کا ظہور دین ابراہیم پر ہو گا۔ راہب نے بتایا کہ وہ تحفہ وصول کر لیں گے مگر صدقہ نہیں، مہر نبوت بھی ثبت ہو گی۔ ایک دن سلمانؓ ایک درخت پر چڑھے کام کر رہے تھے کہ ایک یہودی شہر سے بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا خدا بنو قیلہ کو غارت کرے، سب کے سب قبا میں ایک شخص کے پاس جا رہے ہیں جو مکہ سے آیا ہے اور خود کو نبی کہتا ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت سلمانؓ بد حواس ہو کر درخت سے اتر آئے اور اس شخص سے کہنے لگے کہ کیا کہا تم نے؟ ذرا پھر سے تو کہنا۔ ان کا آقا بہت غصہ ہوا اور ان کو ایک تھپڑ مار کر کہا کہ تم جا کر اپنا کام کرو۔ حضرت سلمانؓ اس وقت تو خاموش ہو گئے لیکن ایک دن آپ کچھ کھانے کی چیزیں لے کر پیارے نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ چیزیں صدقہ کے طور پر پیارے نبیﷺ کو پیش کر دیں۔ پیارے نبیﷺ نے وہ چیزیں اپنے صحابہؓ میں تقسیم کر دیں لیکن خود کچھ نہ لیا۔ اگلے دن دوبارہ کچھ چیزیں لے حاضر ہو گئے اور اب انہوں کھانے پینے کی چیزیں بطور ہدیہ پیارے نبیؐ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ پیارے نبی ؓ نے خود بھی وہ چیزیں کھائیں اور صحابہؓ میں بھی تقسیم کر دیں۔ حضرت سلمانؓ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کیوں کہ آخری نبیؐ کی بتائی دو نشانیاں تو پوری ہو گئی تھیں اب آخری نشانی یعنی مہر نبوت کو دیکھنا رہ گیا تھا۔ چند دنوں بعد آپؓ کو پتا چلا کہ نبی اکرمﷺ ایک جنازے کے ساتھ بقیع تشریف لے گئے ہیں۔ حضرت سلمانؓ بھی وہاں پہنچ گئے اور پیارے نبیﷺ کو سلام کر کے آپؓ کے پیچھے کھڑے ہوئے کہ موقع ملے تو مہر نبوت کا مشاہدہ کر لوں۔ پیارے نبی ؓ نے آپؓ کی کیفیت کو بھانپ لیا اور اپنی پشت سے کپڑا سرکا دیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے کانپتے ہونٹوں سے مہر نبوت کو بوسہ دیا اور کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ حضرت سلمان فارسیؓ ایمان قبول کرنے کے بعد نبی اکرم ؓ کی خدمت میں حاضر رہنے لگے۔ پیارے نبیؐ نے آپؓ کو یہودی کی غلامی سے نجات دلائی۔ اس کے بعد تو آپؓ سفر و حضر میں پیارے نبیﷺ کے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ آپؓ بہت جلیل القدر صحابی تھے۔ آپؓ کے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے غزوہ احزاب یعنی جنگ خندق میں آپؓ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے خندق کھودی اور دفاعی جنگ لڑی۔ جنگ خندق کے موقع پر جب خندق کھودی جا رہی تھی، مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین میں بحث چھِڑ گئی کہ سلمانؓ کون ہیں۔ مہاجرین کہتے تھے کہ سلمانؓ ہم میں سے ہیں جب کہ انصار کا کہنا تھا کہ سلمانؓ ہم میں سے ہیں۔ اسی دوران پیارے نبی ؓ تشریف لے آئے۔ آپؐ کو جب ساری بات کا علم ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ سلمانؓ میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ آپؓ ہر وقت عشق نبیؐ میں غرق رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں جہاد کا بھی بہت شوق تھا۔ ان کے عشق رسول اور شوق جہاد دیکھ کر پیارے نبیؐ نے ارشاد فرمایا کہ جنت تین آدمیوں کا اشتیاق رکھتی ہے۔ علیؓ، عمارؓ اور سلمانؓ کا۔ ایک موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ سلمانؓ علم سے لبریز ہے۔ آپؓ بہت قناعت پسند، درویش صفت انسان تھے۔ دنیا داری سے دور بھاگتے تھے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے ان کو مدائن کا گورنر مقرر کیا۔ اس کو جو تنخواہ ملتی وہ غریبوں، مسکینوں میں تقسیم کر دیتے اور خود چٹائی بُن کر کماتے، اس کا بھی ایک تہائی خیرات کر دیتے۔ سفر ہمیشہ بغیر زین کے گدھے پر سوا ہو کر کرتے۔ ایک دفعہ اسی طرح آپؓ گدھے پر بغیر زین کے سفر کر رہے تھے اور پیوند لگا کرتا پہنا ہوا تھا۔ ایک شخص نے ان سے پوچھ لیا کہ اے امیر! یہ آپؓ نے کیا حالت بنائی ہوئی ہے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ بھائی آرام و راحت تو صرف آخرت کے لیے ہے۔ آپؓ نے کبھی گھر نہیں بنایا، ہمیشہ کسی بھی درخت یا دیوار کے سائے میں رات گزار دیتے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ میں آپؓ کو گھر بنا دیتا ہوں، لیکن آپؓ نے انکار کر دیا۔ جب آپؓ نے مسلسل انکار کیا تو اس شخص نے کہا کہ اچھا میں آپؓ کی خواہش کے مطابق مکان بنا دیتا ہوں کہ آپؓ کا سر اس کی چھت سے جا لگے اور اگر لیٹیں تو پائوں دیوار سے جا ٹکرائیں۔ اس کے بعد آپؓ نے ہامی بھر لی اور اس شخص نے ان کو ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنا دی۔ جب آپؓ کا آخری وقت آیا تو آپؓ کا کل اثاثہ ایک بوسیدہ کمبل، ایک بڑا پیالہ، ایک لوٹا اور تسلہ تھا لیکن زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ انتقال سے پہلے حضرت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ آپؓ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ حضرت سلمانؓ زارو قطار رو رہے ہیں۔ سبب پوچھنے پر فرمایا کہ سرورِ کائناتؐ نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ دولتِ دنیا جمع نہ کرنا اور میرے پاس اس دنیا کا اس قدر سامان جمع ہو گیا ہے، ڈرتا ہوں کہ کہیں اس اسبابِ دنیا کی وجہ سے آخرت میں آقاؐ کے دیدار سے محروم نہ رہ جائوں۔ آپؓ کا انتقال مدائن میں ہوا۔

مزیدخبریں