پاکستان کی معیشت گزشتہ تین دہائیوں میں کئی طوفانوں سے گزری ہے، مگر شاید سب سے خطرناک طوفان وہ ہے جو نظر نہیں آتا بدعنوانی، کرپشن اور گورننس کی دائمی کمزوریاں۔ یہ وہ آتش دان ہے جس میں عوام کے اعتماد، ریاستی اداروں کی ساکھ اور قومی معیشت کی بنیادیں مسلسل جلتی رہی ہیں۔ اب یہ حقیقت بین الاقوامی اداروں کے تجزیات کے ذریعے واضح ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں چیئرمین ایف بی آر نے بڑے اعتماد سے کہا کہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے ایک بھی تعیناتی سفارش پر کی ہو۔ اگلے ہی روز وزیر اعلیٰ پنجاب نے اسی لہجے میں اعلان کیا کہ اگر میں نے کبھی سفارش کی ہو تو استعفیٰ دے دوں گی۔ یہ دونوں بیانات بظاہر شفافیت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کے مفہوم میں ایک حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے: نظام ایسا ہے کہ سفارش، اثرو رسوخ اور سیاسی دباؤ محض اعلیٰ سطح کی بات نہیں، بلکہ یہ پورے ادارے میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ وزیر اعلیٰ اور چیئرمین ایف بی آر سفارش نہیں کرتے، لیکن پاکستان کی بیوروکریسی، پولیس اور ایف بی آر کے اندر ایک خاموش، خودکار اور کئی دہائیوں سے قائم شدہ اثرو رسوخ کا نظام موجود ہے، جو ماتحت افسران کے ذریعے چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارش اور سیاسی مداخلت کا تاثر عوام کی نظروں میں مسلسل موجود رہتا ہے۔ آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ اس حقیقت کو اور واضح کرتی ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کیلئے محض معاشی لائحہ عمل نہیں بلکہ ایک چارج شیٹ ہے، جس میں ملک کے تمام نظامی نقائص واضح طور پر دکھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کے سامنے نوے سے زائد اصلاحاتی تجاویز رکھی گئی ہیں، جو صرف معاشی اصلاحات نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کی جڑوں کو ٹھیک کرنے سے متعلق ہیں۔ سب سے اہم تجاویز میں اعلیٰ سرکاری افسروں کے اثاثہ جات کی مکمل شفافیت شامل ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیئرمین ایف بی آر واقعی سفارش سے پاک نظام کے داعی ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اپنی ذاتی، مالی اور انتظامی
شفافیت کے دروازے کھول دینے چاہئیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اصل مزاحمت اندرونی نظام سے آتی ہے وہ نظام جو دہائیوں سے کرپشن، غیر شفاف تقرری اور سیاسی مداخلت کی حفاظت کرتا رہا ہے۔ عدلیہ کی کارکردگی پر تنقید نئی نہیں، مگر IMF نے اس رپورٹ میں عدالتی تاخیر کو معیشت کے زوال سے جوڑا ہے۔ مقدمات کی طوالت نہ صرف انصاف کو متاثر کرتی ہے بلکہ کاروبار، سرمایہ کاری اور ریاستی اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔ کوئی سرمایہ کار ایسے ملک میں کیوں آئے گا جہاں کاروباری تنازعات برسوں عدالتوں میں لٹکے رہیں؟ یہاں واضح ہوتا ہے کہ قانون کی حکمرانی کا فقدان نہ صرف انصاف کا مسئلہ ہے بلکہ معاشی ترقی اور معاشرتی اعتماد کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ جب عدالتی فیصلے وقت پر نہ ہوں، قوانین کا اطلاق غیر یکساں اور طاقتور طبقات قانون کی گرفت سے بچیں، تو اس سے نہ صرف سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام میں ریاست پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ IMF نے تجویز کیا ہے کہ عدالتی اصلاحات، سول پروسیجر کوڈ میں تبدیلیاں اور تنازعات کے متبادل حل کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ یہ اصلاحات محض قانونی نہیں بلکہ معاشی بقا کا مسئلہ بھی ہیں۔ ٹیکس نظام کی سادگی اور شفافیت بھی آئی ایم ایف کی ایک اور سفارش ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نظام اتنا پیچیدہ اور سیاسی اثرات کا شکار ہے کہ عوام کے بجائے صرف محدود طبقہ ہی اس کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ خصوصی ٹیکس چھوٹ، طاقتور گروہوں کے لیے نرم قوانین اور ایف بی آر کی ساختی کمزوریاں پورے نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے دعوے کے باوجود، عوام میں ایف بی آر پر اعتماد انتہائی کمزور ہے۔ یہاں آتی ہے پنجاب پولیس کی کہانی، جو گزشتہ پانچ سال سے عوام کی نظر میں سب سے بدعنوان ادارہ بنی ہوئی ہے۔ رشوت، زبردستی، سیاسی مداخلت اور اختیارات کے بے جا استعمال نے اس محکمہ کا وقار عوام کی نظروں میں بری طرح گرایا ہے۔ آج بھی عام شہری کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تھانے جائے یا نہ جائے، مقدمہ درج کرائے یا خود نقصان برداشت کرے؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق، پنجاب پولیس کے خلاف عوامی شکایات اور بدعنوانی کے تاثر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ عوام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اندراج سے لے کر تفتیش تک، ہر موڑ پر رشوت دینا ایک لازم و ملزوم رسم ہے۔ پنجاب پولیس میں بدعنوانی کا اصل عذاب صرف رشوت کا نہیں بلکہ غریب دشمنی کا ہے۔ طاقتور کا ہاتھ پکڑنے میں لرزتے افسران عام شہری پر پورا قانون گرا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس کا کردار محافظ کم اور سرکاری مصیبت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ جب تک یہ محکمہ مکمل نیشنل سروس ماڈل پر نہ آئے سیاسی اثر و رسوخ سے پاک، جدید تربیت یافتہ اور ٹیکنالوجی سے لیس یہ تصور کہ پولیس عوام کی دوست ہے، محض نعرہ ہی رہے گا۔ ایف بی آر کی صورتحال بھی اس سے کم پریشان کن نہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف ملک کے خزانے کا مرکز ہے بلکہ اندرونی لیکیج، سفارش اور اثرو رسوخ کی وجہ سے پورے معاشی نظام کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ بڑے تاجر، درآمد کنندگان اور سمگلنگ نیٹ ورکس اسی چھتری تلے پروان چڑھتے ہیں۔ ٹیکس نظام سخت نہیں بلکہ اکثر طاقتور طبقات کیلئے نرم ہے۔ جسے دبانا ہو، اسے نوٹس مل جاتا ہے؛ جسے بچانا ہو، اس کی فائل غائب ہو جاتی ہے۔ پولیس اور ایف بی آر دونوں میں کرپشن کی جڑیں ایک جیسی ہیں: غیر شفافیت، کمزور احتساب، سیاسی مداخلت اور سزا کا فقدان۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اصلاحات کی بات ہر حکومت کرتی ہے مگر عملی قدم کوئی حکومت نہیں اٹھاتی۔ وجہ سادہ ہے: جو ادارے سیاستدانوں کے لیے سہولت کار ہوں، ان کی اصلاح سے سیاسی طاقت کم ہو جاتی ہے۔ یہاں سب سے بڑی رکاوٹ قانون کی عدم حکمرانی ہے۔ جب قانون کی بالادستی نہیں، قوانین کا اطلاق غیر یکساں ہو اور طاقتور طبقات سزا سے بچ جائیں، تو ادارے خودکار طور پر بدعنوانی کا مرکز بن جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ان سفارشات پر عمل کر پائے گا؟ یہ رپورٹس وارننگ بھی ہیں اور موقع بھی، پاکستان چاہے تو یہی لمحہ تاریخ بدل سکتا ہے ورنہ ایک اور موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔
سفارش نہیں کی، مگر حقائق!!!
09:16 AM, 25 Nov, 2025