مسلم لیگ ن نے حالیہ ضمنی الیکشن میں کلین سویپ کیا ہے۔ ہر اعتبار سے اس الیکشن کو شفاف قرار دیا جارہا ہے۔ ان انتخابات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سیاسی بیانیے جنتے مرضی بنا لئے جائیں عوام کی آواز ہی سب سے اوپر ہے۔ حقائق ہمیشہ سامنے آہی جاتے ہیں البتہ پراپیگنڈا کرنے والے اور افواہ ساز فیکٹریاں ہمیشہ فعال ہی رہتی ہیں۔ اس الیکشن کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو بہت سے تنازعات، الزامات اور بیانیے انتخابات سے قبل اور بعد میں گردش کرتے رہے مگرانتخابی عمل ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ عمومی طور پر کم ہوتا ہے، یہ غیر معمولی بات ہے اور نہ ہی اس کی آڑ میں کسی کسی جماعت کے پراپیگنڈے کو درست مانا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ 10 سے 25 فیصد کے درمیان ٹرن آؤٹ رہا ہے، اس کے باوجود انتخابی نتائج سیاسی جماعتوں کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اس بار بھی یہی ہوا۔ تحریکِ انصاف نے پنجاب میں انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا، مگر اس کے باوجود ٹرن آؤٹ اسی دائرے میں رہا جس میں ہمیشہ رہتا ہے۔ اس سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہو جاتا ہے کہ بائیکاٹ سے عوامی شرکت میں کوئی غیر معمولی کمی آئی یا انتخابی نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا، نظام کی ناکامی نہیں۔پورے انتخابی عمل کے دوران کسی حلقے سے بدامنی، ہنگامہ یا خوف پھیلانے والی کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔ پولنگ سٹیشنز پر نگرانی اور انتظامات معمول کے مطابق رہے۔ انتخابی عملہ، سکیورٹی ادارے اور مقامی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی نظر آئیں۔ یہ عمل اس تاثر کے خلاف جاتا ہے جو بعض سیاسی حلقے پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انتخابی فضا خوف زدہ یا دباؤ کا شکار ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا، بلکہ انتخابات پرامن رہے اور اس سے یہ تقویت ملتی ہے کہ نظام چل رہا ہے اور بہتر نتائج کی طرف بڑھ رہا ہے۔تحریکِ انصاف کی اندرونی کیفیت بھی ان انتخابات میں بے نقاب ہوتی دکھائی دی۔ پارٹی نے بعض امیدوار ایسے کھڑے کیے جنہیں خود اس کے کارکنان نے تسلیم نہیں کیا۔ مثال کے طور پر حماد اظہر کے کزن اور عمر ایوب کی اہلیہ جیسے امیدواروں کو کارکنوں نے دل سے قبول نہیں کیا۔ پی ٹی آئی ہمیشہ خاندانی سیاست کے خلاف کھڑی ہونے کا دعویٰ کرتی رہی، مگر اب اسی رویے کا مظاہرہ پارٹی کے اندرونی فیصلوں میں دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ تضاد کارکنوں کے لیے بھی سوالیہ نشان ہے اور عام ووٹر کے لیے بھی۔ کئی حلقوں میں یہ بات صاف سامنے آئی کہ ووٹر نے خاندان پر مبنی امیدواروں کو مسترد کیا۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پارٹی کے اندرونی دھڑے، گروپ بندی اور اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ دعویٰ کہ "نظام قابلِ اعتبار نہیں" محض سیاسی نعرہ معلوم ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی صرف وہی الیکشن قبول کرتی ہے جس میں اسے کامیابی ملے مگر حقیقت یہ ہے کہ سب ہی سیاسی جماعتیں اپنا اپنا ووٹ بینک رکھتی ہیں۔ تحریک انصاف کے اس رویے کو سنجیدہ سیاست نہیں کہا جا سکتا۔ اگر نظام واقعی غیر معتبر ہوتا، تو خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف انتخابات میں بھرپور حصہ نہ لیتی۔ ایک صوبے میں حصہ لینا اور دوسرے میں بائیکاٹ کرنا، پھر بائیکاٹ کے نتائج کو بنیاد بنا کر پورے نظام کو نشانہ بنانا یہ طرز عمل انتخابی شفافیت نہیں بلکہ سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ انتخابی نتائج سے اختلاف کسی بھی جماعت کا حق ہے، مگر پورے عمل کو یکطرفہ طور پر مشکوک ٹھہرانا دراصل جمہوری تسلسل کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتخابات پرامن ہوئے، نتائج شفاف تھے اور انتخابی نظام اپنی جگہ کام کرتا ہوا دکھائی دیا۔ الیکشن کمیشن نے نتائج کی فراہمی اور نگرانی کے عمل میں کسی بڑے خلل کا سامنا نہیں کیا۔ فارم 45 کا اجرا بھی معمول کے مطابق کیا گیا۔ یوں یہ بیانیہ کہ نظام "کنٹرولڈ" ہے، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سیاست میں ہار جیت معمول کا حصہ ہے۔ جو جماعت ہار سے سیاسی سبق لے، وہ اگلے مرحلے میں مزید بہتر ہو کر ابھرتی ہے۔ لیکن جو جماعت ہار کو سازش یا دھاندلی کا نام دے کر آگے بڑھنے سے انکار کر دے، وہ جمہوریت کے تسلسل کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس تناظر میں تحریک انصاف کا رویہ سب کے سامنے ہے۔ دوسری طرف ملک کی سکیورٹی صورتِ حال بھی بدل رہی ہے۔ افغانستان کے اندر موجود کچھ عناصر اب بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں متحرک ہیں۔ افغان طالبان ان عناصر کو جان بوجھ کر شہ دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے گزشتہ ہفتوں میں متعدد کارروائیاں کی ہیں جن کے نتائج بتدریج سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور مختلف تنظیموں کی کارروائیوں کو محدود کرنے میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ اب ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ ناکام بنا دیا گیا، جس میں تینوں دہشت گرد مارے گئے جب کہ ایف سی کے 3 اہلکار شہید ہو گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو بدستور خطرات درپیش ہیں ایسے حالات میں پی ٹی آئی کا وتیرہ ہی پراپیگنڈا کرنا ہے۔ ضمنی انتخابات نے ثابت کیا کہ جمہوری عمل اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے بائیکاٹ نے اس کی اپنی سیاسی سوچ پر سوالات کھڑے کیے، جبکہ دیگر جماعتوں نے انتخابی تنازعے کو بڑھنے نہیں دیا۔ موجودہ حالات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی شکست و ریخت کو جمہوری دائرے کے اندر رکھیں، تاکہ ملک کا سفر آگے بڑھ سکے۔
ضمنی الیکشن… جمہوری قوتوں کی فتح !
09:15 AM, 25 Nov, 2025