پاک بھارت تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ پاکستان کے خلاف مودی کی بے جا محاذ آرائی کی وجہ سے دو طرفہ تعلقات میں اتنا شدید تنائو پیدا ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان مئی میں جنگ ہوگئی جو پاکستان نے فیصلہ کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوتھے روز ہی جیت لی۔ پاکستان کی فتح کی تصدیق ٹرمپ, امریکی کانگریس اور فرانسیسی نیول کمانڈر کے اعتراف سے بھی ہوتی ہے۔ پاک بھارت تنائو کی اسی فضا میں 17 سے 21 نومبر کے دوران دبئی میں بین الاقوامی ایئر شو منعقد ہوا جس میں پاکستان اور بھارت کی فضائیہ نے بھی شرکت کی۔ اسی ایئر شو میں بھارتی ساختہ فائٹر جیٹ تیجاس کریش کر گیا اور پائلٹ کی ہلاکت ہو گئی۔ اس حادثے پر پاکستان سمیت مختلف ممالک نے بھارت کے ساتھ اپنے تعزیتی احساسات کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر پاکستانیوں نے بھی ردعمل کا اظہار کیا۔ ان پاکستانیوں کے خوشی سے بھر پور رد عمل آنے کے بعد یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آیا کہ کیا اس حادثے پر ان پاکستانیوں کا ردِعمل ایسا ہی ہونا چاہیے تھا جیسا انہوں نے ظاہر کیا؟ ان پاکستانیوں کے لئے یہ حادثہ خوشی، برتری یا جشن کا موقع تھا یا پھر اس سانحے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جانا چاہیے تھا؟۔
ایسے حادثے پر مہذب اشخاص کا ردِعمل کیسا ہوتا ہے؟ مہذب اور با شعور لوگ دشمن ممالک کی حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ انسانی جان کی قیمت کسی پرچم، سرحد یا قومیت سے زیادہ ہوتی ہے۔ جو اس قدر سے محروم ہو جائے وہ ہر شے سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ اصول پاکستانیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہماری اخلاقیات کا بنیادی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے حریف کے غم کو اپنے احساسات کے زیر اثر دیکھتے ہیں۔
ایئر شو کے دوران بھارتی جیٹ کریش اور پائلٹ کی ہلاکت پر پاکستانیوں کا فوری ردِعمل کیا ہونا چاہیے تھا؟ خوشی یا دکھ بھرا؟ کچھ لوگ پاک بھارت دشمنی کے احساسات سے مغلوب ہو کر اس سانحے پر خوشی کا اظہار کریں تو یہ اخلاقی پستی کا ہو گا۔ یہ واقعہ خوشی کا نہیں بلکہ افسوس کا تھا۔ بھارت اور پاکستان دونوں کے فوجی پائلٹ جان کی بازی لگا کر اپنی اپنی قوم کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اس حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت دشمن کی موت کی بجائے انسانی المیے کے طور پر دیکھی جانی چاہیے۔
دشمن کی بھی مشترک اخلاقی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت سیاسی، تاریخی اور عسکری حریف ضرور ہیں مگر دونوں انسانیت سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ دشمنی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسانیت ختم ہو جائے۔ حادثات پر مخالف ممالک ایک دوسرے سے تعزیت کرتے ہیں۔ ماضی میں امریکہ نے روسی پائلٹوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا، چین اور بھارت نے سرحدی کشیدگی کے باوجود ایک دوسرے کے حادثات پر دکھ کا اظہار کیا۔ میدان جنگ میں متحارب ممالک کے نقصانات اور ہلاکتیں جو تاثر قائم کرتے ہیں وہ حادثات میں پیدا ہونے والے احساسات سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں دشمنی کے باوجود حادثات پر انسانیت کا دامن نہیں چھوڑتیں تو پاکستانی اور بھارتی اس روایت کو کیوں نہیں اپنا سکتے؟۔
10 مئی کو پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان نے جس عسکری برتری کا مظاہرہ میدان جنگ میں کیا وہ قابل فخر ہے۔ اس پر بھارت جیسے دشمن کو جتنا رگیدا جائے کم ہے لیکن حادثات کے موقع پر نہیں۔ یہ رویہ غیر مہذب اور غیر انسانی ہوگا۔ ایئر شو کے دوران پیش آنے والا افسوسناک واقعہ بھارت کی بجائے کسی اور ملک کے ساتھ بھی رونما ہو سکتا تھا۔ اس حادثے پر مہذب انداز میں تعزیت کے بعد اس کے تکنیکی، نفسیاتی اور تربیتی پہلووں کا جائزہ لیکر ان کو زیر بحث لایا جا سکتا تھا۔ بھارتی پائلٹ کی موت ایک خاندان کا نقصان ہے۔ ہمارا دین اور ہماری ثقافت ہمیں سکھاتے ہیں کہ حادثات میں دشمنوں کے دکھ پر بھی افسوس کا اظہار کیا جائے۔ ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تو اخلاقیات, میدان جنگ کے اصول اور ضابطے ہمیشہ کے لئے وضع کر دیئے ہیں۔ ہمارے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاک بھارت جنگ انہی روشن نبوی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے لڑ کر جیتی۔
پاکستانیوں اور بھارتیوں میں سرایت کر جانے والی نفرت اور دشمنی کی مخصوص فضا میں پاکستانی سوشل میڈیا پر بھارتی پائلٹ کی بہادری اور قربانی کو نہ بھی سراہتے تو رسمی اظہار افسوس تو کر سکتے تھے۔ دشمنی کے باوجود حادثے پر انسانی بنیادوں پر دکھ محسوس کرتے, سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی سے گریز کرتے اور دنیا کو دکھاتے کہ پاکستانی قوم معقولیت اور انسانیت کو ترجیح دیتی ہے۔ لیکن اخلاقیات پر نفرت غالب آ گئی۔ انسانیت کبھی کمزوری نہیں ہوتی۔ دونوں ممالک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے اخلاقیات سے عاری کچھ لوگوں سے اعلیٰ انسانی رویوں کی تربیت اور ترویج کی توقع بھی تو عبث ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف موجود نفرت معقولیت اور دانش کو نگل چکی۔ دونوں جانب میڈیا پر بیٹھے سطحی علم اور شعور رکھنے والے اکثر پھکڑ بازوں نے حقیقی دانش کا گلا گھونٹ کر انسانیت اور تہذیب کو دریا برد کر دیا ہے۔
ہمدردی اور تعزیت دشمن کو مضبوط نہیں کرتی بلکہ خود ہمیں اخلاقی طور پر عظیم بناتی ہے۔ دشمن کی حادثاتی بدقسمتی پر خوش ہونا خود اپنے وقار کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اصل اخلاقی برتری یہ ہے کہ ہم دشمن کی حادثاتی ہلاکت پر بھی دکھ محسوس کرتے۔ یہ عالمگیر اخلاقی قدر کی جیت ہوتی۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے قوموں کے رویوں میں بہتری آتی ہے۔ ایر شو میں بھارتی پائلٹ کی موت ان پاکستانیوں کے لیے جشن کا نہیں، بلکہ انسانیت کے امتحان کا لمحہ تھی۔ ایسی گھڑیوں میں قومیں بتاتی ہیں کہ وہ کتنی مہذب، کتنی انسان دوست اور اخلاقی طور پر کتنی مضبوط ہیں۔ ان پاکستانیوں کو اس سانحے پر دکھ، احترام اور انسانی ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔ ہم میدان جنگ میں نمٹنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں دشمن کے ساتھ جو جو حساب چکانا ہے بم میدان جنگ میں چکا لیں گے۔ دشمنی اپنی جگہ، مگر دشمنی میں انسانیت اور معقولیت بلند تر ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کیسے جیتی
09:15 AM, 25 Nov, 2025