بہترین سفارت کاری وہ ہوتی ہے جو طاقت کے اظہار کے بجائے حکمت، تدبر، تحمل اور دور اندیشی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرے۔ ایک کامیاب سفارت کاری صرف اپنے قومی مفادات کے تحفظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور اعتماد سازی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ حقیقی سفارت کار وہ ہے جو جنگ کے شعلوں میں بھی امن کی راہ نکال لے، اختلافات کے سمندر میں مفاہمت کا پل تعمیر کر دے اور کشیدہ حالات میں بھی مذاکرات کے دروازے بند نہ ہونے دے۔ بہترین سفارت کاری کی بنیاد سچائی، اعتدال، باہمی احترام اور وقت کی نزاکت کو سمجھنے پر قائم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہی قومیں عزت و وقار حاصل کر سکیں جنہوں نے طاقت کے ساتھ ساتھ دانش و بصیرت کو بھی اپنا ہتھیار بنایا۔اسی تناظر میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا، فضا میں بارود کی بُو، عالمی طاقتوں کے بیانات میں سختی اور خطے کے عوام کے دلوں میں خوف کی لہر محسوس کی جا رہی تھی تو ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر پاکستان نے ایک ذمہ دار، باوقار اور دور اندیش ریاست کا کردار ادا کیا۔ اس کردار کے مرکز میں مردِمیدان فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی وہ فعال اور مو¿ثر سفارت کاری تھی جس نے نہ صرف پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ خطے کے امن کا ایک سنجیدہ اور بااثر فریق ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورہ ایران محض ایک رسمی یا پروٹوکول نوعیت کا دورہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی سفارتی پیش رفت تھی جس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں، مسلسل مشاورت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی عمل میں پاکستان کی عملی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ”امن اول“ کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ہونے والی ملاقاتیں دراصل اس خطے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کی کوشش تھیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے بندوق کی زبان کے بجائے مذاکرات کی زبان کو ترجیح دی۔ پاکستان نے آگ پر تیل نہیں ڈالا بلکہ مکالمے کا دروازہ کھولا۔ اس ضمن میں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایران امریکہ کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے حالات پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی تو نہ صرف خطہ جنگ کی لپیٹ میں آتا بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیاں، تجارتی راستے اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بھی شدید متاثر ہوتیں۔ ایسے میں پاکستان کی سفارتی مداخلت ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند محسوس ہوئی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان کہ ”کسی بھی وقت ایک مثبت پیش رفت سامنے آسکتی ہے”دراصل اسی سفارتی پیش رفت کا اشارہ تھا جس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم، سنجیدہ اور تعمیری رہا۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے نہایت خاموش مگر مو¿ثر انداز میں ثالثی کی فضا پیدا کی۔ یہی وہ سفارت کاری ہے جسے قدیم دانشور“خاموش قوت”کہا کرتے تھے۔ایک ایسی قوت جو توپ و تفنگ کے بغیر بھی دل اور ذہن جیت لیتی ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس سارے عمل میں جس حکمت، بردباری اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جدید دنیا میں عسکری قیادت صرف سرحدوں کی محافظ نہیں ہوتی بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی محاذ پر بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کی بروقت کاوشوں نے اس خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی اس پالیسی میں سب سے اہم پہلو توازن اور اعتدال ہے۔ پاکستان نے نہ کسی فریق کی اندھی حمایت کی اور نہ اشتعال انگیزی کو ہوا دی بلکہ ایک ذمہ دار مسلم ایٹمی ریاست کے طور پر مصالحت، مفاہمت اور امن کے اصولوں کو اپنایا۔ یہی وہ رویہ ہے جو قائداعظم محمد علی جناح کے اُس تصورِ پاکستان کی یاد دلاتا ہے جس میں پاکستان دنیا میں امن، استحکام اور انصاف کا داعی ہوگا۔یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایران کی قیادت نے سراہا۔ یہ اعتراف دراصل پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، اعتماد اور سفارتی وزن کا مظہر ہے۔ ایک وقت تھا جب بعض حلقے پاکستان کو عالمی سفارت کاری میں غیر م¶ثر قرار دیتے تھے مگر آج وہی دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ خطے میں کوئی بھی اہم پیش رفت پاکستان کو نظر انداز کرکے ممکن نہیں۔
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک نہیں بلکہ ایک فکری، سفارتی اور سٹریٹیجک قوت بھی ہے۔ آج جب دنیا تصادم، انتقام اور طاقت کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے تو پاکستان نے”مذاکرات برائے امن“ کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ سوچ ہے جو قوموں کو عظمت عطا کرتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔ یہ دورہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے ہر سطح پر متحرک ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ تاریخ میں بعض فیصلے لمحاتی ہوتے ہیں مگر ان کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایران کے حالیہ بحران میں پاکستان کی ثالثی بھی ایک ایسا ہی فیصلہ کن کردار ہے۔ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو اس میں پاکستان کی امن سفارت کاری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کا ذکر سنہری حروف میں کیا جائے گا۔ آج پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اصل طاقت جنگ مسلط کرنے میں نہیں بلکہ جنگ روکنے میں ہے۔ اصل قیادت نفرتیں بڑھانے میں نہیں بلکہ دلوں کو قریب لانے میں ہے۔ اصل فتح دشمن کو شکست دینے میں نہیں بلکہ انسانیت کو تباہی سے بچانے میں ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ”بات چیت تباہی سے بہتر ہے، امن اشتعال سے برتر ہے اور سفارت کاری جنگ سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔“
امن مشن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران
09:07 AM, 25 May, 2026