غالب امکان امریکہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا، نیتن یاہو کے دادا ابو جنگ کا چسکا پورا کر چکے، افسوس جنگ کی وننگ ٹرافی حاصل نہیں کر سکے، امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق ٹرمپ ایران تنازع سے پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔ ”اینڈ گیم“ سرنڈر کا مہذب نام ہے، امریکی صدر کی آخری چال شکست ہے جسے وہ لیٹر آف انٹنٹ (عبوری معاہدہ) کا نام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناجائز پوتے نیتن یاہو کو فون پر معاہدے کی دلی خواہش کے بارے میں بتایا، پوتا حملے بلکہ مسلسل حملوں کا خواہشمند تھا، ٹرمپ نے اسے ماں بہن کی گالیاں دیں، کہا تم وہی کرو گے جو امریکہ کہے گا، نیتن کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو گیا لیکن کچھ نہ کہہ سکا۔ ایران سخت جان حریف ثابت ہوا، اس نے دو ایٹمی طاقتوں امریکہ اور اسرائیل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دادا (ٹرمپ) کو اس اعتراف پر مجبور کر دیا کہ کم بخت نیتن یاہو نے مجھے ایسی جنگ میں پھنسا دیا جو امریکہ کی جنگ نہیں تھی، 9 کروڑ کے ملک نے 34 کروڑ عوام کی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا دئیے، بعض لوگوں کو جنگوں میں بہتا خون دیکھ کر دلی تسکین ملتی ہے ٹرمپ اور نیتن یاہو ہٹلر کے اسی قبیل کے ہیں، انجام مایوسی ڈپریشن اور بالآخر خودکشی، جنگ کا چسکا پورا ہو گیا، حاصل حصول کچھ نہیں، 68 فیصد عوام مخالف 80 لاکھ سڑکوں پر نکل آئے۔ کانگریس میں لعن طعن، احساس دلایا گیا کہ روس نے ایران کو جدید ترین ہتھیار پہنچا دئیے ہیں، ٹرمپ کا ایرانی فضائیہ کو تباہ کرنے کا دعویٰ غلط، ایرانی پائلٹوں نے ہمارے 42 امریکی لڑاکا طیارے مار گرائے، ٹرمپ آبنائے ہرمز کا ایرانی قبضہ ختم کرنے میں بھی ناکام رہے، کہا گیا کہ اگر ٹرمپ نے جنگ بند نہ کی تو امریکہ کو سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہو گا، یورپ جنگ میں شریک نہیں ہوا گویا اپنی برادری میں بھی منہ کالا، آئندہ ماہ سے امریکہ میں فٹ بال کا عالمی میلہ منعقد ہو رہا ہے اس سے پہلے جنگ ختم کی جائے، ڈیمو کریٹس کے علاوہ اپنوں نے بھی یہی مشورہ دیا، ٹرمپ نے رات بھر سوچا کیے صبح دم 150 واں یوٹرن لے لیا، دھمکیاں عادت ثانیہ لیکن کسی ڈیل یا معاہدے کے لیے پھر پاکستانی قیادت سے رجوع، سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کے جنگ بندی جاری رکھنے کے پیغامات، بہانہ پاکستان سے ثالثی کے لیے مسلسل رابطے، ایران یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز سمیت اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، فیلڈ مارشل نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو تہران بھیجا، ایرانی قیادت سے رابطے ہوئے، محسن نقوی گئے آئے پھر گئے اور بالآخر کلیئرنس کا پیغام بھیجا جس پر فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر بھی ایران پہنچ گئے۔ عبوری معاہدے کا مسودہ تیار، سعودی اخبار العربیہ نے تو چند گھنٹوں میں عبوری معاہدے کی خبر شائع کر دی لیکن 72 گھنٹوں بعد بھی تادم تحریر مذاکرات کا سلسلہ جاری، ان شاءاللہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائےں گی۔ ایرانی قیادت اس سنہری موقع کو ضائع نہیں ہونے دے گی، ایک صفحہ پر مشتمل لیٹر آف انٹنٹ میں فوری جنگ کے خطرے کو ختم کرنے کو ترجیح دی گئی ہے، امریکہ مرحلہ وار پابندیوں کے خاتمے، 25 فیصد فنڈز بحالی پر آمادہ ہے۔ آبنائے ہرمز کھولنے اور یورینیم کی افزودگی جیسے بنیادی مطالبات پر عیدالاضحی کے فوری بعد مذاکرات ہوں گے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت سے ہمارا مسلسل رابطہ ہے، معاہدے کے لیے پُرامید ہیں لیکن ہمارے پاس پلان بی بھی ہے۔ پلان بی کی وضاحت نہیں کی گئی، دفاعی ماہرین اور امریکی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ حملوں کی حماقت کی گئی تو عرب ممالک کے 700 واٹر پلانٹس ایران کے نشانے پر ہوں گے۔ وزیر خارجہ کا پلان بی دھرے کا دھرا رہ جائے گا، ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کرانے والوں کے ساتھ ہیں۔
وفاقی حکومت اور فوج کی اعلیٰ قیادت امریکہ اور ایران میں ثالثی کیلئے کوشاں، ادھر اسلام آباد سمیت ملک بھر میں افواہوں کا زور، 28 ویں ترمیم یا ریفرنڈم، سخت ترین بجٹ میں 400 ارب کے ٹیکس، صدر زرداری پر دباو¿، بلاول بھٹو کی دوریاں، پی ٹی آئی
کی احتجاجی تحریک، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کا ملاپ، مولانا فضل الرحمن کے پیغامات، بجٹ کے بعد وزیر خزانہ سمیت دفاعی کابینہ میں رد و بدل، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی ملک دشمن سرگرمیاں، دھرنے وغیرہ وغیرہ، بھانت بھانت کی سرگوشیاں، ہر طرف خطرے کی گھنٹیاں، اس پر محترم حفیظ اللہ نیازی کا آنسوو¿ں بھرا کالم ”نہ ہم بدلے نہ وہ بدلے“ میں گلے شکوے کہ 14 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے، 5 کروڑ نمک ملے پانی میں روٹی ڈبو کر کھانے پر مجبور ”کسی کا کتا تو کھائے ربڑی کسی کو فاقہ ستا رہا ہے، پیٹرول 4 سو سے اوپر، ہر چیز مہنگی، عید قرباں پر جانوروں کی منڈیاں سج گئیں، قربانی کرنے والے خریدار غائب، لاکھوں کے بکرے، سال بھر کی تنخواہ کے برابر گائے کون خریدے، اس پر انمول عرف پنکی کے ارب پتی ہینڈلرز اور خریداروں کی کہانیاں، 40 گاہکوں کے نام منظر عام پر آ گئے ان میں متمول گھرانوں کی 12 صاحبزادیاں بھی شامل“ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے، 28 ویں ترمیم کا شور ٹی وی سکرینوں تک محدود، حکومت خاموش وزراءکے مبہم بیانات حکومت اور مقتدرہ کا اتفاق، کمزور اور کنگال وفاق نہیں چل سکتا، 18 ویں ترمیم کے بعد قومی خزانہ صوبے لے گئے، وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنس گئی، مانگے تانگے کے زرِ مبادلہ سے معیشت مستحکم مستحکم کیسے ہو گی، ایک ویلاگر نے ”مضبوط حکومت کمزور معیشت“ کا نعرہ لگا دیا، کسی نے کہا عید بعد 28 ویں ترمیم پر زور کا رن پڑے گا، پی پی، پی ٹی آئی سے ہاتھ ملائے گی، مولانا سے بغل گیر ہو گی، ایوان صدر خالی سامان بلاول ہاو¿س منتقل، جتنے ٹاک شوز اتنی بلکہ ان سے زیادہ باتیں، حد سے زیادہ پُر اعتماد، مبشر لقمان نے ریفرنڈم کی خبر دے کر پروگرام کے شرکاءکو ورطہ¿ حیرت میں ڈال دیا کہا کہ کوئی ترمیم نہیں آ رہی صوبوں، نہروں، این ایف سی ایوارڈ سمیت تمام منصوبوں پر عملدرآمد ہونا ہے اس کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے گا کوئی اختلاف نہیں سب ایک ہی زنجیر سے بندھے ہیں، شرمیلا فاروقی نے 28 ویں ترمیم پر دباو¿ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی پی کے درمیان بجٹ تجاویز پر بات ہوئی ہے اور کچھ نہیں بلاول بھٹو نے ثالثی اور ملکی دفاع مضبوط بنانے کی بات کی فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کیا۔ دبے لفظوں میں کہا عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، جنگ ختم ہو لے، حکومت ثالثی کا مشکل مشن کامیابی سے مکمل کر لے سارے مسائل حل ہو جائیں گے، اللہ کرے ایسا ہی ہو۔
عبوری معاہدہ، ٹرمپ کی گالیاں، ترمیم یا ریفرنڈم؟
09:07 AM, 25 May, 2026