فتنہ الہندوستان کی پراکسیزاور بلوچ خواتین کا استحصال

09:07 AM, 25 May, 2026


بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی پراکسیز خصوصاً بی وائی سی، پانک اور بی ڈبلیو ایف کی سرگرمیاں اب محض ریاست مخالف بیانیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ بلوچ نوجوانوں اور خصوصاً بلوچ خواتین کو منظم انداز میں برین واشنگ کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ بھارتی پروردہ نیٹ ورکس خواتین کو جذباتی نعروں، نفسیاتی دبا¶، بلیک میلنگ، سوشل میڈیا پراپیگنڈے اور احساس محرومی کے ذریعے گمراہ کر کے شدت پسندی کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ زرینہ رفیق، یسمہ بلوچ، آصفہ مینگل، مریم بزدار اور حاتم ناز کے خود کش حملے اس خطرناک رجحان کی واضح مثال ہیں، جہاں ان بلوچ خواتین کو حقوق اور آزادی کے نام پر استعمال کیا گیا، مگر نتیجتاً انہیں تشدد، انتشار، خونریزی اور دہشت گردی کے راستے پر دھکیلا گیا۔ بلوچ معاشرہ ہمیشہ اپنی روایات، غیرت اور خواتین کے احترام کی وجہ سے پہچانا جاتا رہا ہے۔ یہاں خواتین کو عزت، تحفظ اور وقار حاصل ہے اورقبائلی تنازعات میں بھی خواتین کو مقام دیا جاتا رہا ہے، لیکن فتنہ الہندوستان کی پراکسیز نے انہی خواتین کو اپنے سیاسی اور تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کر کے بلوچ اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آج خواتین کو شدت پسند سوچ کے ذریعے ایک ایسے راستے پر دھکیل رہے ہیں جہاں ان کی زندگیاں بھی تباہ ہو رہی ہیں اور خاندان بھی بکھر رہے ہیں۔ حالیہ رحیمہ بی بی کیس نے اس پورے نیٹ ورک کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ دالبندین سے تعلق رکھنے والے منظور احمد کی اہلیہ رحیمہ بی بی نے اعتراف کیا کہ اس کا شوہر کالعدم تنظیم بی ایل ایف کا اہم سہولت کار تھا۔ رحیمہ بی بی نے بتایا کہ بی ایل ایف کی خود کش حملہ آور زرینہ رفیق ان کے گھر میں مقیم رہی، جہاں اسے پناہ اور سہولت فراہم کی گئی۔ بعدازاں اسے افغانستان منتقل کیا گیا جہاں تربیت کے بعد اسے نومبر میں ایف سی کے کیمپ پر خود کش حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔ رحیمہ بی بی نے بتایا نے ان کا موبائل نمبر بھی دہشت گرد وں کی سہولت کاری کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ فتنہ الہندوستان کی پراکسیز بی وائی سی، پانک اور بی ڈبلیو ایف کی سب سے خطرناک سازش نوجوان خواتین کی ذہن سازی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جذباتی تقاریر اور ریاست مخالف بیانیوں کے ذریعے نوجوان نسل کے ذہنوں میں نفرت اور اشتعال پیدا کیا جاتا ہے۔ خواتین کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کسی بڑی جدو جہد کا حصہ بن رہی ہیں، جبکہ حقیقت میں انہیں صرف ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کوئی خاتون ذہنی طور پر متاثر ہوجاتی ہے تو پھر اسے کالعدم تنظیمیں آسانی سے اپنے مقاصد اور حفاظتی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ 2024 میں تربت سے گرفتار ہونے والی خود کش بمبار عدیلہ بلوچ نے بتایا تھا وہ ہیلتھ کے شعبے سے منسلک تھی، اور WHO کے ایک پراجیکٹ کو چلا رہی تھی کہ کچھ لوگوں نے اس کو گمراہ کیا، پیار کے جال میں پھنسا کر پہاڑوں پر لیجایا گیا وہاں جا کر اس کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اس کی نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میل کر کے خود کش حملہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔ واضح رہے کہ خواتین کو جان بوجھ کر آگے رکھا جاتا ہے تاکہ سکیورٹی اداروں پر دبا¶ ڈالا جا سکے اور بعد میں اس صورتحال کو پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس عمل کے ذریعے ایک طرف خواتین کی جان خطرے میں ڈالی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کی ہمدردی اور ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں۔ بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسیز نے بیانیاتی جنگ کو بھی ایک ہتھیار بنا لیا ہے۔ اسلامی تعلیمات بھی خواتین کے اس استحصال کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہیں۔ اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور تحفظ عطا کیا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھنے والا دین کسی صورت خواتین کو تشدد، نفرت اور خودکش کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ خواتین کو جبر، ذہنی دبا¶ یا گمراہ کن نظریات کے تحت استعمال کرنا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ مذہبی اور اخلاقی اصولوں کے بھی سراسر منافی ہے۔ واضح رہے کہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے خواتین کا استعمال قدیم دور کے جابرانہ نظاموں اور فتنہ انگیز قوتوں کا طریقہ رہا ہے، مگر آج فتنہ الہندوستان کی پراکسیز انہی بلوچ خواتین کو نفرت اور انتشار کی علامت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ عناصر بلوچ روایات، اسلامی اقدار اور سماجی وقار کونقصان پہنچا کر اپنے بیرونی آقا¶ں کے مفادات پورے کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام خصوصاً نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ جنگ صرف بندوق کی نہیں بلکہ ذہنوں کی جنگ بھی ہے۔ دشمن عناصر نوجوان نسل کو مایوسی، اشتعال اور نفرت کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں آسانی سے استعمال کیا جا سکے۔ خواتین کو برین واشنگ کے ذریعے دہشت گردی کی طرف راغب کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر بلوچ معاشرے کی اصل اقدار سے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات اور باشعور نوجوان مل کر اس منفی پراپیگنڈے کا مقابلہ کریں۔ خواتین جذباتی ہو کر ایسے عناصر کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں، اور اگر خدانخواستہ کوئی خاتون ان کالعدم تنظیموں کے بہکاوے میں آ چکی ہو تو اسے خاموشی یا بلیک میلنگ کا شکار نہ بنایا جائے بلکہ فوراً ریاستی اداروں سے رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت اس کی جان اور مستقبل کو بچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کی ترقی، امن اور استحکام دشمن عناصر کو کسی صورت قبول نہیں، اسی لیے وہ نوجوان نسل خصوصاً خواتین کو بطور آلہ استعمال کر کے معاشرے میں خوف، انتشار اور بداعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کی پراکسیز کا خواتین کو انسانی ڈھال اور شدت پسند مقاصد کے لیے استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے پاس نہ اخلاقی جواز باقی رہا ہے، نہ بلوچ روایات کا احترام اور نہ انسانی اقدار کی کوئی اہمیت۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچ عوام ان گمراہ کن بیانیوں کو مکمل طور پر مسترد کریں اور اپنی نوجوان نسل خصوصاً خواتین کو اس فکری و عملی فتنہ سے محفوظ رکھیں، کیونکہ یہی اجتماعی بیداری بلوچستان کے امن، وقار اور روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے۔

مزیدخبریں