28 مئی 1998 وہ تاریخ ساز دن جس کی بدولت پاکستان کا بین الاقوامی تشخص یکسر بدل گیا۔ سماجی، سیاسی اور مذہبی طور پر تقسیم معاشرہ یک جان ہو گیا اور یوں ایک ایسا پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا جس نے اپنے وجود کو بزور بازو نہ صرف منوایا بلکہ اپنی جوہری و عسکری صلاحیتوں سے خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرنو تشکیل دیا۔ بھارت 1947 سے ہی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا تھا اس کیلیے وہ پاکستان کو تقسیم در تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف تھا۔ 1971 میں پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی نا اہلی یا انا کی وجہ سے وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوا اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔ یہاں سے اسے مزید شہ ملی۔ بھارت نے اس دوران جوہری صلاحیت حاصل کر لی اور 18 مئی 1974 کو پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور یوں وہ خطے کا سرخیل بننے کے ساتھ ساتھ دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت بھی بن گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت مصمم ارادہ کیا کہ پاکستان کا وجود برقرار رکھنا ہے تو ہمیں اپنے ازلی دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہو گا۔ یقینا پاکستان ایک کمزور معیشت والا سیاسی طور پر منتشر تھا، تاہم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بیڑا اٹھایا اور انتہائی خفیہ اور رازداری کے ساتھ پاکستان نے اپنا جوہری منصوبہ شروع کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سربراہی میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے تمام تر اختلافات اور پسند نہ پسند کو پس پشت ڈال کر پروگرام کا آغاز کیا۔ گھاس کھانے سے پیٹ پر پتھر باندھنے اور اخراجات میں کٹ لگانے تک وہ سب کچھ کیا جو ایک قوم کو کرنا چاہیے۔ دوسری طرف سیاسی انتشار بڑھا، بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بد ترین مارشل لا لگ گیا۔ جنرل ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا اور پھر یہ اقتدار ان کی طیارہ حادثہ میں ہلاکت تک طویل ہوا۔ اس دوران سیاسی صورتحال، مذہبی منافرت کے ساتھ ساتھ افغانستان جنگ نے بھی ملک کو بُری طرح متاثر کیا تاہم یہ داد ضیا الحق کو بھی دینا بنتی ہے کہ تمام تر دشواریوں کے باوجود ایٹمی پروگرام جاری وساری رہا۔ 80 کی دہائی میں دنیا کو شک ہو گیا تھا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے تاہم کمال مہارت سے ضیا الحق نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی اور دوسری طرف پاکستان نامساعد حالات اور اندرونی تقسیم کے باوجود جوہری ہتھیار بنانے کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا۔ ضیا الحق کی وفات کے بعد وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے اس پروگرام کیلیے بساط سے بڑھ کر کام کیا۔ پھر میاں نواز شریف نے بطور وزیراعظم اس پروگرام پر مکمل پہرہ دیا یہاں تک کہ 90 کی دہائی میں پاکستان پر انٹرنیشل اٹامک انرجی کمیشن اور امریکہ سمیت یورپی یونین اور دیگر ملکوں کا شدید دباو¿ تھا۔ دنیا کو بھنک لگ چکی تھی کہ پاکستان غیر اعلانیہ طور پر جوہری صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ پھر بھارت نے 11 اور 13 مئی 1998 کو دوسری بار ایٹمی دھماکے کیے تو یہ پاکستان کیلئے ایک چیلنج تھا۔ چنانچہ پاکستان کی قیادت نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب ہر صورت جواب دینا ہے۔ پاکستان کے ارادوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ سمیت دنیا کا شدید پریشر آنا شروع ہوا، معاشی پلان اور نا جانے کیا کچھ آفر نہیں کیا گیا۔ مگر داد تحسین ہے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو جنہوں جان سے مارنے کی دھمکیوں، ملک پر غیر انسانی پابندیوں سمیت ہر بات کو جوتے کی نوک پر رکھا اور بالآخر 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں 6 کامیاب دھماکے کر کے بھارت سمیت ساری دنیا کو حیران و پریشان کر دیا۔ یوں پاکستان اعلانیہ طور پر ساتویں کامیاب ایٹمی قوت بن کر سامنے آیا، یہ وہ دن تھا جس نے پاکستان کے وجود کو نا قابلِ شکست اور نا قابلِ تسخیر بنایا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سامراجی یا استعماری معاشروں اور نظاموں میں طاقت ہی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ سامراجی سوچ میں اخلاقیات یا انصاف کے بجائے طاقتور کو اپنے مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہوتا ہے۔ کمزور کو دبانا اور اس کے وسائل پر قبضہ کرنا ایک جائز عمل سمجھا جاتا ہے۔ سامراجی طاقتیں نہ صرف فوجی بلکہ ثقافتی اور اقتصادی طور پر بھی دوسرے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرتی ہیں، جہاں ان کی طاقت ہی ان کی پالیسیوں کو نافذ کرنے کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔ گزشتہ دو صدیوں سے، خاص طور پر مغربی اور امریکی سرمایہ دارانہ نظام
کے تحت، طاقت کے زور پر دیگر ممالک کو تابع کیا گیا ہے، جہاں سرمایہ اور فوجی طاقت دلیل کا متبادل بن جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی سامراجی طاقتیں عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اپنی فوجی اور اقتصادی طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستان اگر 28 مئی 1998 کو کامیاب ایٹمی دھماکے نہ کرتا نواز شریف حالات و واقعات اور پریشر میں آ کر یہ تاریخ ساز فیصلہ نہ کرتا تو پاکستان ایران، عراق، لیبیا، شام، لبنان اور مصر جیسے حالات کا شکار ہو جاتا۔ تصور کیجئے کہ پاکستان ایٹمی اور عسکری قوت نہ ہوتا تو ہم آج کہاں کھڑے ہوتے، یہ سوچ کر بھی دل کانپ جاتا ہے۔ یقینا آج کی دنیا میں طاقت بہت بڑی دلیل ہے اور اس کا اندازہ گزشتہ سال 9 مئی کو ہوا جب پاکستان نے 11 گنا بڑے اپنے ازلی دشمن بھارت کو دھول چٹائی۔ بھارت اور اسرائیل کو بیک وقت شکست فاش دی اور ایک عالمی میدان میں ایک ناقابلِ یقین پہلوان بن کر سامنے آیا۔ آج پاکستان الحمدللہ اپنے زور بازو، عسکری و جوہری طاقت، عظیم قیادت جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی قیادت میں عالمی تنازعات کو حل کرانے کیلئے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ دنیا پاکستان کو امن کے سفیر اور عالمی امن کے ضامن کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پاکستان عالمی طاقت امریکہ کیلئے امید صبح نو بج چکا ہے۔ پاکستان ایران امریکہ مذاکرات اور 5 دہائی پرانے تنازع کو حل کرانے سے بس ایک قدم دور ہے۔ ان شاءاللہ آج کل میں امریکہ ایران امن معاہدہ حتمی شکل میں سامنے آئے گا۔ اسلام آباد ایک بار پھر عالمی امن کیلئے استعارہ بنے گا اور دنیا سکھ کا سانس لے گی۔ ہم اس موقع پر جناب شہید ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیا الحق، غلام اسحاق خان، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور جدید اور طاقتور پاکستان کے معمار سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں کہ 28 مئی 1998 نواز شریف نے چاغی میں جو بٹن ایٹمی دھماکوں کیلیے دبایا تھا وہ بٹن وجود پاکستان کو قیامت تک نا قابلِ تسخیر بنا گیا۔ اس بار یوم تکبیر اور عید الاضحی ایک ساتھ منائے جائیں گے، فضا تکبیرات سے گونجے گی۔ ساتھ ہی ہمیں بحیثیتِ قوم اپنے اپنے سیاسی و نظریاتی اناو¿ں کو بھی قربان کر کے ایک منظم و مربوط قوم بننے کی طرف قدم بڑھانا ہو گا۔ ضرورت اس امر کی یے کہ ہم سب ایک ہو کر دنیا کے ہر میدان میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔
پاکستان یوم تکبیر سے عالمی تنازعات کے حل تک
09:07 AM, 25 May, 2026