بزرگوں سے سنا ہے کہ یو۔پی میں خوشحال لوگ رہتے تھے۔ روز مرہ میں ایک دوسرے سے بھلے کم کم تھے لیکن تہواروں اور تقریبات پر ایک دوسرے کو ضرور مدعو کرتے تھے۔ راوی کا کہنا ہے کہ ایک بار ایک برہمن خاندان نے کسی رنجش کی بنیاد پر ایک نچلے درجے کے مسلمان گھرانے کو اپنی بیٹی کے گڈے گڈی کی شادی کی تقریب میں مدعو نہیں کیا، شنید ہے کہ یہیں سے برصغیر کی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔ عام لوگوں کے لیے یہ بھلے ہی ایک معمولی بات ہو لیکن حساس دل رکھنے والوں کے لیے یہ دل دہلا دینے والا واقعہ تھا۔
ہم اب اپنا حال کیا سنائیں! زمانہ بدل گیا طور طریقے بدل گئے لیکن ہم دل سوختہ لوگ نہ بدلے اور نہ ہی ہمارے پرانے شاعر بدلے ہیں۔ یہ شعرا ہمارے دلوں سے اتنے قریب ہیں کہ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ذاتی دکھ بھی انہی کی بد دعائیہ شاعری کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ ان کے طفیل ہم ایسی تکالیف کو بھی محسوس کر لیتے ہیں جن سے عام لوگ بڑی سہولت سے صرف نظر کرتے ہیں۔
خیر زمانہ کتنا بدل گیا ہے اس بات کی وضاحت کے لیے میں ایک غیر معمولی مثال پیش کرتا چلوں۔ چند روز قبل اکادمی ادبیات پاکستان میں نئی لفٹ انسٹال کرنے کی عظیم الشان افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ملک کے مایہ ناز ادبا اور شعرا نے لفٹ کی ادبی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ شرکا نے اس برقی سواری کی ادبی اور علمی جہات پر علامتی انداز میں روشنی ڈالی۔ آپ بھلے یقین نہ کیجیے لیکن یہ نظارہ چشم فلک نے دیکھا کہ اکیسویں صدی کے جدید انفراسٹرکچر کی جھڑپوں اور کلاسیکی عہد کی معنی آفرین سرگرمیوں نے مل کر اس تقریب کو تشکیل دیا۔
ہمارے شاعروں اور ادیبوں نے محسوس کیا کہ پاکستان میں انجینئرنگ کے سنٹر آف ایکسیلنس کی جو بنیاد رکھی گئی تھی اس کے ثمر بار ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔ شنید ہے کہ اس عظیم الشان، رسمی اور باقاعدہ پر تکلف تقریب کے اہتمام کےلئے ادبا اور شعرا ملک کے طول و عرض سے آنے کے مشتاق تھے لیکن موقع کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے فقط چند نامور شعرا اور با برکت افسانہ نگار شخصیات کو مدعور کیا گیا۔ ایک دوست کے مطابق اس تخصیص کی ایک وجہ سکیورٹی کی صورتحال بھی تھی۔ تاہم جو تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں ان سے اس پر شکوہ لفٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
افتتاحی لمحات میں ہمارے ایک افسانہ نگار دوست کی آنکھوں میں ممنونیت کی نمی جاگ اٹھی۔ ایک شاعر دوست نے فی الفور قصیدہ لکھ ڈالا۔ کچھ بعید نہیں تھا کہ ایک بہترین داستان گو قصہ ’ہزار درویش‘ نما کوئی طویل داستان لکھ ڈالتے جو قصہ در قصہ اور کہانی در کہانی سفر کرتی ہوئی عمارت کی بالائی منزل تک پہنچ جاتی، لیکن کچھ خیر خواہوں نے انھیں اس سے باز رہنے کی محبت بھری تلقین کی۔ ہمیں خوشی کے کہ یار دوست زیادہ جذباتی نہیں ہوئے اور اسی کارروائی پر اکتفا کر لیا۔
بہر حال ادارہ مذکورہ اس حوالے خصوصی مبارکباد کا مستحق ہے۔ اگر چہ یہ بات بھی ہم بھاری دل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ نہ جانے کتنے جگر سوز تخلیق کار، پرانے شاعر اور گلوکار اس تقریب میں شرکت سے محروم رہ گئے۔
میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ جب اس نوعیت کی اعلیٰ سطح تقریبات کا انعقاد کیا جائے تو بڑے اور عظیم شاعروں اور تخلیق کاروں کے ساتھ جونیئر شعرا اور بے گانے افسانہ نگاروں کو بھی نہ صرف مدعو کیا جائے بلکہ لفٹ میں جھوٹے بھی دئیے جائیں۔ بصورت دیگر ایسے ہی فیصلہ کن مراحل پر قوم کے دل ٹوٹتے ہیں اور بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ دل میں رب بستا ہے۔ راقم ایسے حادثوں کا چشم دید گواہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ چک ڈونگہ بونگہ کی کچی گزر گاہ پر انتظامیہ کی جانب سے کھڑونجا لگوایا گیا۔ ہر خاص و عام کو اس کی خوشی ہونا لازم تھی لیکن یہ مزہ گاو¿ں کے خلیفہ نے اس وقت کرکرا کر دیا جب میونسپل کمیٹی کے لیٹرین کی افتتاحی تقریب میں فقط خواص کو شریک کیا گیا۔ شرکا نے تو خوب موج ماری لیکن وہ جو محروم تمنا تھے وہ ساری زندگی نہ سنبھل سکے۔ ہمارے یار راو¿ ندیم ڈونگہ میونسپلٹی کے بیت الخلا کے باہر کھڑے جون ایلیا کا شعر پڑھتے رہے۔
وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا
آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
بس یہیں سے ڈونگہ بونگہ میں عدم مساوات کے کلچر کی ابتدا ہوئی۔ فیوڈلزم نے زور پکڑا۔ اگرچہ بعض انتظامی عہدے داروں نے اس عمل پر یہ جواز پیش کیا کہ میونسپل کمیٹی نے بقدرِ تنخواہ لوگوں کا انتخاب کیا تھا لیکن نہ آنے والوں کے دل تو نہیں جوڑے جا سکتے تھے۔
میرے خیال سے ایسی ہی کوئی حکیمانہ تدبیر ہمارے بڑے اور نامور اداروں نے تیار کر رکھی ہو گی وگرنہ لفٹ کے اعلانیہ تجربے سے اس قوم کو قطعاً لا تعلق نہیں رکھا جا سکتا تھا۔
ہم درویشوں کی گزارش تو فقط اتنی ہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ خوشیاں زیادہ پھیلانے کے لیے ایسی شاندار ادبی تقریبات کا انعقاد تسلسل کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ بلکہ ڈونکی پمپ کی انسٹالیشن سے لے کر سفیدی تک کی تکمیل پر اگر دو چار شعرا اور افسانہ نگاروں کو مدعو کر لیا جائے تو انجینئرنگ اور کنسٹرکشن کے شاہکارمیں ادبی ٹچ کا مزہ آ جائے گا۔ نیز اگر ایسی غیر معمولی تقریبات میں عام شاعروں کو بھی شامل ہونے کا موقع دیا جائے تو یہ ممکن ہو پائے گا کہ ایسی تاریخ ساز تقریبات کے بعد ہم سب مل کر ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگیں۔
لفٹیہ تقریبات ادب کے فروغ کا تیز تر فارمولا
09:07 AM, 25 May, 2026