”میں بھی کاکروچ ہوں۔۔“

09:06 AM, 25 May, 2026

چوپال سجی ہوئی تھی۔ چپ سائیںسمیت سب براجمان تھے۔ چاچا رفیق نے چپ سائیں سے کچھ پوچھنے کی اجازت چاہی۔۔ چپ سائیں نے سر ہلاکر اجازت دی۔۔۔ چاچا رفیق بولے۔۔ سائیں جی۔۔ آپ نے بچہ پارٹی، ڈھول پارٹی، نشئی پارٹی۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔ سب کا نام تو سنا ہوگا یقینا جانتے بھی ہوں گے۔۔۔ جب کچھ ہم خیال لوگ مل جائیں اور ان کا ایجنڈا ایک ہی ہوتو وہ ایک مقصد کے لیے پارٹی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔۔۔چاچا رفیق بولتے جارہے تھے اورچپ سائیں سمیت سب سنتے جارہے تھے۔۔۔ چاچا رفیق بولے۔۔ بھائیو۔۔ اب آتا ہوں اصل بات کی طرف۔۔۔ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ہمسایہ ملک کی ایک جماعت”کاکروچ پارٹی“ کے چرچے ہیں۔۔۔ سائیں جی اس پرآپ روشنی ڈالیں لیکن۔۔۔اول الذکر یہ ضروری ہے کہ۔۔۔سیاق وسباق جان لیں۔۔ میں تو یہ کہوں گا۔۔۔کاکروچ پارٹی نام تو اچھا ہے لیکن اس کے تھیم پرتوجہ دے دی جائے تو شائد۔۔۔معاشرہ میں تبدیلی آجائے۔۔۔ اس پر چاچا رفیق چپ کرگئے۔۔۔
سائیں جی۔۔۔ بولے۔۔۔ بھائیو!۔۔ روایتی سیاسی علامتوں کاکروچ یعنی (لال بیگ) جیسی علامت کا ابھرنا موجودہ دور کے سیاسی شعور اور عوامی ردعمل میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ چپ سائیں نے کہاکہ دوستو!انڈین سپریم کورٹ کے ایک جج کے ریمارکس پرپورے بھارت میں ایک نئی بحث چھڑ ی ہوئی ہے۔ دوستو ! یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ انڈیا میں ''کاکروچ جنتا پارٹی'' کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک طنزیہ اور احتجاجی تحریک ہے، جسے 16 مئی 2026 کو ایک سیاسی حکمت عملی ساز ابھیجیت ڈپکے نے شروع کیا۔
عدالتی ریمارکس میں سسٹم پر حملہ کرنے والے بعض نوجوانوں کا موازنہ ''کاکروچ'' اور معاشرے کے ''پیراسائٹس'' سے کیاگیاتھا، یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ جج صاحب نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کا اشارہ صرف ''جعلی ڈگریاں'' رکھنے والوں کی طرف تھا، لیکن انڈیا کے بے روزگار نوجوانوں اور طلبہ نے اسے اپنی توہین سمجھا۔تاہم نوجوانوں نے پھر یہ ثابت کیا کہ وہ نہ تو سست ہیں نہ ہی اپنی مرضی سے بے روزگار ہیں بلکہ سب سسٹم کی خرابی ہے اوران کاکوئی قصور نہیںہے۔
دوستو!۔۔۔اگر دیکھا جائے تو یہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کااثاثہ ہوتے ہیں لیکن ان کو مواقع دینا اور آگے بڑھنے میں مدد دینا تو اس ملک کے مقتدر حلقوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے سسٹم کی خرابی میں سفارش، اقربا پروری اور دیگر ایسی برائیاں ہیں جس کی وجہ سے ٹیلنٹ پیچھے رہ جاتا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے کہ نوجوان طبقہ یعنی جین زی۔۔۔ قسمت بدلنے کے لیے آگے بڑھتا ہے اور پھر احتجاج رنگ لے آتا ہے ۔۔ دوستو! محض ایک ہفتے کے اندر بھارت میں اس ڈیجیٹل تحریک نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ اس کے انسٹاگرام اکا¶نٹ پر 2 کروڑ (22 ملین) سے زائد فالوورز ہو گئے، جو کہ انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی (9.2 ملین) اور کانگریس (13.4 ملین) کے آفیشل اکا¶نٹس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی۔۔۔ نوجوانوں نے انٹرنیٹ پر #MainBhiCockroach(میں بھی کاکروچ ہوں) کا ٹرینڈ چلایا۔
ازراہ تفنن۔۔۔ کیا بھارتی حکومت کاکروچوں کے رویے سے اتنی ڈر گئی کی ویب سائٹ بھی بلاک کرنا پڑی۔۔۔ اگر یہ کہاجائے کہ یہ آمرانہ رویہ انڈیا کے نوجوانوں کی آنکھیں کھول رہا ہے تو غلط نہیں ہے۔۔۔ تاہم نوجوان یعنی جین زی یہ موقف پیش کرتے ہیں کہ ہمارا واحد جرم یہ تھا کہ ہم اپنے بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن کاکروچ کبھی نہیں مرتے، ہم نیا ڈیجیٹل گھر بنائیں گے۔ دوستو! ''کاکروچ'' جیسی علامت کا استعمال مروجہ سیاسی نظام، کرپشن، یا سیاستدانوں کے ایسے رویوں پر طنز کرنے کےلئے کیا جا رہا ہے جنہیں عام عوام ناپسند کرتے ہیں۔
چوپال کے بچوں ، بھائیو اور دوستویہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ لال بیگ کو ایک ایسی مخلوق سمجھا جاتا ہے جو سخت سے سخت حالات میں بھی زندہ رہ سکتاہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں اس علامت کو غالباً ان سیاست دانوں یا نظام کے حصوں کےلئے بطور استعارہ استعمال کیا جا رہا ہے جو ہر قسم کے سکینڈلز، تنقید کے باوجود اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں اور جنہیں نظام سے نکالنا ناممکن نظر آتا ہے۔روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس، ایسی تحریکوں کا کوئی ایک باقاعدہ لیڈر یا ہیڈکوارٹر نہیں ہوتا لیکن ان کا اثر لوگوں کے ذہنوں پر دیرپا ہوتا ہے۔ جین زی کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے، بھارت میں سسٹم سے متاثرہ نوجوان سوشل میڈیا پر بھرپور ٹرولنگ کررہے ہیں ۔
چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کر گئے۔۔۔۔ پانی پینے کے بعد۔۔۔ دوستو!۔۔ نوجوانوں کا غصہ بجا ہے ، جین زی کسی بھی ملک میں ہوں اگر واقعی ان کی صحیح رہنمائی کی جائے تو یہ تبدیلی لے آتے ہیں۔۔تاہم ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کی جائے۔۔۔قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی نظر دوڑائیں۔۔۔ نوجوان منزل کی جستجو میںدھول چاٹتے چاٹتے۔۔۔ منزل نہ ملنے پر ناامید ہوجاتے ہیں۔۔۔حالانکہ اگر باریکی سے دیکھا جائے تو وہ اقبال کے شاہین بھی بن سکتے ہیں اور خو د کو مکڑی سے تشبیہ دیتے ہوئے جالا بن کر کامیاب بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔اور دوسرا راستہ وہ بھی ہوسکتا ہے جو ہمسایہ ملک میں نوجوانوں نے اپنایا یعنی سوشل میڈیا پر پارٹی بنالی اوراس سے مقتدر حلقے خوفزدہ ہوگئے۔۔۔۔ خیر دوستو!آج کا نوجوان اور کاکروچ، دونوں ہی بدترین حالات میں 'سروائیو' کرنے کے ماہر ہو چکے ہیں۔ کاکروچ اندھیرے کونوں میں بھی اپنے جینے کا راستہ نکال لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح، آج کا ڈگری ہولڈر نوجوان بیروزگاری، پٹرول اور بجلی کی کمر توڑ قیمتوں، اور روز بدلتی ملکی پالیسیوں کے تاریک لمحات میں بھی سانس لینے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ وہ دن بھر حالات کی مار کھاتا ہے، اور رات کو کاکروچ کی طرح دنیا کی نظروں سے چھپ کر اپنے کمرے کے کسی اندھیرے کونے میں موبائل سکرین کی روشنی میں فراحت ڈھونڈتا ہے۔
صاحبو! ہمارے نوجوانوں کا حال کچھ ایسا ہی ہے جب ان پر مستقبل کی امیدوں، خاندان کی توقعات اور رشتہ داروں کے چبھتے ہوئے سوالات کی ”روشنی“ پڑتی ہے، تو وہ خوفزدہ ہو کر اپنے ہی بنائے ہوئے تنہائی کے خول میں واپس چلے جاتے ہیں۔ وہ سماجی محفلوں سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کامیابی کی وہ چمک نہیں ہوتی جو دنیا دیکھنا چاہتی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو بھی نظام کی بے حسی، میرٹ کی پامالی اور معاشی تنگی کے ذریعے روز ”مارا“ جاتا ہے، ان کی امیدوں کا خون کیا جاتا ہے، لیکن وہ اگلے ہی دن اٹھ کر پھر کسی انٹرویو کی لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پالیسی سازوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کاکروچ کا زندہ رہنا کسی ماحول کی خوبصورتی نہیں، بلکہ اس نظام کی گندگی اور بدامنی کی علامت ہے۔تاہم وقت آگیا ہے کہ نوجوانوں کوشاہین کی طرح بلند پروازکا بھرپور موقع دینا چاہئے تاکہ ان کی صلاحیتیں نکھر سکیں۔۔۔ رہے نام اللہ کا!

مزیدخبریں