بجلی اور معیشت کا پہیہ 

09:06 AM, 25 May, 2026

پاکستان میں بجلی کا بحران کئی دہائیوں تک ملکی سیاست، معیشت اور عوامی زندگی کا اہم مسئلہ رہا۔ ایک وقت تھا جب ملک میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول سمجھی جاتی تھی، صنعتیں بند ہو رہی تھیں اور کاروباری سرگرمیاں متاثر تھیں۔ بجلی کی پیداوار طلب سے زیادہ موجود ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی کی سپلائی کتنی حد تک طلب سے زیادہ ہے، اس اضافی بجلی کی وجوہات کیا ہیں، اور اس کی ایسی منصوبہ بندی کیسے کی جاسکتی ہے جس سے معیشت بہتر ہو، روزگار بڑھے اور صنعتی ترقی ممکن بنے۔
پاکستان میں اس وقت بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت تقریباً 45 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ صلاحیت مختلف ذرائع جیسے پانی، گیس، کوئلہ، نیوکلیئر، فرنس آئل، سولر اور ہوا سے حاصل کی جاتی ہے۔ دوسری جانب ملک میں بجلی کی اوسط طلب تقریباً 22 سے 25 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے، جبکہ شدید گرمیوں میں یہ طلب زیادہ سے زیادہ 30 ہزار میگاواٹ تک پہنچتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس کم از کم 10 سے 15 ہزار میگاواٹ اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ سردیوں میں جب گھریلو اور صنعتی استعمال کم ہوجاتا ہے تو طلب مزید کم ہو کر 14 سے 18 ہزار میگاواٹ تک رہ جاتی ہے، جس سے اضافی بجلی کا فرق اور زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت کئی نئے پاور پلانٹس لگائے گئے۔ پاکستان میں بجلی کے بیشتر نجی پاور پلانٹس ایسے معاہدوں کے تحت کام کرتے ہیں جن میں حکومت کو ”کپیسٹی پیمنٹ“ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ یعنی بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں گردشی قرضہ 6.2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
پاکستان میں بجلی مہنگی ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی ”کپیسٹی پیمنٹ“ ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی پلانٹ کی صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ ہے مگر حکومت صرف 400 میگاواٹ خرید رہی ہے، تب بھی مکمل صلاحیت کے حساب سے ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ 2020 میں ”کپیسٹی پیمنٹ“ تقریباً 900 ارب روپے تھیں، جبکہ 2025 تک ان کا حجم دو ٹریلین روپے کے قریب پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس صورتحال نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں نمایاں اضافہ کیا، جس سے گھریلو صارفین اور صنعت دونوں متاثر ہوئے۔
نیشنل گرڈ سسٹم اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ ہر وقت تمام پیدا شدہ بجلی ملک کے ہر حصے تک پہنچا سکے۔ اس کے علاوہ لائن لاسز، بجلی چوری اور بلوں کی عدم وصولی بھی بڑے مسائل ہیں۔ پاکستان میں بجلی کے شعبے میں لائن لاسز 16 سے 18 فیصد تک ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح عموماً 5 فیصد سے کم ہوتی ہے۔
اضافی بجلی کو کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ یہ قومی خزانے پر بوجھ بننے کے بجائے معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم شعبہ صنعت ہے۔ پاکستان کی صنعت خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر مہنگی بجلی کی وجہ سے عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت تقریباً 14 سے 18 سینٹ فی یونٹ تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور چین میں یہ قیمت 7 سے 10 سینٹ کے درمیان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مہنگی پڑتی ہیں۔
اگر حکومت اضافی بجلی کو صنعتوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کرے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ٹیکسٹائل، اسٹیل، سیمنٹ، کیمیکل اور انجینئرنگ کے شعبے کم لاگت پر پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سستی بجلی فراہم کرنے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ اس سے نہ صرف ڈالر آمدن بڑھے گی بلکہ لاکھوں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔
اضافی بجلی کے استعمال کا دوسرا اہم شعبہ الیکٹرک گاڑیاں ہیں۔ پاکستان سالانہ 15 سے 20 ارب ڈالر کا پیٹرول اور ڈیزل درآمد کرتا ہے، جو زرمبادلہ پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ اگر حکومت الیکٹرک بائیکس، الیکٹرک بسوں اور الیکٹرک کاروں کو فروغ دے تو اضافی بجلی استعمال ہوسکتی ہے اور تیل کی درآمدات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ چین نے یہی حکمت عملی اپنائی اور آج وہ دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک وہیکل مارکیٹ بن چکا ہے۔ پاکستان بھی اگر سستی بجلی کے ساتھ EV پالیسی کو مو¿ثر بنائے تو مستقبل میں اربوں ڈالر کی بچت کرسکتا ہے۔
معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، مگر کسان مہنگے ڈیزل اور بجلی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر زرعی ٹیوب ویلز کو سستی بجلی فراہم کی جائے، کولڈ سٹوریج نیٹ ورک بنایا جائے اور دیہی علاقوں میں زرعی پروسیسنگ یونٹس قائم کیے جائیں تو زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI)، کلاو¿ڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل معیشت کی تیز رفتار ترقی کے باعث ڈیٹا سینٹرز کی طلب بڑھ رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل اور سستی بجلی درکار ہوتی ہے۔ پاکستان اگر اپنی اضافی بجلی کو استعمال کرتے ہوئے عالمی کمپنیوں کو سستی توانائی اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر فراہم کرے تو آئی ٹی سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری آسکتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی آئی ٹی برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر سالانہ ہیں، جبکہ بھارت کی آئی ٹی برآمدات 200 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں۔ اضافی بجلی کو اس شعبے میں استعمال کرکے پاکستان اپنی ڈیجیٹل معیشت کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان کو بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی بھی اشد ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ”کپیسٹی پیمنٹ“ کے نظام پر نظرثانی ضروری ہے تاکہ حکومت غیر استعمال شدہ بجلی پر بھاری ادائیگیوں سے بچ سکے۔ اسی طرح ٹرانسمیشن سسٹم کو اپ گریڈ کرنا ہوگا تاکہ پیدا ہونے والی بجلی مو¿ثر انداز میں ملک بھر تک پہنچ سکے۔ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے سمارٹ میٹرنگ اور ڈیجیٹل بلنگ متعارف کرانا بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی سولرائزیشن بھی ایک نئی حقیقت ہے۔ ہزاروں گھروں اور صنعتوں نے سولر سسٹم نصب کرلیے ہیں، جس سے قومی گرڈ کی طلب کم ہورہی ہے۔ اگر اس رجحان کو مناسب منصوبہ بندی کے بغیر جاری رکھا گیا تو مستقبل میں قومی گرڈ مزید مالی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو بیٹری سٹوریج، سمارٹ گرڈ اور جدید توانائی پالیسی پر توجہ دینا ہوگی۔

مزیدخبریں