فلسطین کی آنکھ سے بہتے آنسو !

09:36 AM, 25 May, 2025

غزہ کے بے قصور‘ نہتے‘ بے بس اور مجبور لوگوں پر اسرائیل کے مظالم جاری ہیں !
ہمارادل واقعتا خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ ہمارے کانوں میں معصوم پھولوں کی چیخ وپکار گونج رہی ہے۔ غزہ جو ایک ہنستا بستا شہر تھا اب کھنڈر بن چکا ہے ہر طرف ملبہ بکھرا ہو نظر آرہا ہے۔وحشت اس پر قہقہے لگا رہی ہے اور اپنی طاقت کے نشے میں انسانوں کا خون بہا رہی ہے۔ اس کے منہ کو لگنے والے خون کا سلسلہ نجانے کب تک جاری رہتا ہے کچھ معلوم نہیں کیونکہ فلسطینی اسرائیل کے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ روایتی ہتھیاروں سے نہیں کر سکتے۔ حماس کے پاس اگر میزائل و جہاز ہوتے تو اسرائیل کبھی بھی بدمست نہ ہوتا‘ دندناتا نہ پھرتا، بچوں بوڑھوں پر ظلم نہ ڈھاتا اور گھروں کو تہس نہس نہ کرتا۔ یہ اسرائیل جسے امریکا، برطانیہ اور فرانس کا پالتو کہا جاتا ہے عربوں کی سر زمین پر نمودار ہوا تو اس میں چپکے چپکے سے دنیا بھر سے یہودی آتے گئے اور بستیاں بساتے گئے۔ 
 انہوں نے اپنی کتاب ’’پروٹوکول‘‘ جو ان کا منشور ہے میں صاف کہہ دیا ہے کہ وہ پوری دنیا پر حکمرانی کریں گے۔اس کتاب کا مسودہ فرانس کے عجائب گھر میں محفوظ ہے وہ کہتے ہیں کہ معیشت اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے خواب کی تکمیل کریں گے ؟۔ ذرائع ابلاغ سے متعلق لکھا ہے کہ ان کے ہاتھ سیال سونا آگیا ہے جسے وہ اپنے مقصد کے لئے بھر پور طور سے استعمال میں لائیں گے لہٰذا دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے ابلاغی ذرائع رائے عامہ ہموار کر نے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ان کے اخبارات ہوں یا ٹی وی چینل ان میں چھپنے اور دکھائی جانے والی ہر ایک بات کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے یوں وہ آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں عربوں کی سر زمین پر ان کی پیش قدمی جاری ہے۔
ان کاجہاں جی چاہتا ہے بم اور میزائل گرا دیتے ہیں۔ اس اسرائیل کے پیچھے وہ تمام طاقتیں موجود ہیں جو مسلمانوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں وہ ان کے قدرتی ذرائع پر قابض ہونا چاہتی ہیں بلکہ 
ہو رہی ہیں یہی طاقتیں ان کے حکمرانوں کو اقتدار میں لاتی ہیں اور اس سے محروم بھی کرتی ہیں مگر افسوس کہ وہ بے حسی کے آخری درجے پر کھڑے ہیں وگرنہ اسرائیل جو فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے اسے تھوڑی ہی سہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔
اس قدر مظالم کہ جنہیں دیکھ کر دل دہل جا تا ہے جسم بے جان سا ہو جاتا ہے مگر انسانیت کے دشمن اسرائیل کو کوئی احساس نہیں وہ انسانوں کو خون میں نہلا کر خود کو بڑھانا و پھیلانا چاہتا ہے۔عربوں میں اتنی ہمت جرآت اور سکت نہیں کہ وہ اس کو دندان شکن جواب دے سکیں اگرچہ حماس کی طرف سے ایک محدود سی مزاحمت ہو رہی ہے مگر اس کے پاس اسرائیل ایسی ٹیکنالوجی نہیں لہذا وہ بھی اب شاید تھک چکی ہے یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یہودی فوج کی کارروائیاں تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔ اْدھر ایران کی مدد سے جو حریت پسند تنظیمیں صف آراء ہیں ان میں ابھی کچھ دم خم باقی ہے مگر مجموعی طور سے اسرائیل کے مقابل کوئی ایسی فوج نہیں جو اس کا خونی ہاتھ مروڑ سکے لہٰذا وہ فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے اب تک ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں یہ وہ ڈائن ہے جو بچوں کو بھی نہیں چھوڑ رہی۔ ہم وہ مناظر بھی دیکھ رہے ہیں جن میں مائیں رو رو کر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بیان کر رہی ہیں !
چند روز پہلے ایک ماں جس کی پکار نے دل کو دہلا دیا اور ہم اپنے آنسوؤں کو آنکھوں سے ڈھلکنے سے نہ روک سکے۔ وہ کہہ رہی تھیں ’’ ہم تھک چکے ہیں بس کر دو ہم پر سے ظلم روک دو !
اگر ہم پر رحم نہیں آتا تو ایٹم بم گرا کر ایک بار سب کو ختم کر دو ‘‘
کہاں ہیں وہ تہذیب یافتہ ممالک جو ایک پرندے کی اذیت پر مضطرب ہو جاتے ہیں مگر وہ آنکھوں کے سامنے انسانی اعضا فضاؤں میں اڑنے پر بھی غمگین نہیں ہورہے ان کے دل نہیں پسیج رہے۔ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے اس کی وحشت و دہشت میں کمی نہیں آرہی وہ مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے اور اس وقت تک جاری رکھنا چاہتا ہے جب تک وہ اس کو مکمل طور سے تباہ نہیں کر دیتا۔ جو ممالک آج یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرکے فلسطینیوں سے منہ پھیر کر سْکھ کی زندگی بسر کرسکیں گے تو وہ پرلے درجے کے احمق ہیں۔یہودیوں کا عالمی منصوبہ جسے وہ ہر صورت ممکن بنانا چاہتے ہیں اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دیکھ لیجئے پاک بھارت جنگ کے موقع پر اس نے اپنی موجودگی کو باقاعدہ ظاہر کیا۔ امریکا نے بھی اسے تھپکی دی لہٰذا دنیا کسی مغالطے میں نہ رہے بالخصوص مسلمان ملکوں کو جو اس کی راہ تک رہے ہیں محفوظ نہیں رہیں گے  اگر فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے اور اپنی حدود میں رہتا ہے تو پھر امن کی فاختہ ضرور گیت گا سکتی ہے مگر نظر آرہا ہے کہ اس کا وحشی پن ختم نہیں ہونے والا کیونکہ اس وقت جب تمام ملکوں کے امن پسند عوام فلسطین کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں وہ تب بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا بلکہ زیادہ شدت سے بربریت پر اترا ہوا ہے۔ہم لکھاری اہل غزہ کے لئے کیا کر سکتے ہیں صرف اس کے لئے چند جملے اور چند الفاظ ہی ہیں جو پیش کر سکتے ہیں۔
بہرحال وہ ممالک جو انسانیت کے لئے اپنے دل میں درد رکھتے ہیں صدائے احتجاج بلند کریں غزہ کے بے سہارا اور اپنوں کی لاشوں پر بین کرنے والوں کے لئے غذا پہنچائیں۔اگرچہ چین نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے مگر دوسرے بھی ایسا کر سکتے ہیں اگر اسرائیل کوئی رکاوٹ ڈالے تو کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا جائے۔چین کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ درندہ صفت اسرائیل کا گریبان بھی پکڑ سکتا ہے کیونکہ جب وہ بھارت کو طاقتور بنا کر خود اس کے سرھانے بیٹھنا چاہتا ہے تو پھر چین بھی اس کے قریب پہنچ سکتا ہے ۔
حرف آخر یہ کہ غزہ میں زندگی آخری ہچکیاں لے رہی ہے وہ جاں بلب ہے اس کی فضاؤں میں بارود کی ہی نہیں انسانی جسموں کے جلنے کی بھی بو پھیلی ہوئی ہے وہ لوگ جو ڈرے ہوئے ہیں سہمے ہوئے ہیں وہ کم از کم نفرت کااظہار تو کر سکتے ہیں اور اس ماں کی کلیجہ چیر دینے والی فریاد تو سْن سکتے ہیں جو کہہ رہی ہے کہ ’’ہم تھک چکے ہیں اگر ہم پر رحم نہیں آتا تو ہم پر ایٹم بم گرا کر ایک بار سب کو ختم کردو ‘‘۔

مزیدخبریں