حالیہ پاک۔بھارت سرحدی کشیدگی کے بعد سے الفاظ’ فالس فلیگ آپریشن‘ کا خاصہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ الفاظ کوئی نئی اصطلاح تو نہیں لیکن چونکہ حالیہ دنوں میں اس کا استعمال بڑھا ہے اس لیے سب لوگ اس کے مفہوم سے اچھی طرح واقف نہیں۔ فالس فلیگ آپریشن ایک خفیہ کارروائی ہوتی ہے جس میں کوئی ملک، تنظیم یا ادارہ ایسا حملہ یا واقعہ کرتا ہے جسے دیکھ کر ایسا لگے کہ وہ کسی اور نے کیا ہے۔ اس کا مقصد دھوکہ دینا اور دوسرے فریق پر الزام ڈالنا ہوتا ہے تاکہ سیاسی یا فوجی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
بھارت کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے اندر ہونے والی دہشتگردی کے واقعات کے نتیجہ میں اپنی ناکامی اور نااہلی تسلیم کرنے کے بجائے ہمیشہ اس قسم کے واقعات کو پاکستان سے جوڑ کر اپنے عوام اور دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
سال2008 میں ممبئی میں ہونے والی دہشتگری کو بھارت نے بغیر کسی تحقیقات کے فوری طور پر پاکستان سے جوڑ دیا تھا۔ پاکستان نے واقعے کی مذمت بھی کی اور مکمل تعاون کی پیشکش بھی کی لیکن بھارت کی بس ایک ہی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جائے۔اگرچہ، بعد ازاں، کچھ بھارتی صحافیوں اور سابق افسران نے اس واقعے میں داخلی کوتاہیوں اور سیاسی مفادات کی نشاندہی کی لیکن اس موقف کو کوئی اہمیت نہ دی گئی۔
اسی طرح سال 2016 میں پٹھان کوٹ اور اُڑی میں ہونے والے حملوں کا الزام بھی فوری طور پر پاکستان پر لگا دیا گیا، حالانکہ ان حملوں میں بھارت کی اپنی انٹیلی جنس ناکامیوں کے شواہد موجود تھے۔ پاکستان نے پٹھان کوٹ معاملے پر تحقیقاتی ٹیم بھیجنے کی پیشکش بھی کی جو ایک مثبت قدم تھا، لیکن بھارت نے تعاون کے بجائے الزام تراشی کی روش برقرار رکھی۔ سال 2019 میں پلوامہ حملہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشی کی بدترین مثال تھی۔ ایک خودکش حملہ جس میں چالیس سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے لیکن بغیر کسی تحقیقات کے اسے فوراً ہی پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔ بھارت نے ثبوت دیے بغیر بالاکوٹ میں فضائی حملہ کر دیا، جسے وہ’سرجیکل اسٹرائیک‘ قرار دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، بلکہ پاکستان نے نہ صرف بھارتی طیارہ مار گرایا بلکہ اس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار بھی کر لیاگیا جسے بعد ازاں واپس کر دیا گیا، جو یقینی طور پر پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی فتح تھی۔ واضح رہے کہ بھارت میں موجود حزب اختلاف کی جماعتوں اور میڈیا نے پلوامہ واقعے پر کئی سوالات بھی اٹھائے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ انتخابات سے عین قبل ایسا حملہ کیوں کیا گیا؟ کیا یہ واقعی دہشتگردی تھی یا انتخابی مقاصد کے حصول لیے ایک منصوبہ بندی؟لیکن ان سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب آج تک نہیں آ سکا۔
پاکستان نے FATF (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کی شرائط پوری کر کے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ ہے۔جبکہ اس کے برعکس، بھارت میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے اور اس کے تحت (بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں)اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اب تک تو یہ ہوتا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کی بڑی مارکیٹ اور سٹرٹیجک شراکت داری کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل حقائق کو نظرانداز کرتی ہیں۔ لیکن بھارت کی جانب سے پیدا کی گئی حالیہ کشیدگی اور اس کی حرکتوںاور رویوں کی وجہ سے اب دنیا کے بھارت کی طرف رویے میں خاصی تبدیلی آئی ہے ، اور آنی بھی چاہیے تھی کیونکہ اگر امریکہ، یورپی یونین، اور دیگر طاقتیں بھارت کی فالس فلیگ پالیسیوں پر آنکھیں بند رکھیں گی تو اس سے خطے میں امن کا قیام مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔
حالیہ پہلگام معاملہ میں چونکہ پاکستان کا دامن تو بالکل صاف ہے اسی لیے اس نے ہر قسم کی تحقیقات میں شامل ہونے اور اس میں تعاون کی پیشکش بھی کی تھی لیکن بھارت کی جانب سے اس کا کوئی مثبت جواب نہیں آیا ۔ اگر بھارت کسی بھی قسم کی تحقیقات کروانے میں معاون نہیں ہے اور مسلسل الزام تراشیوں اور جارحیت کا راستہ اپنائے ہوئے ہے تو کیا ایسی صورت میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے طور پر آزادانہ تحقیقات کروائیں تاکہ معاملہ کی حقیقت سامنے آ سکے؟۔
پاک۔بھارت کشیدگی میںبھارتی میڈیا کا کردار بھی ہمیشہ اشتعال انگیزی اور جنگی جنون کو ہوا دینے والا رہا ہے۔ کشیدگی کے دنوں میں یہ لوگ تو لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت آدھاپاکستان فتح کرنے کے دعوے کر کے سویا کرتے تھے لیکن جب صبح اٹھتے تھے تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی تھی، یہ لوگ تو جغرافیہ پڑھنے والے طالبعلموں کو مشورے دیا کرتے تھے کہ ابھی برصغیر کا جغرافیہ نہ پڑھیں کیونکہ ایک آدھ دن میں ، بقول ان کے، یہ مکمل طور پر بھارت کے حق میں تبدیل ہونے والا تھا۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس اور جب جارحیت کے جواب میں پاکستان کا جواب آیا تو انہیں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی اور یہ جنگ بندی کرانے کے لیے امریکہ اور دیگر ممالک کے ترلے کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
آفرین ہے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر کہ جنہوں نے نہ پہلے کبھی جھوٹے پراپیگنڈا کا کوئی جواب دیا اور نہ ہی اب ایسا کر رہے ہیں۔ لیکن بھارت کو یہ پیغام دینا بھی انتہائی ضروری ہے کہ ہماری مسلح افواج نے جو سبق ان کو پڑھایا ہے اسے ہر صورت میں اور ہر وقت یاد رکھنا ہے اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر یہ پاکستان کی مجبوری ہو گی کہ وہی سبق ایک مرتبہ پھر سے زیادہ بہتر انداز میں پڑھا دیا جائے۔
اس جنگی جنون کے پیچھے جانے بھارت کی کیا منصوبہ بندی تھی لیکن ہوا یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان ایک مضبوط اور طاقتور ملک کے طور پر سامنے آیا ہے، ہمارے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے سیاسی قد کا ٹھ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور ہمارے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کو وہ عزت اور مقام ملا ہے کہ جس کی کوئی بھی انسان صرف خواہش کر سکتا ہے اور آج وہ سینے پر فیلڈ مارشل کا تمغہ بھی سجائے ہوئے ہیں اور اس مقام پر ہیں کہ دنیا کی اہم ترین شخصیات بھی ان سے ملاقات کی خواہشمند ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف بھارتی جرنیلوں کو شرمندگی کے مارے منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی اور ان کا وزیر اعظم نریندر مودی اب سرنڈر مودی کا خطاب پا چکا ہے۔
بھارت کی حکمران پارٹی کو صرف میدان جنگ میں بدترین شکست کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا نہیں بلکہ ا سے مسلسل جھوٹ بولنے اور حقائق چھپانے جیسے جرائم کی پاداش میں شدید قسم کے عوامی ردعمل کا بھی سامنا ہے۔اس صورتحال میں اسے نہ صرف حکومت سے چھٹی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے بلکہ یہ بھی نوشتہ دیوار نظر آ رہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں تو وہ اپنا پتا بالکل ہی صاف سمجھیں۔
دنیا اگر واقعی اس خطے میں امن برقرار رکھنے کی خواہشمند ہے تو اسے بھارت کو پابند بنانا ہو گا کہ وہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے، جھوٹے الزامات، دھمکیوں اور فالس فلیگ آپریشنز جیسے اقدامات سے باز رہے اور پاکستان کے اس مؤقف کو تسلیم کرے کہ معاملات کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی ایشیا میں امن کی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے، بین الاقوامی برادری کو صرف جنگ بندی کے مطالبے اور نصیحتوں سے آگے بڑھنا ہو گا اور بنیادی مسائل، خاص طور پر مسلہ کشمیر کے دیرپا اور منصفانہ حل کے لیے فعال طور پر سہولت فراہم کرنا ہو گی۔
جنگی، سیاسی اور صحافتی محاذ پربھارت کی ناکامی
09:34 AM, 25 May, 2025