بھارت کو صرف زمین نہیں چاہیے، اسے دوسروں کی پہچان بھی ہضم کرنے کی عادت ہے۔ کبھی باسمتی پر ہاتھ صاف، کبھی ثقافت پر قبضہ، کبھی گانوں اور ڈیزائنز کی نقالی اور اب پاکستان کے کھیوڑہ نمک تک کو ”انڈین ہمالین سالٹ“ بنا کر دنیا کے سامنے بیچنے کی ڈھٹائی۔ یہ محض تجارتی دھوکا نہیں، یہ ایک منظم ذہنیت ہے جو چیز اپنی نہیں، اسے جھوٹ، لیبل اور مارکیٹنگ کے زور پر اپنی بنا لو۔ مسئلہ صرف نمک کا نہیں، مسئلہ اس سوچ کا ہے جو اصل کو مٹا کر نقل کو ”قومی کامیابی“ کے طور پر بیچتی ہے۔
پاکستان کا کھیوڑہ پنک سالٹ دنیا بھر میں خالص ہونے، معدنی افادیت اور منفرد رنگت کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ کھیوڑہ کان دنیا کے دوسرے بڑے نمک کے ذخائر میں شمار ہوتی ہے، جہاں تقریباً 220 ملین ٹن ذخیرہ موجود ہے، جبکہ سالانہ تقریباً 385,000 ٹن اعلیٰ معیار کا گلابی راک سالٹ پیدا ہوتا ہے۔ یہی نمک 80 سے زائد معدنی اجزاءسے بھرپور ہے اور اسی بنیاد پر عالمی منڈی میں ”ہمالین پنک سالٹ“ کے نام سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔ پاکستان نے اسے آئی پی او میں پی ایم ڈی سی کے ذریعے جغرافیائی شناخت (GI) کے طور پر رجسٹر بھی کر رکھا ہے۔ لیکن بھارت نے ایک بار پھر اپنی پرانی روش اپناتے ہوئے اس پاکستانی اثاثے کو تیسرے ممالک کے ذریعے حاصل کر کے ”انڈین ہمالین سالٹ“ کے نام سے پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں، ایک کاروباری جعلسازی ہے۔ بھارتی درآمد کنندگان پاکستان سے خام نمک کو متحدہ عرب امارات کے راستے صرف 60 سے 80 ڈالر فی ٹن کے حساب سے حاصل کرتے ہیں، پھر اسے نئی پیکجنگ، جعلی کہانی اور جارحانہ مارکیٹنگ کے ساتھ کئی گنا مہنگے داموں عالمی منڈی میں فروخت کرتے ہیں۔
پاکستان، جو اس نمک کا اصل مالک ہے، آج بھی زیادہ تر خام نمک برآمد کر کے سالانہ تقریباً 120 ملین ڈالر تک محدود ہے، جبکہ اسی مارکیٹ کی مالیت 2024 میں 238 ملین ڈالر تک جا پہنچی اور 2033 تک اس کے 327 ملین ڈالر تک بڑھنے کی پیش گوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اصل خزانہ پاکستان کا، کان پاکستان کی، شناخت پاکستان کی مگر منافع بھارتی جیب میں کیوں جا رہا ہے؟۔
بھارت کی یہ روش صرف غیر اخلاقی نہیں، بین الاقوامی تجارتی اصولوں کے بھی منہ پر طمانچہ ہے۔ WTO کے TRIPS معاہدے کے آرٹیکلز 22 سے 24 تک جغرافیائی شناخت کے غلط استعمال اور اصل مقام کے بارے میں گمراہ کن دعوو¿ں سے تحفظ دیتے ہیں۔
اگر پاکستانی کھیوڑہ نمک کو ”انڈین“ بنا کر فروخت کیا جا رہا ہے تو یہ محض برانڈنگ نہیں، یہ عالمی قانون کی روح کے خلاف ایک دھوکہ دہی ہے۔ تھائی لینڈ میں بھی غیر ملکی GI کو 2003 کے GI ایکٹ کے تحت تحفظ صرف رجسٹریشن کے بعد ملتا ہے، اور یہی وہ خلا ہے جس سے بھارتی تاجر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً متحدہ عرب امارات میں، یہی نیٹ ورک اس پاکستانی نمک کو پریمیم پیکجنگ کے ساتھ ”Indian Himalayan Pink Salt“ کے نام سے یورپ، امریکہ اور مشرقِ بعید تک پہنچا رہا ہے۔
بھارت کی اس عادت کی فہرست لمبی ہے۔ باسمتی چاول کے معاملے میں بھی اس نے یہی کھیل کھیلا۔ 2018 میں یورپی یونین میں خصوصی GI لینے کی بھارتی کوشش کو پاکستان نے سفارتی اور قانونی محاذ پر چیلنج کیا۔ پاکستان نے 2022 میں اپنا GI حاصل کیا اور 2025 میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں اہم قانونی کامیابیاں بھی سمیٹیں، جہاں مشترکہ ورثے کے اصول کو تسلیم کیا گیا۔ یہی مثال ثابت کرتی ہے کہ بھارت کے جھوٹے دعوے ناقابلِ شکست نہیں، بشرطیکہ پاکستان اپنے حق کے لیے ادارہ جاتی، قانونی اور سفارتی سطح پر جارحانہ حکمتِ عملی اپنائے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت نے ”نقل“ کو قومی پالیسی کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ دفاعی شعبے میں تیجس LCA کو ”میک اِن انڈیا“ کی شان بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا GE F404 انجن امریکی ہے اور اس کی بنیادی ٹیکنالوجی بیرونی انحصار سے آزاد نہیں۔ ثقافتی میدان میں بالی ووڈ پر بارہا پاکستانی گانوں اور دھنوں کی نقل کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 2025 میں”Danger“ (Param Sundari) کو پاکستانی ڈرامہ Mannat Murad کے ”Laal Suit“ سے مشابہ قرار دیا گیا، ”Bol Kaffara“ کے حوالے سے بھی مماثلت کی بحث رہی، جبکہ ”Pasoori“ اور کئی پاکستانی OSTs کی طرز پر بھارتی مواد سامنے آتا رہا۔ فیشن میں نکھل تھامپی سے لے کر بڑے ناموں تک، غیر ملکی اور علاقائی ڈیزائنز کی ”تخلیقی چوری“ پر سوالات اٹھتے رہے۔ حتیٰ کہ فروری 2026 کے India AI Impact Summit میں گالگوٹیا یونیورسٹی کو اس وقت سبکی اٹھانا پڑی جب چینی Unitree Go2 روبوٹک ڈاگ کو ”مقامی ایجاد“ کے طور پر پیش کرنے کی حقیقت کھل گئی۔
یہی بھارت کا اصل چہرہ ہے لیبل بدلو، کہانی بدلو، اور دنیا کو دھوکا دو۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر پاکستان خام مال بیچتا رہے گا اور دوسروں کو اپنی دولت پر ”برانڈنگ کی بادشاہت“ کرنے دے گا تو صرف شکایت سے کچھ نہیں بدلے گا۔ کھیوڑہ نمک کے معاملے میں پاکستان کو فوری طور پر عالمی سطح پر GI رجسٹریشن، خصوصاً تھائی لینڈ، یورپی منڈیوں، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقِ بعید میں قانونی تحفظ حاصل کرنا ہوگا۔ خام نمک کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات، پریمیم پیکجنگ، سرٹیفائیڈ اصل شناخت، جدید مارکیٹنگ اور سخت تجارتی نگرانی ناگزیر ہیں۔ یہ صرف معدنیات کی جنگ نہیں، یہ شناخت کی جنگ ہے۔
کھیوڑہ کا نمک پاکستان کی زمین کی خوشبو ہے، بھارت کے جھوٹے لیبل کی جاگیر نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان صرف احتجاج نہ کرے، بلکہ عالمی منڈی میں اپنا حق چھین کر لے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی پہچان کی حفاظت نہیں کرتیں، دنیا ان کے خزانوں پر دوسروں کے نام لکھ دیتی ہے۔
بھارت کا سفید جھوٹ، پاکستان کا گلابی نمک
09:04 AM, 26 Mar, 2026