دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے والا امریکہ آج پوری دنیا میں رسوائی کا شکار ہے جس نے ایران پر چڑھائی سے قبل چار دن میں کامیابی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن آج 25 دن بعد بھی اللہ کی مہربانی سے ایران سرخرو ہوا اور ٹرمپ جس نے ایٹمی بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی نے چند گھنٹے قبل ہی یکطرفہ طور پر ڈیڈلائن سے قبل ہی 5 دن کے لئے حملے روکنے کا اعلان کر دیا کیونکہ ایران پر حملے کے بدلے تہران نے بھی یورپ سمیت خلیجی ممالک کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی جس پر دنیا بھر میں بھونچال آ گیا، کچھ ملک جو ایران کی تباہی اور بربادی میں برابر کے شریک ہیں نے اپنے آقا ٹرمپ کو خطرات سے آگاہ کیا لیکن اصل کیا ہے وہ یہ کہ امریکہ کی ایٹمی بجلی گھروں پر دھمکی کے بعد ردعمل کے طور پر ایران نے جو ٹرمپ،خلیجی ممالک اور یورپ کی منجی ٹھونکنی تھی شاید اس کا اندازہ حواریوں کوبھی ہو گیا تھا جس پر 5 دن کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا جبکہ ایران سے امریکہ اسرائیل کو جتنی مار پڑی ہے شاید اس ہزیمت سے بچنے کے لئے ٹرمپ نے تاش کا پتہ پھینکا ہے ؟لیکن ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات دوسری طرف مزید جنگی سازوسامان مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا گیا جس سے نظر آ رہا ہے کہ ٹرمپ کی نیت میں کھوٹ ہے اور اب ٹرمپ ایک کمرے میں بیٹھا خودکلامی میں مصروف ہے کہ ایران میں رجیم چینج ہو گیا ایران کی قیادت کو ختم کر دیا تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے تہران کی بری اور بحری فضائی قوت کو ختم کر دیا وہ ٹرمپ جو ایران کو ختم کرنے نکلا تھا آج 25 دن بعد بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کیونکہ واشنگٹن نے اس بار غلط اندازہ لگا لیا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران میں ہائی کمان کو شہید کر دیا گیا انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا لیکن اس میں بھی کوئی دروغ گوئی نہیں کہ ایران کے جوابی وار سے اسرائیل لرز کر رہ گیا ہے اوراتنی تباہی ہوئی کہ صہیونیوں کو سیٹلائٹ سسٹم کو بین کرنا پڑا کہ دنیا کو تباہی نہ دکھائی جا سکے ہاں صرف ایران میں تباہی کو دنیا میں لایا جا سکے، انڈیا ٹوڈے کے صحافی کی رپورٹ ٹرمپ اور اس کے حواریوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے اس 25 روزہ جارحیت کے بدلے امریکہ کے روزانہ اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں اس وجہ سے ٹرمپ کو کانگریس سے مزید بھیک مانگنا پڑی ہے یہی نہیں مہنگائی کے طوفان نے عوام کو آ لیا ہے دوسری طرف ٹرمپ کی مقبولیت دن بدن کم ہو رہی ہے اور اب امریکہ میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ ایران پر حملہ بند کیا جائے جبکہ پٹرول مہنگا ہونے سے لوگوں میں جو لاوا پک رہا ہے اس کا خمیازہ ٹرمپ کو مڈٹرم الیکشن میں بھگتنا پڑے گا جنگ اچھی بات نہیں لیکن اگر کوئی جارحیت کرے تو اسے مزہ چکھانا لازم ہو جاتا ہے اسی طرح جیسے ایران امریکہ اور اسرائیل کو چکھا رہا ہے، امریکہ نے ایران پر چڑھائی سے قبل غلط اندازہ لگا لیا تھا کہ تہران نے تین دہائیوں سے اپنے میزائل سسٹم کو بام عروج پر پہنچایا ہے جبھی تو ٹرمپ کی اکڑن مٹی میں مل گئی جسے اپنی افواج اور ٹیکنالوجی پر بڑا ناز تھا، ایران کے ہاتھوں تباہ ہونے والے جہازوں کو فرینڈلی فائر قرار دیا جا رہا ہے، امریکہ کا میزائل سسٹم ریت کی دیوار ثابت ہو رہا جس پر امریکہ کو وختہ پڑ گیا اور ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا کیونکہ ڈیڈلائن سے چند گھنٹے قبل ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب دیکھنے والا ٹرمپ اب مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن ایران مذاکرات اپنی شرائط پر کرے گا جو اس کا حق بھی ہے اب دیکھیں کہ بھارت جیسا ملک جو پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست ثابت کرنا چاہتا تھا اب ثالثی کا کردارادا کر رہا ہے، وہ پاکستان جسے بھارت ایویں ای سمجھتا تھا وہ بھارت جس نے کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا آج رسوائی کا شکار ہے اور دنیا کی نام نہاد سپر پاور امریکہ پاکستانی حکومت، فیلڈ مارشل کے معترف ہے اور مذاکرات کے لئے بھی پاکستان کا چناﺅ کیا گیا کیونکہ جنرل (ر) حمید گل کہا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا کہ دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے، آج اللہ، رسول کی مہربانی سے وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے فیصلے اسلام آباد میں ہونے لگے ہیں،حضرت علامہ محمد اقبال نے بھی فرمایا تھا کہ :
پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّ
کیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائے
دیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائے
تہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جنیوا
شاید کُرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے!
آج بھی مسلمان ممالک تہران کا ساتھ دیں تو دنیا کبھی بھی ایران پر چڑھائی کرنے سے پہلے سو بار سوچے گی کیونکہ ایران ایک منظم قوم والا ملک ہے جو امریکہ سے ٹکر لے کر ثابت کر رہا ہے کہ وہ واقعی اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات مثبت ہونے چاہئیں ورنہ یہ جنگ خطے کے ممالک کو بھی لپیٹ میں لے گی پھرامریکہ بچے گا نہ یورپ اور نہ ہی خلیجی ممالک؟؟؟۔
امریکہ: دی اینڈ........؟
09:03 AM, 26 Mar, 2026