ایرانی نظام کی بقاکاصرف ایک ہی راستہ

09:03 AM, 26 Mar, 2026

پاکستان نے عالمی سیاست میں اپنی مہارت اور اسٹریٹجک بصیرت کے ذریعے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بحرانوں میں بھی ایک مو¿ثر اور ذمہ دار فریق کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور سول و عسکری قیادت کا لازوال تعاون، پاکستان کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک معتبر اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر منوا رہا ہے۔
 چند برس قبل پاکستان کو سفارتی دباﺅ اور معاشی مشکلات کے باعث عالمی تنہائی کا سامنا تھا، آج وہی ملک ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے ممکنہ کردار میں زیرِ بحث ہے۔ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس نے پاکستان کی عالمی اہمیت کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
 وزیر اعظم شہباز شریف نے کھل کر پیشکش کی کہ اسلام آباد مذاکرات کی بامعنی میزبانی کے لیے تیار ہے اور وہ ایک غیرجانبدار، مو¿ثر اور معتبر ثالث کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔
 یہ پیشکش نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو مضبوط کرتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے اس کے عزم اور بصیرت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس پیشکش کو دوبارہ شیئر کرنا، پاکستان کی ثالثی کی پذیرائی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی واضح دلیل ہے۔پاکستان کی یہ سفارتی پیشرفت خطے میں امن و استحکام کی طرف ایک روشن مثال کے مترادف ہے۔ آج جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان ایک خاموش تماشائی کے بجائے ایک فعال، ذمہ دار اور اثر و رسوخ رکھنے والے فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی دوران بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل 
طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ نریندر مودی کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی حکمت عملی کو بری طرح دھچکا لگاہے۔ بھارتی میڈیا اور اپوزیشن رہنما راہول گاندھی اور پون کھیڑا نے کھل کر اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی ایک مذاق بن چکی ہے اور وہ صرف امریکی اور اسرائیلی ہدایات پر عمل پیرا ہے، جبکہ پاکستان نے اپنی سفارتی میز پر مضبوطی سے اپنی جگہ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ عالمی سیاست میں سنجیدہ، ذمہ دار اور مو¿ثر فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر اسرائیل شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ اسرائیلی میڈیا چینل 12 اور یدیعوت احرونوت کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ''خراب'' ہو سکتا ہے، جو 60 فیصد افزودہ یورینیم کے 400 کلوگرام سے زیادہ ذخیرے کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہ جائے، جو تقریباً 11 جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ اگر یہ معاہدہ یورینیم کے اخراج، جوہری پروگرام کے خاتمے، میزائل پروگرام کی پابندی اور پراکسی گروہوں کی مالی امداد کے ختم کرنے میں ناکام رہا تو یہ معاہدہ حقیقی طور پر مو¿ثر نہیں ہوگا۔
یاد رکھیں ! چاہے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات میں کوئی بھی پیشرفت نظر نہ آئے ،لیکن پاکستان کی یہ سفارتی پیشرفت نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک روشن مثال ہے بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کو ایک معتبر، ذمہ دار اور اثر و رسوخ رکھنے والا فریق بھی ثابت کرتی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فتوحات کے بعد پسپائی کا زمانہ ہمیشہ سب سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوتا ہے، ایرانی تاریخ اس کی روشن گواہ ہے۔ ایران نے ماضی میں زیادہ تر جنگیں دوسروں کی زمین پر اپنے چھوٹے اتحادی گروہوں اور پراکسی طاقتوں کے ذریعے لڑی، جنہوں نے اپنے علاقوں کو میزائلوں، ڈرونز اور سرنگوں سے بھر کر دشمن کے ہر قدم کو مشکل اور ہر لمحے کو خطرناک بنا دیا۔ یہی حکمت عملی ایران کو اپنی طاقت برقرار رکھنے اور دشمن کو محتاط رکھنے میں مددگار ثابت ہوئی اور خطے کے تنازعات میں اس کی بقا کی علامت بنی۔اسی کے باعث ایران کو 15 نکات پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا زہر کا پیالہ پینے کے مترادف ہو گا لیکن ایرانی نظام کی بقا ان نکات کی قبولیت میں ہی مضمر ہے۔
اسرائیلی اور امریکی میزائل موسمِ بہار کے ہر اول دستے کی طرح ایرانی بستیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، بے یقینی کی فضا میں ایرانی عوام کے پاس بس آسمان کی طرف دیکھنے کے سوا کچھ نہیں ہے، جب رونق انتہا کو پہنچ جائے تو طاقتیں اور الفاظ، اپنے اصل معنی اور مفہوم بدل دیتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی المیے، قتل و غارت اور تباہ شدہ بستیوں کے نقوش آج بھی باقی ہیں، امریکہ جس چیز کو دہشت گردی کا نام دیتا ہے، اس کی اصل حقیقت تاریخ کے ہر ورق پر واضح نظر آتی ہے۔حافظے کی کمزوری کے باوجود دنیا نہیں بھولی کہ انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو سے نجات کے لیے پانچ لاکھ افراد کاقتل، عراقی بستیوں کی تباہی ، لبنانی گلیوں میں خون کی ہولی ،طرابلس اورلیبیا میں معصوم شہریوں اور بچوں کا قتلِ عام۔صدر قذافی کی اقامت گاہ پر بمباری ،کمپوڈیا اور لاﺅس کی دیواروں پر قتل و غارت کے نقوش آج بھی موجود ہیں۔ صومالیہ، سنگیانگ، سوڈان، ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے مقامات پر انسانی المیے کی تاریخ رقم کی گئی۔ اسرائیل نے صابرہ اور شطیلہ کے کیمپوں میں بچوں کے خون سے اپنے وحشت بھرے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا۔افغانستان میں آنسوﺅں اور آگ کے درخت کھڑے کر دیے گئے۔اس لیے ایرانی نظام کی بقا مذاکرات کی کامیابی میں ہی ہے،ورنہ تاریخ سامنے ہے۔

مزیدخبریں