قومی وحدت یا گروہی مفادات؟ فیصلہ اب ہمیں کرنا ہے

09:03 AM, 26 Mar, 2026

یہ ایک انتہائی افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج ہمارے اپنے ہی ملک میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ذاتی مفادات، محدود سوچ اور وقتی فائدے کی خاطر قومی وحدت کو داو¿ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پاکستان، جو بے شمار قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا، آج بھی اندرونی انتشار اور بیرونی سازشوں کی زد میں ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سازشوں کو تقویت دینے والے ہاتھ اکثر ہمارے اپنے ہی معاشرے سے اٹھتے ہیں۔
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف سے ایک مذہبی گروہ کے نمائندوں کی ملاقات کے بعد جو تاثر پیدا کیا گیا، اس نے نہ صرف عوامی سطح پر تشویش کو جنم دیا بلکہ ایک بار پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا کہ کیا ہم واقعی ایک قوم کے طور پر سوچ رہے ہیں یا پھر مختلف گروہوں میں بٹ کر اپنے ہی ملک کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں؟۔
بی بی سی کی رپورٹ میں جس انداز سے “ایران چلے جاو¿” جیسے جملے کو پیش کیا گیا، اس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ بعض حلقوں نے اسے ریاستی بیانیے کے خلاف ایک ثبوت کے طور پر پیش کیا، جبکہ دوسری جانب عسکری ذرائع نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آج کا دور اطلاعات کی جنگ کا دور ہے، جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا عام آدمی کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عسکری ذرائع کا یہ کہنا کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر ملاقات کے سیاق و سباق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، ایک نہایت اہم نکتہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ عناصر کون ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں جو ہمیشہ سے قومی بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟ کیا یہ وہی طاقتیں نہیں جو پاکستان کو اندرونی طور پر تقسیم دیکھنا چاہتی ہیں؟
دوسری جانب اس ملاقات میں شریک شیعہ عالم عارف حسین واحدی کا بیان ایک متوازن تصویر پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق “ایران کے وفاداروں کو پاکستان سے نکل جانے” والی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ گفتگو گلگت بلتستان میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے تناظر میں ہوئی تھی۔ 
یہاں اصل مسئلہ بیان کے ایک جملے یا ایک ملاقات کا نہیں، بلکہ اس بیانیے کا ہے جو مسلسل ہمارے معاشرے میں پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو لوگوں کو مذہب، مسلک اور علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو قومی مفاد کے بجائے ذاتی یا گروہی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کسی ایک مسلک، ایک گروہ یا ایک سوچ کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے، ایک مشترکہ شناخت ہے جس میں تمام مکاتبِ فکر، تمام زبانیں اور تمام ثقافتیں شامل ہیں۔ اگر ہم اس حقیقت کو فراموش کر دیں گے تو پھر دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، ہم خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی بنیادیں کھوکھلی کر دیں گے۔
آج سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس کا استعمال اکثر منفی مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھانا، جذبات کو بھڑکانا، اور نفرت کو ہوا دینا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ “ایران چلے جاو¿” جیسے جملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جہاں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کی جا سکے۔
یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے طرزِ فکر کا جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی پاکستان کی سالمیت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں؟ یا ہم انجانے میں ان قوتوں کا حصہ بن رہے ہیں جو اس ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں؟۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی یا امتیاز کو ختم کرے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رویوں میں توازن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہوتا ہے، مگر اسے دشمنی میں بدل دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔
پاکستان اس وقت جن چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان میں معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل شامل ہیں۔ ایسے میں اگر ہم داخلی انتشار کا شکار ہو جائیں تو یہ ہمارے لیے کسی بھی بیرونی خطرے سے زیادہ نقصان دہ ہوگا۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اندرونی طور پر متحد نہ ہو۔ اتحاد صرف نعروں سے نہیں آتا، بلکہ عملی اقدامات اور مشترکہ سوچ سے پیدا ہوتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ہر اس بیانیے کو مسترد کریں جو ہمیں تقسیم کرتا ہے، اور ہر اس سوچ کو فروغ دیں جو ہمیں ایک قوم بناتی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا ان عناصر کے ساتھ جو اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں صرف ایک ہی شناخت ہو .... پاکستانی۔ کیونکہ اگر ہم نے آج بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

مزیدخبریں