گزشتہ عید مبارک

09:06 AM, 26 Mar, 2026

عید کی بے شمار گُمشدہ روایات میں ایک آدھی جو ہمارے پاس بچ گئی ہے وہ عیدی دینے کی ہے، آج بھی ہمارے گھروں میں عید پر جو لوگ آتے ہیں یا ہم کہیں جاتے ہیں کسی نہ کسی صورت میں ایک دوسرے کو عیدی ضرور دیتے ہیں، بیگمات تو عید کے دن چڑھنے کا انتظار بھی نہیں کرتیں، وہ چاند رات کو ہی اپنی عیدی وغیرہ لے دے کے فارغ ہو جاتی ہیں، ظاہر ہے یہ اُن کا حق ہوتا ہے، ہم مردوں کے حقوق تو مُردوں کے حقوق کے برابر بھی اب نہیں رہے، بچوں کو عیدی دینے کی روایت ختم نہ ہونے کی مجھے بہت خوشی ہے، اس روایت کی خوبصورتی یہ ہے بچوں کو عیدی نہ دیں وہ خود ہی مانگ لیتے ہیں، عید کے اگلے روز معروف شاعر، کالم نگار و بیوروکریٹ رحمان فارس اور میرے بھائی ڈی آئی جی علی محسن کاظمی اپنی فیملیز کے ساتھ ہمارے گھر تشریف لائے رحمان فارس نے عید سے جُڑے کچھ گُمشدہ کرداروں کا ذکر چھیڑ دیا، اس ذکر میں خواتین کی تعریف کہیں نہیں تھی اس کے باوجود موقع پر موجود خواتین ہماری باتیں بڑے غور اور دلچسپی سے سُنتی رہیں، یہ اُن کا حوصلہ ہے ورنہ آج کل کی خواتین ایسی محفل میں ایک پل بیٹھنا پسند نہیں فرماتیں جہاں اُن کے حقوق کی بات نہ ہو یا اُن کی اندھا دُھند تعریفیں وغیرہ نہ ہو رہی ہوں، میری جب نئی نئی شادی ہوئی میری بیگم اکثر مجھ سے شکوہ کرتی ”آپ کیا منہ و دیگر اعضاءوغیرہ اُٹھا کے بیرون مُلک چلے جاتے ہیں مجھے ساتھ نہیں لیجاتے“، میں اُس سے کہتا ”بیگمات کو صرف حج اور عمرے پر ساتھ لیجاتے ہیں“، بعد میں ایسا واقعہ ہوا مجھے احساس ہوا انہیں حج اور عمرے پر بھی ساتھ نہیں لیجاتے، میں عمرے پر بیگم کو ساتھ لے گیا، عمرہ کر کے ہم خانہ کعبہ کے پاس آ کر بیٹھ گئے، بیگم میرے ساتھ جُڑ کے بیٹھی تھی، میں بڑی محبت اور عقیدت سے حجر اسود کی طرف دیکھے جا رہا تھا، دیکھے جا رہا تھا، اچانک میری بیگم نے زور سے مجھے موڈا (کاندھا) مارا اور غصے سے کہنے لگی ”اب تھوڑا میری طرف بھی دیکھ لو“، رحمان فارس نے عید سے جُڑے ایک گُمشدہ کردار ”ڈاکیے“ کا ذکر چھیڑ دیا، یہ بڑے مزے کا کردار تھا، خطوط کے علاوہ رمضان میں یہ ہمارے لیے عید کارڈز بھی لاتا تھا جو ہمارے دوست اور رشتہ دار عید پر ہمیں اور ہم اُنہیں بذریعہ ڈاک بھجواتے تھے، رمضان المبارک میں سب سے زیادہ خریداری عید کارڈز کی ہی ہوتی تھی، ایک دوسرے سے محبت کی یہ ایک بڑی نشانی تھی جو ہم سے اب واٹس ایپ پر بھجوائے جانے والے عید مبارک کے ایک ریڈی میڈ میسج نے چھین لی ہے، ڈاکیا بھی اب کہیں دکھائی نہیں دیتا، جگہ جگہ لیٹر بکس ہوتے تھے وہ بھی نظر نہیں آتے، رمضان میں سب سے زیادہ انتظار ڈاکیے کا رہتا تھا، وہ روزانہ کئی عید کارڈز گھر کے دروازے کے اندر پھینک جاتا، ہم دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے کہ ہمارے دوستوں اور رشتے داروں نے کیسے کیسے خوبصورت عید کارڈز ہمیں بھیجے ہیں، دو چار عید کارڈز بغیر نام پتے کے بھی آتے تھے، ہم سمجھ جاتے تھے وہ کس نے بھجوائے ہیں، ڈاکیے کے کردار کی اہمیت کا اندازہ آپ برسوں پہلے کے اس واقعے سے بھی لگا سکتے ہیں ایک لڑکی کا بوائے فرینڈ اپنی جاب کے لیے دبئی جانے لگا لڑکی نے رو رو کے بُرا حال کر لیا، کہنے لگی میں تمہیں نہیں جانے دُوں گی، میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی“، لڑکے نے اُسے سمجھایا کہ دیکھو میں باہر سے کچھ کما کر لاو¿ں گا پھر ہی ہم شادی کریں گے ناں، لڑکی مان نہیں رہی تھی، پھر اُس نے بوائے فرینڈ سے کہا ”اچھا میں صرف ایک شرط پر تمہیں جانے کی اجازت دُوں گی تم دبئی سے روزانہ مجھے خط لکھو گے“۔ لڑکا مان گیا اور وعدے کے مطابق بلا ناغہ روزانہ اُسے خط لکھتا رہا، دو برس بعد جب وہ چُھٹی پر پاکستان واپس آیا اُسے پتہ چلا اُس لڑکی نے ڈاکیے سے شادی کر لی تھی۔ بہرحال عیدالفطر پر ہم ڈاکیے کو بڑا مس کرتے ہیں، میں نے جب اس کا ذکر اپنے ایک دوست ”شیخ صاحب“ سے کیا وہ بولے ”میں تو بالکل مس نہیں کرتا“، میں نے وجہ پوچھی کہنے لگے ”ایسے ہی مفت میں اُسے عیدی دینا پڑ جاتی تھی“، عید پر شیخ صاحب ہمارے گھر تشریف لائے اُن کے دوہتے پوتے بھی ساتھ تھے، میں نے اُنہیں عیدی دی جواب میں شیخ صاحب نے میرے دوہتوں پوتوں کو صرف مسکرا کر دیکھا، شیخ صاحب جب چلے گئے میرے دوہتوں پوتوں نے مجھ سے پوچھا ”انکل شیخ نے ہمیں عیدی کیوں نہیں دی؟“، میں نے کہا ”شُکر کرو اُنہوں نے آپ سے عیدی نہیں مانگ لی“، میرا ایک دوہتا بولا ”دادا ابو یہ وہی انکل شیخ ہیں ناں جو پچھلے دنوں ہمارے گھر سے ہماری ایک کالی اصیل مرغی یہ کہہ کے اُٹھا کے لے گئے تھے کہ میں نے ایک بُرا خواب دیکھا ہے اس مُرغی کا میں نے صدقہ دینا ہے، اور صدقے کے لیے جب اُنہوں نے مرغی ذبح کی تھی اندر سے اُس کے کچے انڈے نکال کر اُن کا آملیٹ بنا کر کھا لیا تھا“۔ میں نے اپنے دوہتے کو بتایا ”بیٹا یہ وہ والے شیخ انکل نہیں تھے، یہ وہ والے شیخ انکل تھے جن کی بیگم اچانک وفات پا گئیں وہ بھاگتے بھاگتے نیچے آئے اور کچن میں روٹیاں پکاتی ہوئی اپنی بیٹی سے کہا ”پُتر ماں مر گئی اُو اج اوہدی روٹی نہ پکائیں“، عید پر جو دوسری روایت ختم نہ ہونے کی مجھے خوشی ہے وہ مہمانوں کی آمد کی ہے، لوگ اس موقع پر اچھے اچھے کھانے تیار کرتے ہیں، البتہ عید پر صبح سویرے مختلف اقسام کی سویاں بنانے کی روایت اب دم توڑتی جا رہی ہے، پہلے ہم عید کی نماز پڑھ کے، قبرستان میں حاضری وغیرہ دے کے گھر واپس آتے تھے ہمارے گھروں کی خواتین ہمیں سویاں کھلاتی تھیں، اب ہم جب گھر آتے ہیں ہماری اکثر خواتین گہری نیند سوئی ہوتی ہیں، چنانچہ ہم خود ہی روٹین کا ناشتہ انڈے ڈبل روٹی وغیرہ بنا کر گزارہ کر لیتے ہیں، ہم اپنی خواتین کو نہیں اُٹھاتے کیونکہ ہم نہیں چاہتے وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہو کر ہماری عید خراب کر دیں، ہمارے ایک بیوروکریٹ دوست کی ظاہری بیگم پچھلے دنوں رمضان میں انتقال فرما گئی تھی، میں نے اپنی بیگم سے کہا ”وہ کتنی اچھی بیگم تھی خود ہی انتقال فرما گئی ہیں“۔ عید کے روز ہم نے سوچا اُس بیوروکریٹ کو عید کی مبارک دے آتے ہیں اور اگر اُنہوں نے اجازت دی اسی بہانے اُن کی بیگم کا افسوس بھی کر لیں گے، ہم اُن کے گھر گئے، بیل دی، اللہ معاف کرے زیورات سے لدی پھدی ایک بہت ہی بدصورت لڑکی باہر آئی اور ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر چلی گئی، میری بیگم نے مجھ سے پوچھا ”یہ اُس بیوروکریٹ کی بیٹی تھی یا بہو؟“۔ میں نے کہا ”بیٹی ہی ہو گی بہو تو بندہ دیکھ کر لاتا ہے“۔
میں نے اپنی اس تحریر سے آپ کو تھوڑا بہت ہنسانے کی جو کوشش کی ہے اُسے میری طرف سے ”عیدی“ سمجھ کر قبول فرما لیں، اللہ آپ کو خوش رکھے۔

مزیدخبریں