”کھاندا وی اے تے گھوردا وی اے“

09:02 AM, 26 Mar, 2026


لاہور، جو پاکستان کا دل ہے، صرف تاریخی ورثے اور ثقافتی رونقوں کا شہر ہی نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کی روزمرہ جدوجہد کا مرکز بھی ہے۔ مگر اس شہر کے داخلی و خارجی راستوں، خصوصاً مختلف ناکہ جات پر جو صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے، وہ ایک سنجیدہ اور تشویشناک مسئلہ بن چکی ہے۔ لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم ناکہ جات اب صرف سکیورٹی چیک پوسٹس نہیں رہے، بلکہ ایک تلخ طنز بن چکے ہیں۔ شہری حلقوں میں یہ اصطلاحات گردش کر رہی ہیں کہ جہاں ”کمائی“ زیادہ ہو، اسے ”نیو یارک ناکہ“ کہا جاتا ہے، اور جہاں آمدن کم ہو، وہ ”لوکل ناکہ“ کہلاتا ہے۔ یہ نام خود اس نظام کی حقیقت کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ ادارہ جاتی کمزوری کی واضح علامت بھی ہے۔ پنجاب پولیس اور لاہور پولیس کے بعض اہلکار ناکہ ڈیوٹی کوعوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔ سفارشوں کے ذریعے من پسند ناکہ جات پر تعیناتی حاصل کرنا اور پھر وردی کی آڑ میں غیرقانونی وصولیاں کرنا ایک کھلا راز بن چکا ہے۔ عام شہری کے لیے یہ تجربہ اب اجنبی نہیں رہا۔ گاڑی روکی جاتی ہے، کاغذات چیک کرنے کا بہانہ بنایا جاتا ہے، اور پھر کسی نہ کسی انداز میں ”چائے پانی“ کا مطالبہ سامنے آ جاتا ہے۔ انکار کی صورت میں ہراسانی، تاخیر، یا غیر ضروری سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں قانون کی پاسداری کرنے والا شہری خود کو مجرم محسوس کرنے لگتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ سکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں، مگر ناکہ جات پر تعینات اہلکار اپنی اصل ذمہ داری یعنی عوام کے جان و مال کا تحفظ سے ہٹ کر ”آمدن“ بڑھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جب توجہ ڈیوٹی سے ہٹ کر پیسے جمع کرنے پر مرکوز ہو جائے تو سکیورٹی کا نظام خود بخود کمزور ہو جاتا ہے۔
پنجاب پولیس اور بالخصوص لاہور پولیس کا بنیادی مقصد شہریوں کی حفاظت، قانون کی عملداری اور امن و امان کا قیام ہے لیکن جب یہی ادارے عوام کے لیے خوف اور پریشانی کا باعث بن جائیں تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ آج کل یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ ناکہ جات پر تعینات بعض اہلکار اپنی اصل ذمہ داری یعنی سکیورٹی چیکنگ سے زیادہ توجہ غیرقانونی وصولیوں پر دیتے ہیں۔ شہریوں کی شکایات کے مطابق، گاڑی روکنا، کاغذات کی جانچ کے بہانے ہراساں کرنا، اور پھر ”چائے پانی“ کے نام پر رقم طلب کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس رویے نے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح کیا ہے بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ناکہ جات کا قیام سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی، جرائم اور دیگر خطرات کے پیش نظر ان کا ہونا ضروری ہے۔ مگر جب ناکہ اپنی اصل روح کھو دے اور محض کمائی کا ذریعہ بن جائے تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ افسرانِ بالا کی ذمہ داری صرف احکامات جاری کرنا نہیں بلکہ اپنے ماتحت عملے کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنا بھی ہے۔ اگر نگرانی کا نظام مو¿ثر ہو، احتساب یقینی بنایا جائے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہو تو صورتحال میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔ اصلاح کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ شہریوں کے لیے شکایتی نظام کو فعال اور قابلِ رسائی بنانا، دیانتدار اہلکاروں کی حوصلہ افزائی اور بدعنوانوں کی فوری برطرفی، افسران کی جانب سے اچانک معائنہ (Surprise check) آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پولیس اور عوام کا رشتہ اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ اگر یہی اعتماد ختم ہو جائے تو قانون کی عملداری بھی متاثر ہوتی ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ پنجاب پولیس اور لاہور پولیس اپنے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ ”کھاندا وی اے تے گھوردا وی اے“ جیسے جملے صرف طنز نہ رہیں بلکہ ایک ماضی کی کہانی بن جائیں۔
کیونکہ سوال اب بھی وہی ہے: آخر کب تک؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ افسرانِ بالا کہاں ہیں؟ نگرانی کا نظام کیوں مو¿ثر نہیں؟ اگر ماتحت عملہ کھلے عام ایسے رویے اپنائے اور کوئی احتساب نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو آنکھیں بند ہیں یا نظام کمزور ہو چکا ہے۔
اصلاح کی ضرورت اب فوری ہے، رسمی نہیں۔ ناکہ جات پر جدید نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے، اہلکاروں کی تعیناتی شفاف طریقے سے ہو، سفارش کلچر ختم کیا جائے، عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اور مو¿ثر نظام قائم کیا جائے، بدعنوان اہلکاروں کے خلاف نمایاں کارروائی کی جائے تاکہ دوسروں کے لیے مثال قائم ہو۔
یہ کالم صرف ایک تنقید نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے، جس میں وہ حقیقت نظر آ رہی ہے جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ”نیو یارک ناکہ“ اور ”لوکل ناکہ“ جیسے نام محض مذاق نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہیں جو اپنی اصل روح کھو چکا ہے۔ اب فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وردی کا احترام بحال کیا جائے گا یا یہ اعتماد اسی طرح ناکوں پر کھڑا ہو کر لٹتا رہے گا۔ کیونکہ سوال اب بھی وہی ہے، آخر کب تک؟

مزیدخبریں