"جاگیردارانہ سوچ اختیارات کی منتقلی میں رکاوٹ ہے"، ایم کیو ایم کا 28 ویں ترمیم لانے کا پرزور مطالبہ

01:32 PM, 25 Mar, 2026

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی قیادت نے کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں فوری طور پر 28 ویں آئینی ترمیم لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت عوام کو بااختیار دیکھنا چاہتی ہے، مگر مخصوص سیاسی ٹولہ اس کی راہ میں حائل ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ     ہم اپنے حصے کا اختیار براہِ راست عوام کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ نچلی سطح پر مسائل حل ہو سکیں۔    ملک میں موجود جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والی جماعتیں اختیارات کی منتقلی کی سخت مخالف ہیں کیونکہ وہ اقتدار پر قبضے کو دوام دینا چاہتی ہیں۔    28 ویں ترمیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو بلدیاتی نظام کو مستحکم اور بااختیار بنا سکتا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ اب ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ اس جنگ کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، تاہم صورتحال انتہائی نازک ہے۔مارکیٹوں اور شہروں میں لاک ڈاؤن کی باتیں گردش کر رہی ہیں، جو معاشی اعتبار سے تشویشناک ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت موجودہ کٹھن حالات میں ملک کی سلامتی کے لیے حکومت کی تمام مثبت کاوشوں اور فیصلوں میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی استحکام کے لیے کام کریں۔

مزیدخبریں