اسلام آباد : پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی 'آئرن لیڈی' آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھیوں کو 30، 30 سال قید کی سزا سنانے کے بھارتی فیصلے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ مودی سرکار عدلیہ کے کندھے پر رکھ کر کشمیریوں کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ دہلی کی عدالت کا یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی ایک اور بدترین مثال ہے۔ بھارت مسلسل "کالے قوانین" کا سہارا لے کر حریت قیادت کو انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کے خلاف یہ سزائیں سراسر سیاسی بنیادوں پر مبنی اور غیر قانونی ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی ان من مانیوں اور کشمیری قیادت کے خلاف ہونے والی عدالتی ناانصافیوں کا فوری نوٹس لے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ جب تک عالمی سطح پر بھارت کا محاسبہ نہیں کیا جائے گا، وہ اسی طرح بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتا رہے گا۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا تاکہ دنیا کو بھارتی مظالم کا اصل چہرہ دکھایا جا سکے۔
آسیہ اندرابی کی سزا 'انصاف کا قتل' ہے، پاکستان نے بھارتی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا
11:48 AM, 25 Mar, 2026