واردات کیا ہے؟

09:59 AM, 25 Mar, 2025

نوے کی دہائی میں ملک کے چند شہروں میں کچھ ایسی وارداتیں ہونے لگیں کہ سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ ملک کے جس شہر میں بھی یہ وارداتیے موجود تھے وہ واردات ڈالنے سے پہلے اپنے پروگرام کو بڑی ذہانت سے ترتیب دیتے تھے۔ یہ لوگ خوبصورت کوٹھی یا مکان اپنے ایریا میں کرائے پر لیتے تھے۔ اس مکان میں اس وقت کے لحاظ سے تمام سہولیات میسر کرتے تھے۔ ڈرائنگ روم میں ونڈو اے سی، صوفوں، قالینوں کے بچھانے کا بندوبست کرتے۔ چائے کیلئے ٹی بوائے ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ باورچی بھی ہوتا تھا۔ ان واداتیوں کے چند آدمی کسی بیوپاری، زمیندار، کھاد آئل ڈیلر، گھی، چینی ڈیلر یعنی کاروباری نوعیت کے اعتبار سے کسی کاروباری شخص سے رابطہ کرتے کہ ہمارے پاس اتنی پروڈکٹ ہے۔ ہمیں ایمرجنسی میں بیچنی ہیں۔ آپ چیک کر لیں۔ ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے۔ ہم بیچنا چاہتے ہیں اور مارکیٹ سے رعایتی قیمت پر دیں گے، کاروباری شخص کو ہمیشہ سے یہی لالچ ہے کہ کم قیمت پر پروڈکٹ خرید کر محفوظ کر لے اور بعد میں مارکیٹ کی مقررہ قیمت پر بیچتا رہے گا۔ ان کے اصول کے مطابق خریدار مقررہ وقت پر ان کے پاس جاتا وہ وارداتیے پروڈکٹ انہیں دکھاتے اور اس کے بعد وہ لوگ اس شخص کو اپنے ڈرائنگ روم میں لے جاتے۔ اس کی خوب خاطر تواضع کرتے۔ اس کے ساتھ بھرپور اپنائیت کا اظہار کرتے۔ اس شخص کے سامنے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کرتے اور اسے اپنا گرویدا بنا لیتے۔ خریدار ان کی اِن تمام ادائوں سے خاصا متاثر ہو کر واپس آتا۔ چند دنوں بعد خریدار سودا طے کرنے اور پے منٹ کرنے کیلئے کہتا۔ یہ وارداتیے حضرات سودا خریدار کی مرضی کی جگہ پر طے کرتے اور پے منٹ کیلئے ڈرائنگ روم کا انتخاب کرتے تھے۔ اب اصل ڈرامہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ جب خریدار پے منٹ کیلئے آتا تو پہلے اس کی مہمان نوازی شروع کرتے۔ اسی اثنا میں ایک شخص سوٹڈ بوٹڈ ہو کر، عینک پہن کر، خوشبو سے لبریز بریف کیس کے ساتھ اندر داخل ہوتا۔ وہ انہیں بٹھاتے اور حال احوال پوچھتے اور چائے پیش کرتے۔ چائے پینے کے دوران وہ شخص اجنبی سا ہو کر پوچھتا کہ حاجی صاحب نظر نہیں آ رہے۔ ایک شخص نہایت افسردہ اور غگمین ہو کر کہتا کہ حاجی صاحب پچھلے ہفتے اچانک چل بسے۔ وہ شخص افسوس کا اظہار کرتا اور حاجی صاحب کی روح کو ایصال ثواب کیلئے ہاتھ اٹھا لیتا۔ دعا کے بعد وارداتیے اس شخص سے پوچھتے کہ حاجی صاحب سے کوئی کام تھا۔ وہ شخص حاجی کی دوستی کی کئی مثالیں پیش کر کے کہتا کہ میں فلاں شہر سے ہوں اور کبھی کبھار آتے جاتے ان کے پاس ٹھہر جاتا تھا۔ حاجی صاحب اور میں رات تاش کی بازی لگاتے اور گپ شپ کرتے تھے۔ وارداتیوں میں سے ایک کہتا ہے کہ آپ ہمیں ہی حاجی صاحب سمجھ لیں۔ ہم بازی لگا لیتے ہیں۔ آپ ہمیں اپنا ہی سمجھیں۔ وہ سوٹڈ بوٹڈ شخص کہتا ہے کہ حاجی صاحب سے تو اور طرح کی بازی لگاتے تھے؟ آپ سے تو بکل نہیں کھلی۔ میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہوں۔ جواب آتا ہے کہ کوئی بات نہیں ہم بھی وہ بازی لگا لیتے ہیں، چار لوگ تاش کی گیم شروع کر دیتے ہیں اور اس خریدار سمیت باقی لوگ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، گیم شروع ہوتے ہی سوٹڈ بوٹڈ شخص جیتنا شروع کر دیتا ہے۔ پانچ سات بازیوں میں وہ ان سے ساری رقم بٹور لیتا ہے۔ اب تاش بازوں میں سے ایک کہتا ہے کہ ہماری ایک شرط ہے کہ تم پانچ لاکھ کی بازی لگائو نہیں تو ہمارے جیتے ہوئے سارے پیسے واپس کرو، نہیں کرو گے، تو آپ ہماری پناہ میں ہیں۔ ہم جیسا چاہیں گے آپ سے سلوک کریں گے، اب وہ شخص جھوٹ موٹ کا خوفزدہ ہوتا ہے، منت سماجت کرتا ہے۔ مگر وہ نہیں مانتے۔ اب وہ شخص پیسے گنتا ہے تو اڑھائی لاکھ بنتے ہیں، وہ طے شدہ سکیم کے تحت خریدار کو باہر لے جا کر کہتا ہے کہ آپ اڑھائی لاکھ کے حصے دار بن جائیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں میں جیت رہا ہوں۔ جیتنے پر آپ کے اڑھائی لاکھ کی واپسی کے ساتھ آدھی جیتی ہوئی رقم بھی آپ کی ہو گی، بڑے بڑے عقل مند لالچ میں آ جاتے ہیں، خریدار مان جاتا ہے۔ دوبارہ کھیل شروع ہونے پہلے وارداتیے ایک کونے میں یا کھڑکی کے باہر ایک فوٹو کیمرا والا کھڑا کر دیتے تھے کہ تصویر بنا لیں، گیم شروع ہوتے ہی پہلی بازی میں ہی سوٹڈ بوٹڈ شخص ہار جاتا ہے اور ہارا ہوا پانچ لاکھ وارداتیوں کے سپرد کر کے واپس نکل جاتا ہے۔ خریدار ہکا بکا رہ جاتا ہے کہ پل بھر میں یہ کیا ہو گیا ہے؟ تب اسے ساری کارروائی کی سمجھ آ جاتی ہے، پھر خریدار اپنی رقم کی واپسی کیلئے پرے، پنچایت، تعلق واسطہ استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے، وارداتیے تصویریں دکھا کر ثابت کرتے ہیں کہ یہ شخص خود جوئے میں شریک تھا۔ مقدر والا وہ شخص سمجھا جاتا تھا جو اپنی آدھی رقم واپس لینے میں کامیاب ہوتا تھا۔ وارداتیوں کے ساتھ ساتھ اس کاروبار میں پولیس، علاقے کے رسہ گیروں اور بدمعاشوں کا بھی حصہ ہوتا تھا کیونکہ وہ وارداتیوں، کے حمایتی ہوتے اور انہیں شیلٹر دیتے تھے۔ یہی حال اس ملک کے ساتھ واردیاتیوں نے کیا ہے؟ کسی نے آدھی رات اس ملک پر قبضہ کیا اور کسی نے جعلی مینڈیٹ کے ساتھ ہلہ بول دیا؟ کسی نے کسی طاقت کے ساتھ ساز باز کر کے حکومت حاصل کی اور کسی نے فارم سنتالیس کا سہارا لیا، کسی نے آدھی رات واردات ڈال کے پیٹرول مہنگا کیا؟ بے وقوف عوام ان وارداتوں سے بے خبر رہے؟ دو بار پیٹرول اپنی مرضی کا مہنگا کر کے اور تیسری بار اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر سستا کر کے واردات ڈال دیتے ہیں؟ اگلی بار گیس مہنگی کر کے واردات ڈال دیتے ہیں۔ تیسری بار بجلی مہنگی کر کے واردات ڈال دیتے ہیں۔ اسی اثنا میں ادویات کی کمپنیاں وادات ڈال دیتی ہیں۔ اس کے بعد جس تاجر کا جتنا دل چاہتا ہے۔ اتنی واردات ڈال دیتا ہے۔ ان سب وارداتیوں سے تو وہ وارداتیے اچھے تھے جو کم از عورتوں اور بڑوں بزرگوں کی لاج رکھ کر لوٹی ہوئی آدھی رقم واپس کر دیتے تھے۔ مگر یہ تو تنکا بھر بھی لوٹ کا مال واپس نہیں کرتے۔ یہ حکومتیں ان وارداتیوں سے بڑی وارداتیں ڈالتی ہیں۔

مزیدخبریں