ابو سفیان اپنی صاحبزادی ام المومنین ام حبیبہؓ کے دولت خانہ پر: … ابو سفیان مدینہ پہنچے تو سیدھے رسول خداﷺ سے گفتگو کرنے کی بجائے ادھر ادھر کی سن گن لینے کا منصوبہ بنا کر اپنی دختر ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے دولت خانہ پر آئے۔ قریش کے معاملہ میں رسول اللہﷺ کے رجحانات کا اندازہ ام المومنینؓ کو بھی تھا۔ لیکن آنحضرتؐ کے ارادہ کی اطلاع نہ تھی۔ اپنے والد کو آتا دیکھ کر ام المومنین ؓ نے رسول اللہﷺ کا بستر سمیٹ لیا۔ ابو سفیان نے کہا ’’کیا یہ بستر تمہارے باپ کے شایاں نہیں یا تمہارا باپ اس بستر پر بیٹھنے کے قابل نہیں؟‘‘ فرمایا ’’یہ بستر رسول اللہﷺ کا ہے۔ آپ مشرک نجس ہیں۔ مجھے گوارا نہیں کہ آپ اس بستر سے مس کریں!‘‘۔ ابو سفیان جھلا کر بولے ’’بیٹی! میرے بعد تمہیں شر سے دوچار ہونا پڑے گا‘‘۔ غضب ناک ہو کر ام المومنینؓ کے دولت خانہ سے باہر آئے اور رسول خداﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مدت صلح میں توسیع کی استدعا کی، مگر رسول اللہﷺ نے مثبت یا منفی کوئی جواب نہ دیا۔
ابو سفیان حضرت ابو بکرؓ کے ہاں باریاب ہوئے کہ ان سے سفارش کرائیں۔ انہوں نے بھی انکار فرما دیا۔ یہاں سے جناب عمر بن الخطابؓ کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے فرمایا ’’میں اور تمہارے لیے سفارش! البتہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے میں برائے نام فائدہ کی توقع بھی ہو تو میں اس سے دریغ نہ کروں گا‘‘۔
ابو سفیان دولت کدۂ علی بن ابی طالبؓ میں:
سیّدہ فاطمہؓ بھی تشریف فرما تھیں۔ ابو سفیان کی اسی درخواست پر بی بی نے نہایت نرم انداز میں فرمایا ’’رسول اللہﷺ جب کسی کام کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اس سے کوئی شخص آپؐ کو نہیں روک سکتا‘‘… ابوسفیان: مجھے حسنؓ (بن علی) کی پناہ میں دے دیا جائے … سیّدۃ الزہرا: رسول اللہﷺ کے خلاف کوئی شخص کسی کو پناہ نہیں دے سکتا … علیؓ: ابوسفیان تمہارے لیے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی چونکہ تم بنو کنانہ کے سردار ہو مدینہ کے کسی مناسب مقام پر کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ ’’صلح قائم ہے‘‘ اور اس کے بعد فوراً واپس چلے جاؤ۔ (ابوسفیان نے جب واپس آ کر مکہ میں اپنے ساتھیوں سے ماجرا بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ سے مذاق کیا ہے)
٭فتح مکہ کی تیاریوں کے نام
٭مکہ کی طرف کوچ کی گھڑیوں کے نام
٭اسلامی لشکر میں شامل مہاجر، انصار، بنو مسلیم، بنو مزمینہ، عظفان و دیگر شرکاء کے نام جن کی چلتے چلتے تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اِس لشکر میں شامل ہر فرد، ہر ہستی، ہر سواری کے نام
٭حضرت عباسؓ کے قبول اسلام کے نام
٭آقاؐ کی ناقہ بیضا کے نام
٭رحمت اللعالمینؐ کی تمام عالمین کے لیے عنایات کے نام:
فتح مکہ کے دوران راستہ میں ایک مقام پر ایک کتیا نے بچے جنے ہوئے تھے۔ آقاؐ نے لشکر کو کم و بیش ایک سو گز راستہ تبدیل کرنے کا حکم دیا اور یوں لشکر نے راستہ بدل لیا کہ کتیا پریشان نہ ہو۔
٭فتح مکہ کے لیے روانہ لشکر کے نام
٭الاؤ کے لیے رسول اللہﷺ کے لشکر کے ہر شریک کو چولہا رکھنے کے حکم اور اس حکم کے مطابق مکہ کے قریب دس ہزار چولہوں کے الاؤ سے رات کی تاریکی میں پیدا ہونے والے منظر کے نام جس سے دشمنان اسلام کے دل دہل گئے۔
٭آقا کریمﷺ کے سیاہ عمامہ کے نام جو اُس روز سرکارﷺ نے خود باندھا ہوا تھا…
٭آقا کریمﷺ کے خیمۂ اقدس میں حضرت عباسؓ، ابو سفیان اور حضرت عمرؓ کے درمیان اور ابوسفیان کے قبول اسلام تک کے مکالمہ کے نام
٭کعبہ پر پہلی نظر پڑنے والی ساعتوں کے نام
٭صحابہ اجمعینؓ اور لشکر اسلام کے شرکاء کی خانہ کعبہ پر پڑنے والی پہلی نظر سے دلوں کو پہنچنے والی مسرت کے نام
٭حضرت خالد بن ولیدؓ کے رسالے پر عکرمہ، سہیل اور صفوان کے دستے نے حملہ کیا اور جواب میں اٹھائی جانے والی ذلت و رسوائی کے نام
٭سرکارﷺ کے فرمان ’’اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے‘‘ کے نام
٭جنت المعلیٰ کے نام جس کے قریب حضرت ابو رافع ؓ نے سرکارؐ کے لیے خیمہ لگایا تھا۔
٭قصواء کی قسمت کے نام جس پر اس وقت آقا کریمؐ سوار اور شکر و ثنا میں مشغول تھے
٭حضرت ابو قحافہؓ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کی ہمشیرہ قریبہ کے قبول اسلام کے نام
٭خیمہ رسولﷺ کے نام
٭رسول اللہﷺ کے لیے لگائے گئے خیمہ میں اُس وقت موجود جناب ام المومنین حضرت ام سلمیٰؓ، ام المومنین حضرت میمونہ ؓاور جناب سیّدہ فاطمۃ الزہرؓکے نام
٭کچھ دیر بعد خیمہ میں پہنچنے والی حضرت ام ہانیؓ کے نام
٭قصوا آہستہ آہستہ چل کر آئی حضرت ابو رافعؓ نے آگے بڑھ کر مہار پکڑی آقا کریمؓ نیچے اترے اور خیمہ میں داخل ہو گئے اُن مبارک ساعتوں کے نام
٭ سرکارؓ نے غسل فرمایا، غسل سے بچا ہوا پانی حضرت بلالؓ باہر لائے تو پانی کی ایک ایک چھینٹ، ایک ایک بوندھ کو ترسنے والے بے قرار صحابہ اجمعینؓ کی بے قراری کے نام جو پانی کی ایک چھینٹ کے لیے ٹوٹ پڑے۔ حضرت ابو حجیفہؓ نے ہجوم کو نظم و ضبط دیا مگر پانی برتن، کاسوں، ہاتھوں، آنکھوں، سینوں، چلوؤں چہروں پر مل لینے والے صحابہؓ کے نام، ایک ایک چھینٹ کو کل کائنات سے زیادہ قیمتی سمجھ کر سمیٹ لینے والوں کے نام۔ اُس پانی کی ایک ایک چھینٹ، ایک ایک بوند کی مہک کے نام۔ (جاری ہے)
فتح مکہ کی شروعات کے نام
09:58 AM, 25 Mar, 2025