’’مہا بحران ‘‘ اور بی بی سی کی کارستانیاں

09:57 AM, 25 Mar, 2025

بی بی سی کو دنیا میں صرف ایک نشریاتی ادارے کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اِس کی حیثیت کسی آخری سچ جیسی ہے ۔ لوگ بی بی سی کا حوالہ ایسے دیتے ہیں جیسے یہ کوئی الہامی ادارہ ہے اور اِس کی خبر اور خبریت میں کسی قسم کا مبالغہ یا شک کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جب لوگوں کی بی بی سی کے ساتھ مکمل آشنائی ہوئی تو اِن کی خبر وں کا معیار یہ ہوا کرتاتھا کہ :’’ برطانیہ کی بہادر افواج جرمن فوج کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے بیس میل پسپا ہو گئیں ۔‘‘اب اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ برطانیہ کی بہادر افواج کس بہادری اورجوانمردی سے پسپا ہوئی ہوں گی ۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں تو بی بی سی نے بھارتی افواج کو لاہو ر کے جمخانہ کلب میں چائے پینے تک کی نا صرف خبر چلا دی تھی بلکہ ایک بس جو بھارتی فوج کو کہیں سرحدی علاقے سے ملی اپنے چینل پر چلا کر اپنی خبر کی تصدیق بھی کر رہی تھی۔اُس وقت پاکستانی اوورسیز کی کیا حالت تھی وہ بتانے کیلئے بھی بڑے دل گردے کی ضرورت ہے ۔ والد مرحوم اُس زمانے میں کویت میں ہوا کرتے تھے اور پاکستانیوں بلکہ لاہوریوں کی ایک کثیر تعداد بھی وہاں روزگار کے سلسلہ میں قیام پذیر تھی ۔لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں سوچ سوچ کر پاگل ہو رہے تھے ۔دیواروں میں ٹکریں مار رہے تھے اپنے بیوی بچوں کی کوئی خیر خبر موصول نہیں ہو رہی تھی ۔ایسے حالات کو آج بھی چشم تصور سے ناصرف دیکھا جا سکتا ہے بلکہ محسوس بھی کیا جا سکتاہے ۔ بی بی سی ایک مرتبہ پھر بلوچستان اورخیبر پختون خوا کے حوالے سے پاکستان ریاست مخالف خبریں چلانے اور بلوچ انتہا پسندوں کو پرموٹ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ اس میں پاکستان کے کچھ صحافی بھی اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈال رہے ہیں لیکن کیا یہ کھیل اتنا آسان ہے کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت کو شکست دے کر اس خطے میں سکون قائم کرلیا جائے گا ؟ بلوچوں کے سیاسی بیانیے کاساتھ ہمیشہ پنجاب نے دیا ہے اور اُس کے بدلے میں بلوچ انتہا پسندوں نے ہمیں پنجاب کے مزدوروں کی لاشیں ہی بھیجی ہیں۔ اہلِ تشیع مسلمانوں کے قتل کے واقعات رونما ہو ئے ہیں ۔ افواجِ پاکستان پر حملے کیے گئے ہیں۔ پنجاب کو کم ریونیو دے کر بجٹ میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے باوجود بلوچوں میں نفرت کا بیچ بونے والوں کو کھلے عام پاکستان بھر میں کام کرنے کی اجاز ت ملی ہوئی ہے جو میری سمجھ سے باہر ہے ۔بی بی سی کی رپورٹنگ میں کبھی بھارتی حکومت اور ’’را‘‘ کو اُس طرح موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا جیسے وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں ۔ اُن کے اُن ڈیوٹی افسران پاکستان کے جغرافیہ میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے پائے گئے ہیں ۔ اُن کے پائلٹ ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے گرفتار ہوئے ہیں لیکن اس پربی بی سی نے ہمیشہ اپنی رپورٹنگ میں بھارت کیلئے نرم رویہ ہی رکھا ہے۔ خالصتان کی تحریک میں جرنیل سنگھ بھنڈراں والا اور اُس کی ساتھیوں پر نازل ہونے والی قیامت پر بھارتی ریاست بارے بی بی سی کا رویہ دوستانہ ہی رہا بلکہ خالصتان تحریک کو نقصان پہنچانے کیلئے بھی اُن سے جو بن پایا وہ بھی کسی سے بعید نہیں ۔ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے ساتھ جو بھارتی سرکار اور وہاں کے ہندو انتہا پسندوں نے کیا وہ بھی الگ سے ایک تاریخ ہے لیکن بی بی سی اور انٹرنیشنل میڈیاکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ بھارتی ریاست ناگا لینڈ نے نہ صرف علیحدگی کا اعلان کیا بلکہ اپنا قومی ترانہ بھی جاری کردیا لیکن بی بی سی کیلئے یہ کبھی ’’ گرم خبر‘‘ نہیں تھی ۔ 
بھارت کو تو چھوڑیں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور پاکستان چیخ چیخ کر دنیا کو بتا تا رہا ہے اور آج بھی بتا رہا ہے لیکن آپ کو بی بی سی کی ویب سائیڈ پر کبھی فتنہ ء خوارج اور طالبان کی پاکستان میں در اندازی کے حوالے سے شاید ہی کوئی خبر ملے البتہ پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی کو سرحدی جھڑپوں کا نام ضرور دیا جائے گا ۔ میں یہ لکھ لکھ کر تھک گیا ہوں کہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر امریکی اور اسرائیلی آشیر باد سے پاکستان کے خلاف ہر سازش میں ملوث ہے جس میں بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی ٗ پی ٹی آئی کی ملک دشمن پالیسیاں ٗ فتنہ خوارج کی پشت پناہی سب شامل ہے لیکن نہ جانے کیوںاِن کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟اب تو پنجاب میں بلوچ اور پختون طلبا ء مل کر ضلع ملتان میں احتجاج کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔ بلوچ لبریشن آرمی کا ٹرین پرحملہ اور مسافروں کو شہید اور اغوا کرنے کے معاملہ پر مہ رنگ بلوچ کی مجرمانہ خاموشی اُسے انسانوں کے بنیادی حقوق کی تنظیموں کی نظر میں مشکوک بنا رہی تھیں کیونکہ ابھی تک ایک تو مہ رنگ نے اُس دہشتگرد تنظیم کی کوئی مذمت نہیں کی جس کو پروان چڑھانے میں اُس کا باپ اور بھائی شامل تھے دوسرا اُس کا اپنا نوبل پرائز مشکوک ہوتا دیکھ کر پاکستانی ریاست کے خلاف وہ ڈرامہ کیاکہ ریاست کو اُسے گرفتار کرنا پڑا اور حامد میر جیسے صحافی پھر اُس کی مدد کو آن پہنچے اور عالمی میڈیا پھر اُس کی گرفتاری پر شور مچانا شروع ہو گیا ۔ہم آہستہ آہستہ 
ایک’’ مہا بحران ‘‘ کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن ہمارے ریاستی اقدامات اس قدر سُست ہیں کہ مجھے ہر گزرتا دن تاخیر کا احساس شدت سے دلا رہا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی مہ رنگ بلوچ کا عسکری چہرہ بن کر سامنے آ چکا ہے جیسے فتنہ خوارج اِس وقت پوری طاقت کے ساتھ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا نے افغانیوں کو پاکستانی شہریت دینے کا بیان داغا اور اب پی ٹی آئی کے سابق ترجمان بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ اگر وفاق خیبر پختون خوا کو اجازت دے تو وہ افغانستان سے بات کرکے حالات بہتر کرسکتے ہیں ۔اتنے وثوق سے وہی شخص حالات کی بہتری کی گارنٹی دے سکتا ہے جس کے فریق ثانی سے تعلقات بہت زیادہ ہیں ۔ دوسری طرف مہ رنگ بلوچ نے بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھ کھڑے ہو کراپنے عزائم کا اظہار کردیا ہے سو اب ریاستِ پاکستان کی باری ہے کہ ہم نے اِن سازشوں کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ بلوچ سیاستدانوں کے ساتھ تو سیاسی بات ہو سکتی ہے لیکن کسی لبریشن آرمی سے بات کرنا افواجِ پاکستان کو بے توقیر اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے موقف کو مضبوط کرنے کے مترادف ہو گا۔

مزیدخبریں