حسینؓ :مقدس خون سے لکھی تاریخ

09:31 AM, 26 Jun, 2026


محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی اسلامی تاریخ کا وہ باب آنکھوں کے سامنے کھل جاتا ہے جسے پڑھتے ہوئے دل بوجھل اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ۔ روح پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ یہ کسی ایک جنگ کی داستان نہیں اورنہ ہی یہ صرف اقتدار کے حصول کی کوئی سیاسی کشمکش تھی۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے حق، صبر، استقامت اور قربانی کے مفہوم کو ہمیشہ کے لیے نئی زندگی عطا کر دی۔جب بھی 10 محرم کا ذکر آتا ہے تو ذہن خود بخود کربلا کے اس تپتے ہوئے میدان میں پہنچ جاتا ہے جہاں فرات کا پانی لہریں لے رہا تھا مگر رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور ان کے اہلِ خانہ پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ ریت جل رہی تھی، سورج آگ برسا رہا تھا اور تاریخ اپنے سب سے المناک منظر کی تیاری کر رہی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت امام حسینؓ کے بارے میں فرمایا تھا:”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔“ایک اور حدیث میں حسنؓ اور حسینؓ کو جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا گیا۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس شخصیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے یہ الفاظ موجود ہوں اس کے ساتھ کربلا میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک سیاسی واقعہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟۔
کربلا کو بعض لوگ ”دو شہزادوں کی جنگ“ کہہ کر اس کی معنویت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ صرف اقتدار کی جنگ ہوتی تو امام حسینؓ کے پاس سمجھوتے کے بے شمار راستے موجود تھے۔ وہ بیعت کر کے اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ کر سکتے تھے ¾اپنی جان بچا سکتے تھے اور آرام و سکون کی زندگی گزار سکتے تھے مگر کربلا کی اصل روح اقتدار نہیں بلکہ اصول تھا ¾ تخت نہیں بلکہ حق تھا ¾یہ رسول ِ ہاشمی کی اولاد تھی جن کے ایک ہاتھ پر سورج اوردوسرے پرچاند بھی رکھ دیا جائے تو حق سے دستبردار نہیں ہوتے ۔تاریخ کے بعض اوراق ہمیں بدر اور احد تک بھی لے جاتے ہیں۔ بدر کے میدان میں قریش کے بڑے سردار عتبہ اور شیبہ مارے گئے۔ وہ ہند بنت عتبہ کے والد اور بھائی تھے۔ بعد ازاں احد کے معرکے میں حضرت حمزہؓ کی شہادت کے بعد ہند کے رویے کو اسلامی تاریخ جاہلیت کے انتقام کی ایک تلخ مثال کے طور پر یاد کرتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عرب معاشرہ قبائلی عصبیتوں اور نسل در نسل چلنے والی دشمنیوں سے اٹا پڑا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے ان تمام زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کی۔ رسول اللہ ﷺ نے خون کے بدلے خون اور قبیلے کے بدلے قبیلے کی نفسیات کو ختم کرنے کا پیغام دیا۔آپ نے خون کا بدلا خون کو دورِ جاہلیت کی رسم قرار دیتے ہوئے اپنے چچا زاد بھائی ابن ربیعہ کا قتل معاف کیا لیکن انسانی تاریخ میں بعض زخم نسلوں تک اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔اسی لیے بعض م¶رخین نے کربلا کے پس منظر میں پرانی قبائلی رقابتوں اور بنو ہاشم و بنو امیہ کے تعلقات کا بھی ذکر کیا ہے، اگرچہ کربلا کو صرف اسی زاویے سے دیکھنا ایک بہت بڑا تاریخی سادہ کاری ہوگا لیکن کربلا کے پس منظرمیں اس سے انکار بھی ممکن نہیں۔ کربلا کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔ 61 ہجری میں جب محرم کی10 ویں کی صبح طلوع ہوئی تو حسینؓ کے پاس دنیاوی طاقت نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان کے ساتھی مٹھی بھر تھے جبکہ مخالف لشکر ہزاروں پر مشتمل تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انسان ایک موقف کا نام ہے تعدادکا نہیں مجھے آج یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ حسین ؓ وہ موقف تھا جو حریت فکر کا چراغ قیامت کی صبح تک روشن کرتا رہے گا ۔ایک ایک کر کے ساتھی شہید ہوتے گئے ¾بزرگ بھی ¾جوان بھی اوراہلِ بیت کے چراغ بھی۔ لیکن قاتل اپنی تمام ترحکمت ِ عملیوں اور ریاستی طاقت کے باوجود خونِ حسین ؓ کی اُس خوشبو کو پھیلنے سے نہ روک سے جو آج بھی دنیا بھرمیں حریت اور حق پسندوں کا خون گرمانے کے کام کررہی ہے ۔حسین ؓ مسلمانوں کے اجتماعی ضمیرکی امامت ہے اوراہل اسلام کیلئے حق کا حقیقی رستہ قرار پایا ہے ۔آج حسینی ہونا فخر کی بات ہے اور اس کیلئے اہل ِ تشعیہ ہونا ضروری نہیں کیونکہ حسین ؓ کی مسالک رسول اللہ کا دین تھا۔ امام الانبیاءکی پیروی تھی ۔
ہر شہادت کے ساتھ خیموں میں ایک نئی آہ بلند ہوتی تھی۔ ہر لاش کے ساتھ ایک ماں، ایک بہن یا ایک بیٹی کا دل ٹوٹتا تھا۔پھر وہ منظر آیا جسے یاد کر کے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے ۔ حوض کوثر کے مالک کی خیر کثیر چھ ماہ کے علی اصغرؓپیاس سے نڈھال ایک معصوم بچہ ¾جنگ کی سیاست سے بے خبر ¾اقتدار کے جھگڑوں سے ناواقف ¾صرف پانی کا طلب گاراور روایات کے مطابق جب انہیں پانی دلانے کی کوشش کی گئی تو ایک تیر نے اس معصوم کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔شاید یہی وہ لمحہ تھا جب انسانیت خود اپنے وجود پر شرمندہ ہو گئی۔
اس کے بعد علی اکبرؓ کی شہادت، اہلِ بیت کے نوجوانوں کی قربانیاں اور پھر امام حسینؓ کا تنہا میدان میں رہ جانا، تاریخ کے وہ مناظر ہیں جنہیں بیان کرتے ہوئے الفاظ بھی لرزنے لگتے ہیں۔پھر وہ آخری لمحہ آیا ¾ریت پر ایک سجدہ ¾خون میں ڈوبا ہوا ایک سجدہ ¾ایسا سجدہ جو چودہ سو برس بعد بھی زندہ ہے۔ یقینا یہی وہ سجدہ ہے جو ہزار سجدوں سے نجات دلاتاہے۔تلواریں اپنا کام کر گئیں لیکن تاریخ کا فیصلہ تلواروں نے نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے کروڑوں انسان یزید کے لشکر کے کسی سپاہی کا نام نہیں جانتے مگر حسینؓ کے بہتر ساتھی تاریخ کے ماتھے پر لکھے ہیں ¾ اُن کا نام عقیدت، احترام اور محبت سے لیا جاتا ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق ہمیشہ اکثریت کا محتاج نہیں ہوتا۔ بعض اوقات حق ایک تنہا انسان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور باطل ہزاروں کے لشکر کے ساتھ۔محرم ہمیں صرف رونا نہیں سکھاتا، سوچنا بھی سکھاتا ہے۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ دانشمندی نہیں ہوتی۔ یہ سکھاتا ہے کہ اصول کبھی کبھی جان سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت وقتی ہوتی ہے مگر کردار دائمی ہوتا ہے۔آج جب دسویں محرم آتی ہے تو صرف کربلا کی ریت نہیں روتی، پوری انسانیت کے ضمیر میں ایک ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ فرات کی لہریں آج بھی گویا یہ سوال کرتی محسوس ہوتی ہیں کہ کیا طاقت ہی حق ہے یا حق ہی اصل طاقت ہے؟کربلا اس سوال کا جواب ہے۔ایک ایسا جواب جو خون سے لکھا گیا۔ایک ایسا جواب جسے وقت مٹا نہ سکا۔اور ایک ایسی داستان جو قیامت تک انسانیت کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ سچائی کی حفاظت کبھی کبھی اپنے سب سے قیمتی اثاثوں کی قربانی مانگتی ہے۔سلام ہو حسینؓ پر۔سلام ہو ان کے اہلِ بیت پراور سلام ہو کربلا کی اس ریت پر جس نے وفا، صبر، استقامت اور حق گوئی کی لازوال داستان اپنے سینے میں محفوظ کر رکھی ہے۔

مزیدخبریں