واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور تہران کی جانب سے بڑی رعایتیں دی جا رہی ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی ٹول ٹیکس یا اضافی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین راستہ ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور وہاں کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے نیٹو اور یورپی اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے دوران امریکا کو مطلوبہ حمایت نہیں ملی۔ انہوں نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کے کردار پر مایوسی کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران امریکی کسانوں سے خوراک خرید سکتا ہے اور اس کی ادائیگی منجمد اثاثوں کے بجائے دیگر ذرائع سے کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو منجمد اثاثوں میں سے کوئی رقم جاری نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاملات کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔