گلگت بلستان کے انتخابات اپنے عروج و زوال کی منازل طے کرتے ہوئے آخرکار ایک خوشگوار احساس کے ساتھ اختتام پزیز ہوئے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ اور سپیکر منتخب ہوچکے جب کے ڈپٹی سپیکر کا عہدہ مسلم لیگ نون کے حصے میں آیا ۔پاکستان کی سیاست میں بعض انتخابات صرف نشستوں کا حساب نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے سیاسی رجحانات کی سمت بھی متعین کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ بظاہر یہ ایک علاقائی اسمبلی کا انتخاب تھا مگر اس کے نتائج نے اسلام آباد کے سیاسی ایوانوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) جس نے پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کی سیاست میں قدم رکھا تھا اپنی کمپیئن سے لے کر نتائج تک حیران کر دینے والی کارکردگی دکھائی ¾یقینا جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔ اسمبلی میں پہنچنے والے ممبران میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 13 ¾ مسلم لیگ نون کے 9 جبکہ استحکام پاکستان پارٹی جس نے الیکشن میں 86 ہزار ووٹ حاصل کیے آزاد امیدواروں نے عبد العلیم خان پر اعتماد کرتے ہوئے آئی پی پی کوجوائن کیااوریوں آئی پی پی کے 6 ارکان گلگت اسمبلی میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ محض 6نشستیں نہیں بلکہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کا ایک سیاسی پیغام ہے اوراستحکام پاکستان پارٹی کے بہترین مستقبل کا اشارہ بھی ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی 33 ارکان پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل نشستیں، 6 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 ٹیکنوکریٹس و پیشہ ور افراد کی مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ مخصوص نشستوں کی تقسیم جنرل نشستوں کے تناسب سے 4 پیپلز پارٹی کو جبکہ مسلم لیگ (ن) اور آئی پی پی کے حصے میں ایک ایک سیٹ آئی ۔ ٹیکنو کریٹس کی نشیتوں پرابھی تک الیکشن کمیشن کی ویب سائیڈ پرکوئی نام نہیں لکھا ہوا ۔
میرے لئے یہ خوشگوار حیرت ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے صدر آئی پی پی عبد العلیم خان کو خود فون اورعبد العلیم خان کی طرف سے بھی مثبت جواب نے آئی پی پی کو پاکستان کی دوبڑی جماعتوں کا اتحادی بنا دیا ہے اور یہی وہ بات ہے جو میں نے الیکشن سے پہلے لکھی تھی کہ عبدالعلیم خان کو اللہ نے بدترین حالات میں بھی بہترین فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال کررکھا ہے ۔اس سوال کا جواب محض اعدادوشمار میں نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ پیپلز پارٹی اس وقت گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے سب سے مضبوط امیدوار تھی لیکن دوسری طرف آئی پی پی اگرچہ نشستوں کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹی قوت ہے مگر اس کی اہمیت ''کنگ میکر'' کی بنا پر ہی سامنے آئی ۔ پیپلز پارٹی اور آئی پی پی کے درمیان تعاون نے نہ صرف حکومت کو مزید استحکام دیدیا ہے بلکہ وفاقی سیاست میں بھی نئے سیاسی تعلقات کی بنیاد رکھ دی ہے۔عبدالعلیم خان کی سیاست کو اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئی جماعتیں اکثر شخصیات کے گرد وجود میں آتی رہی ہیں مگر ان میں سے بہت کم ایسی ہوتی ہیں جو اپنے قیام کے ابتدائی دور میں ہی کسی منتخب ایوان میں قابل ذکر نمائندگی حاصل کر سکیں۔ استحکام پاکستان پارٹی ابھی اپنی شناخت کے مرحلے میں ہے اس کے باوجود گلگت بلتستان میں اس کا پارلیمانی وجود قائم ہونانہ صرف ایک اہم سیاسی کامیابی ہے بلکہ پارٹی کے سائز کو بڑاکرنے اورکشمیر انتخابات میں اس سے کہیں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے کی بنیاد فراہم ہو چکی ہے۔عبدالعلیم خان نے گزشتہ چند برسوں میں خود کو صرف پنجاب کے سیاست دان کے طور پر محدود نہیں رکھا بلکہ قومی سطح پر اپنی جماعت کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ گلگت بلتستان میں 5 آزاد ارکان کا آئی پی پی میں شامل ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی صرف انتخابی نشان تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ سیاسی کشش پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہے۔ یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست روایتی طور پر بڑی جماعتوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی بات کی جائے تو اس کے لیے یہ انتخاب مکمل ناکامی نہیں کہا جا سکتاکہ 9 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بننا یقینا سیاسی موجودگی کا ثبوت ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) وہ کارکردگی نہ دکھا سکی جس کی توقع وفاقی حکومت کی جماعت ہونے کے ناطے کی جا رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ نگار یہ سوال زیر بحث لارہے ہیں کہ کیا مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں اپنی تنظیمی قوت کو مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچا سکی؟ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعاون کی بھی گنجائش موجود ہے۔ وفاق میں دونوں جماعتیں پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی ورکنگ ریلیشن شپ رکھتی تھیں اس لیے گلگت بلتستان میں بھی ایسی کسی مفاہمت کو غیر متوقع قرار نہیں دیا جا رہا تھا۔
گلگت بلتستان کے ووٹر نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ قومی سیاسی رجحانات سے الگ نہیں رہتا۔ اگر پیپلز پارٹی یہاں اپنی حکومت مستحکم بنانے میں کامیاب رہتی ہے تو اس کا نفسیاتی اثر آزاد کشمیر کی سیاست پر بھی پڑے گا۔ دوسری جانب آئی پی پی کی غیر متوقع پیش رفت آزاد کشمیر میں بھی ان سیاست دانوں کو حوصلہ دے سکتی ہے جو روایتی جماعتوں سے ہٹ کر نئی سیاسی جگہ تلاش کر رہے ہیںاوراِس حوالے سے لا تعداد سیاستدانوں نے توخود میرے ساتھ رابطے کیے ہیں کہ عبد العلیم خان سے ملاقات کروا دیں لیکن عبد العلیم خان اوراُس کے قریبی ساتھی جن میں مرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد ¾ صدر پنجاب رانانذیر اورجنرل سیکرٹری پنجاب وایم پی اے پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی انتہائی چابک دستی سے اپنے سیاسی امورسرانجام دے رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کے نتائج نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سیاست اب صرف دو یا تین بڑی جماعتوں تک محدود نہیں رہی۔ نئی جماعتوں کے لیے بھی سیاسی جگہ موجود ہے، بشرطیکہ وہ تنظیم، قیادت اور حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں۔ آئی پی پی کی کامیابی اسی حقیقت کا اظہار ہے۔عبدالعلیم خان کے لیے یہ لمحہ یقیناً سیاسی اطمینان کا باعث ہوگا۔ تاریخ ایسے مواقع کو محض نشستوں کی تعداد سے نہیں ناپتی بلکہ ان امکانات سے جانچتی ہے جو ایک نئی سیاسی قوت پیدا کرتی ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں آئی پی پی کی موجودگی اس جماعت کے لیے پہلی پارلیمانی دستک ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں سیاسی مورخ یہ لکھیں کہ برف پوش پہاڑوں کی سرزمین گلگت بلتستان وہ مقام تھا جہاں استحکام پاکستان پارٹی نے اپنی پارلیمانی شناخت کی پہلی مضبوط اینٹ رکھی تھی۔سیاست میں بعض کامیابیاں تعداد سے بڑی ہوتی ہیں۔ عبدالعلیم خان کی حالیہ کامیابی بھی انہی میں سے ایک دکھائی دیتی ہے۔ یہ صرف چند نشستوں کا قصہ نہیں بلکہ ایک نئی سیاسی قوت کے ظہور کی داستان ہے۔ اور پاکستان کی سیاست میں نئی داستانیں ہمیشہ مستقبل کے نئے ابواب لکھا کرتی ہیں۔
آئی پی پی : کشمیر الیکشن کیلئے پُر عزم
09:12 AM, 25 Jun, 2026