ر
بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک کامیاب سفارتی کوشش برسوں پر محیط تنازعات کا رخ بدل دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی نسبتاً پرسکون فضا، ایران اور امریکہ کے درمیان تناو¿ میں کمی کے آثار اور خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی رابطوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے بھی متوازن سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے مو¿قف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حالیہ بین الاقوامی سطح پر سرگرم سفارت کاری اور پاکستان کے قومی مفادات کے حوالے سے واضح مو¿قف نے ملک کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایسے وقت میں جب خطہ جنگی ماحول سے نکل کر معاشی تعاون کی جانب دیکھ رہا ہے، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنتا دکھائی دیتا ہے۔ تقریباً تین دہائیوں سے پابندیوں، سیاسی اتار چڑھاو¿ اور عالمی دباو¿ کے درمیان رکا ہوا یہ منصوبہ آج ایک نئے امکان کے ساتھ سامنے کھڑا ہے، جو نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے خطے کی اقتصادی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایران اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کا تصور نیا نہیں۔ 1994ءمیں پہلی مرتبہ ایران سے پاکستان گیس پائپ لائن بچھانے کی تجویز سامنے آئی۔
1995ءمیں اس منصوبے پر باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہوا اور اسے بعد میں "امن پائپ لائن" کا نام دیا گیا۔ اس وقت یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ مشترکہ اقتصادی مفادات خطے میں سیاسی تنازعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
2008ءاور 2009ءمیں مذاکرات نے رفتار پکڑی جبکہ 2010ءمیں پاکستان اور ایران نے گیس سیلز پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کا سنگِ میل قرار دیا گیا۔ تاہم عالمی پابندیوں، مالی مشکلات اور بین الاقوامی سیاسی دباو¿ کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
2013ءمیں ایرانی صدر محمود احمدی نڑاد اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے مشترکہ طور پر منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اسے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے باب کی شروعات قرار دیا گیا۔ ایران نے اپنی سرزمین پر پائپ لائن کا کام مکمل بھی کر لیا، لیکن پاکستان میں منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا اور یوں ایک تاریخی موقع ضائع ہوتا نظر آیا۔
جہاں تک اعداد و شمار کا تعلق ہے، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں روزانہ تقریباً 750 ملین مکعب فٹ گیس پاکستان کو فراہم کر سکتا ہے، جبکہ بعض منصوبہ جاتی دستاویزات میں اسے بعد میں 1 ارب مکعب فٹ یومیہ تک بڑھانے کی گنجائش بھی بیان کی گئی ہے۔
آج 2026ءمیں حالات کئی حوالوں سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، دنیا توانائی کے بحران، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غیر یقینی عالمی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ پاکستان کو سستی اور مستقل توانائی کی اشد ضرورت ہے جبکہ ایران اپنے وسیع گیس ذخائر کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے۔ یہی مشترکہ ضرورت دونوں ممالک کو ایک بار پھر قریب لا رہی ہے۔
ماضی اور حال کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ آج خطے کے ممالک اقتصادی تعاون کو پہلے سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ 1990ءاور 2000ءکی دہائی میں جغرافیائی سیاست معاشی مفادات پر حاوی تھی، لیکن اب توانائی، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری ترقی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
تاہم ماضی کا تجربہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ صرف اعلانات اور معاہدے کافی نہیں ہوتے۔ 2010ءکے معاہدے اور 2013ءکے افتتاح کے باوجود منصوبہ مکمل نہ ہو سکا تھا۔ اس لیے موجودہ قیادت کے لیے اصل امتحان سیاسی عزم، سفارتی مہارت اور معاشی منصوبہ بندی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 1994ءمیں شروع ہونے والا یہ خواب آج بھی اپنی تکمیل کا منتظر ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت، علاقائی سفارت کاری پاکستان کی ترقی کا سامان پیدا کر سکتا ہے ایران پاکستان گیس پائپ لائن محض توانائی کا منصوبہ نہیں رہے گی بلکہ اسے خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
امن کا راستہ، خوشحالی کا سف
09:10 AM, 25 Jun, 2026