ایران کی پارلیمنٹ نے آئی اے ای اے سے تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی

01:25 PM, 25 Jun, 2025

تہران : تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کی ایک اہم کمیٹی نے انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی کے مطابق، کمیٹی نے پیر کے روز ایک طویل اجلاس کے بعد یہ بل منظور کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جاتی، تب تک عالمی جوہری ایجنسی سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جائے گا۔

اس بل کے تحت ایران آئی اے ای اے کو اپنی جوہری سائٹس پر کیمرے لگانے کی اجازت نہیں دے گا، نہ ہی معائنہ کاروں کو رسائی دے گا اور نہ ہی کوئی رپورٹ فراہم کرے گا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکا نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — کو اپنے بی-ٹو بمبار طیاروں سے نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی ایٹمی طاقت کو ختم کر دیا گیا ہے، مگر ایران نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے پاس افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے۔ اب یہ بل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کو بھیجا جائے گا، جہاں سے منظوری کے بعد یہ باقاعدہ نافذ العمل ہوگا۔

مزیدخبریں