اپنے حصّے کی شمع

09:02 AM, 25 Jun, 2025

بنیادی ضروریات ِ زندگی کی عدم دستیابی میں مبتلا کیفیت کوعام طور پر غْربت کا نام دیا جاتا ہے مگر غْربت کی کوکھ سے پھوٹنے والے پسِ پردہ ہولناک مسائل بڑے غمگین ہیں۔ معصوم بچوں، خواتین، معذور اور عمر رسیدہ افراد کو غربت کا لقمہ تر بنتے ہوئے دیکھنا میری زندگی کے تلخ تجربات میں شامل ہے۔ ایک اچھا بھلا خاندان کسی بیماری میں مبتلافردکے علاج کے لیے اپنے قیمتی اثاثے تک بیچ دیتا ہے اور پھر مالی مشکلات کا شکار ہوجانے کے بعد گزر بسر مشکل ہوجاتا ہے جس کے بعد بچوں کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے، گھر میں بھوک، افلاس اور پریشانیوں کا مستقل بسیرا رہتا ہے اور بے یقینی اور مایوسی کی آلودہ  فضاء میں سانس لیتے خاندان بیماری، جہالت، مفلسی، افسردگی، معذوری اور خوراک کی کمی جیسے غْربت کے ایک بے رحم دائرے میں گھومتے رہتے ہیں اور اِ ن کے اِس’جْرمِ غریبی‘‘کی سزا کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتی ہے۔
پاکستان میں ِاِ س بے قابو غربت کو لگام ڈالتے ہوئے اِس کی ظالمانہ موجوں میں ہچکولے کھاتی ہوئی انسانیت کو بچانے اور انہیں دوبارہ سے زندگی کے سفر پررواں دواں رکھنے کے لیے ایک فلاحی ادارے کی اشد ضرورت کو پاکستان بیت المال کے قیام کی صورت میں پورا کیا گیا۔سال 1991ء میں قیام پذیراس ادارے کو وفاقی سطح پر ملک کا پہلا عوامی فلاحی ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اْس وقت مْلک کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف صاحب نے اپنے والدِمحترم میاں محمد شریف (مرحوم) کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اْن کی غریب پرور سوچ کوآگے بڑھایا اور پاکستان بیت المال جیسے ملک گیر فلاحی ادارے کے پودے کی آبیاری کی جو آج ایک مضبوط سایہ دار اور پھل دار درخت بن چکا ہے جس سے آج ملک کے ہر کونے میں بسنے والے مستحق افراد فیض یاب ہور رہے ہیں۔ 33سال سے زائد عرصے پر محیط سماجی تحفّظ کے میدان میں بے مثال خدمات پاکستان بیت المال کی نیک نامی، افادیت، پائیداری اور فلاحی خدمات کے مؤثر نظام کی آئینہ دار ہیں۔ملک کے 166اضلاع میں اپنی مؤثر سماجی خدمات کا احاطہ کیے ہوئے یہ ادارہ غربت کے ستائے ہوئے دْکھی اور مجبور لوگوں کا سہارا بنتے ہوئے عوامی خدمت کی لازوال داستانیں رقم کرچکا ہے، اورآج سماجی اْفق پر ایک درخشاں ستار ے کی مانند ہے جس کی روشنی سے ہر سال لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں اْجالا ہورہا ہے۔ملک بھر میں بسنے والے پسماندہ افراد کی مذہب، جنس، ذات پات اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر خدمت کے اصول پر سختی سے عمل پیرا پاکستان بیت المال ملک میں وفاق کی ایک علامت بھی ہے جوملک بھر کے لوگوں کو احساس، ہم آہنگی،محبت اور خلوص کے خوبصورت پھولوں کے گلدستے کی مانند آپس میں جوڑے ہوئے ہے۔ غربت زدہ دْکھی افراد کو جب یہ محسو س ہوتا ہے کہ کسی بھی مشکل گھڑی کا مقابلہ کرنے کے لیے وفاقی حکومت ان کے ہمراہ ہے تو اْن کا اپنے وطن سے رشتہ مزید مستحکم اور گہرا ہوتاچلا جاتا ہے۔
 بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام وہاں کی معاشی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے جس سے غربت میں اضافے جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، خوراک جیسی سہولیات کا فقدان اور پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کی عدم دستیابی بھی غربت کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔افسوس کہ پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 40فیصد ہے جبکہ 2.6ملین افراد سطح غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ جان کربھی ہمیں تشویش ہونی  چاہیے کہ پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 26ملین کے قریب ہے اور اِ ن میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 3.3ملین بچے حصولِ روزگار کے لیے مختلف مزدوریاں کر رہے ہیں۔یعنی جِس عمر میں ان کے ہاتھ میں کھلونے او ر کتابیں ہونی چاہیں یہ ظالم معاشرہ ان کے معصوم ذہنوں میں حصولِ معاش کی فکرپیدا کر دیتا ہے، اِن کے ہاتھوں میں کام کرنے کے لیے اوزار تھماتے ہوئے انہیں زندگی کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دینا بھی خود غرض اور بے حِس معاشرے کے بدنماچہرے کاعکّاس ہے۔احساسِ محرومی اور معاشرتی استحصال سے محفوظ بنا کرایسے معصوم پودوں کو شفقت بھرے موافق ماحول میں آبیاری کرتے ہوئے پروان چڑھانے کے لیے پاکستان بیت المال ملک بھر میں  160 ’’مزدور بچوں کی بحالی کے سکول‘‘  اور یتیم اور بے سہارا بچوں پر مشتمل آئندہ نسلوں کو سنوارتے ہوئے اِن کی گھرجیسے بہترین ماحول میں پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے 41’’پاکستان سویٹ ہومز‘‘چلا رہا ہے۔یتیم بچوں اور بچیوں کو سکول بھیجنے والے خاندانوں کی ’’آرفن اینڈ وڈوسپورٹ پروگرام‘‘ کے تحت ماہانہ مالی معاونت کی جارہی ہے، جبکہ پیدائشی طور پر سننے اور بولنے سے محروم بچوں کو زندگیوں کی آوازیں سننے کے قابل بنا کر اِن کی خوشحال اور کامیاب زندگی کی بنیاد رکھنے کا جذبہ لیے کاکلیئر امپلانٹ کی سرجری کے لیے معاونت بھی کی جارہی ہے۔ہمارے ملک کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل عورتیں ہمارے ملک کے لیے ترقی اور خوشحالی کی نوید ہیں، ملک کی نادار مگر با ہمت خواتین کو آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی سے ہی ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیداکیاجاسکتا ہے۔ملک کی غریب خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بناتے ہوئے معاشرے میں با عزت مقا م دلانے کے لیے مختلف پیشہ وارانہ تربیتی کورسز سے آراستہ کرنے کے لیے ملک بھرمیں  165’’ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز‘‘مصروفِ عمل ہیں۔مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاج معالجے کے لیے معاونت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معذور افراد کی امداد اور بحالی کے اقدامات بھی پاکستان بیت المال کے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔ نوجوانوں کو ملکی ترقی کے دھارے میں لاتے ہوئے اِن کے تعلیمی سفر میں حائل مالی مشکلات کو دور کرنے کے اہم فریضے کی ادائیگی میں پیش پیش یہ ادارہ ملک بھرمیں ہونہار اور مستحق طالب علموں کی تعلیم کے حصول کے لیے سرپرستی کر رہا ہے۔اسی طرح عدم تحفّظ اور مجبور افراد کے لیے عارضی رہائش اور کھانے کی فراہمی اور مختلف مقامات پر موبائل وینز کے ذریعے کھانے کی فراہمی کی ذمہ داری بھی نبھائی جارہی ہے۔
 مجھے پاکستان بیت المال میں بطور منیجنگ ڈائریکٹر ذمّہ داریاں سنبھالے اگرچہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا مگر میرا یہ یقینِ کامل ہے کہ غْربت کی شرح میں کمی لاتے ہوئے کے ملک کو مستحکم، مضبوط اور ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لیے پاکستان بیت المال کا کردار مثالی ہے۔غربت کے خلاف جنگ میں مزید مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے میں خود سائلین سے ملتا ہوں جس سے غریب افراد کے مختلف مسائل جانتے ہوئے ان کے حقیقی اور ٹھوس حل تلاش کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔نادار افراد کے دکھوں کو فوری دور کرنے کے ساتھ ساتھ میں ایسے دْور رس اقدامات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ آئندہ نسلیں غربت کے بھنور میں نہ پھنس سکیں، اس کے لیے ضروری کے لیے باہمت مردوخواتین کو خودروزگار کے قابل بنایا جائے۔اِ س سلسلے میں وفاقی حکومت کا  ’’اْڑان پاکستان‘‘ منصوبہ بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ 
میں جب کبھی اپنی سوانح حیات لکھنے کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بطور آرمی آفیسر،سینیٹر، وائس چیئرمین پنجاب اوور سیز کمیشن، ممبر بورڈ آف گورنر (او۔پی۔ایف)اور ذاتی حیثیت میں ملک اور اپنے ہم وطنوں کی خدمت کی کاوشوں پر خوشی محسوس ہوتی ہے، مگر کسی دْکھی اور مجبور فرد کے غْربت سے وابستہ کسی مسئلے کو حل کرنے کے بعداْس کے چہرے پر دوبارہ سے زندگی کی تازگی اور آنکھوں میں چمک دیکھنے کے بعد راحتِ قلب نصیب ہونا میری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہے۔میں اپنے آپ کو دنیا کے اْن خوش نصیبوں میں تصّور کرتا ہوں جنہیں افسردہ اوردْکھی انسانیت کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے لیے منتخب کرلیا جائے تاکہ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرتے ہوئے نجات پاجائیں۔ میری یہ خواہش ہے کہ ہم تہذیبی اقدار، معاشرتی رویوں، باہمی حْسنِ سلوک اور آداب و روایات کوپروان چڑھاتے ہوئے غربت کے خلاف اِس جنگ میں مشترکہ جدّوجہد کریں، کیونکہ کوئی بھی ملک غربت میں کمی اہداف کو تنہا حاصل نہیں کرسکتا۔آئیں ہم سب مل کر ملک کو دیمک کی طرح کھوکھلا کردینے والی اس غربت کے خلاف لڑائی میں حصّے دار بنتے ہوئے اْداس لوگوں کی تاریک زندگیوں میں اْجالا کرنے والوں میں شامل ہوجائیں۔
احمد فراز کاکیا خوبصورت شعر ہے کہ:۔
شکوہ  ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

مزیدخبریں