جنگ بندی: ویل ڈن ایران

08:56 AM, 25 Jun, 2025

ایران۔ اسرائیل و امریکہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے۔ بغیر کسی معاہدے اور شرائط کے جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے۔ ایران کو ایسی صورتحال کا شکار بنا دیا گیا ہے کہ اب اس کے پاس کوئی دوسرا آپشن بچا ہی نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ خودکش کا روپ دھار لے۔ اس کی قومی سلامتی کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس پر حملہ کرکے اسے مجروح بھی کیا گیا ہے۔ اس کی ایٹمی تنصیبات پر ایک قسم کا ایٹمی حملہ ہی کر دیا گیا ہے۔ ایران بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہا تھا، ایسی ہی بات چیت کے 5دور ہو چکے تھے۔ چھٹا دور 15جون کو طے تھا کہ 13جون کو اسرائیل کے ایران پر حملہ کر دیا، بہت بھرپور حملہ، تگڑا حملہ، خوفناک حملہ، کامیاب حملہ۔ اس حملے میں ایرانی آرمی چیف، پاسداران چیف، ایٹمی سائنس دان شہید کر دیئے۔ اسرائیل نے طاق طاق کر نشانے لگائے۔ ایرانی دفاعی نظام کہیں نظر نہیں آیا، اسرائیلی طیارے اور ڈرونز نے کھل کھلا کر ہلاکت اور تباہی کا کھیل کھیلا۔ ایران ایک کمزور اور بے بس ملک کے طور پر سامنے آیا۔ اسرائیل حسب سابق ایک بدمعاش اور غنڈے کے طور پر سامنے آیا لیکن اگلے ہی روز ایران نے جس پامردی کے ساتھ اسرائیل پر حملے شروع کئے اس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اسرائیلی شہر بشمول تل ابیب، حیفہ، بیئر شیبا و دیگر ایرانی میزائلوں کی زد میں آئے۔ ہم اسرائیلی ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم کی افادیت کے بارے میں بہت کچھ سنتے چلے آئے تھے۔ ہمیں اس سسٹم کے ناقابل تسخیر ہونے اور اسرائیل کو محفوظ ترین ملک بنانے کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا۔ ہم سمجھتے رہے کہ بدمعاش اسرائیل واقعتاً بڑا بدمعاش اور ناقابل  تسخیر ہے۔ ویسے 1948ء میں اپنے قیام سے لے کر ہنوز وہ 77سال سے عربوں کے ساتھ بدمعاشی کر رہا ہے، ان کی زمینیں ہتھیا رہا ہے، انہیں جوتے کی نوک پر رکھے ہوا ہے۔ عرب اس سے ڈرتے رہتے ہیں، اسرائیل ان کے اعصاب پر سوار ہے۔ اسرائیل کی صہیونی قیادت گریٹر اسرائیل کے قیام کا اعلان کرتی رہی ہے۔ 2023ء میں نیتن یاھو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گریٹر اسرائیل کا نقشہ بھی لہرا دیا تھا۔ اس پر عربوں نے دھیمے سروں میں احتجاج بھی کیا لیکن صہیونی قیادت اپنے عزائم کی تکمیل میں مصروف رہی اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ہر اس قیادت کو تباہ کرنے میں مصروف ہے جو اس کے عزائم کی راہ میں مزاحم ہو سکتی ہے وہ ہر ملک کو تباہ و برباد کر دیتی ہے جو اس کے سامنے ذرا سا بھی سر اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ صہیونیوں نے پہلے اسلام کے مقابلے میں غربیت کو فروغ دیا۔ مائیکل افلاک کے ذریعے بعث ازم کو فروغ دیا، بعث پارٹی تشکیل دی اور عربوں میں اسلامی حمیت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اخوان المسلمون کا خاتمہ کیا پھر بعثی قیادت کو بھی ہلاک کیا۔ شام، عراق، مصر، بحرین وغیرھم کو کمزور کیا، تباہ کیا۔ عربوں کی آخری مزاحمتی قوت حماس کو پیوند خاک کرنے کی مہم جاری ہے۔ 
ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کرکے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم پاش پاش کر دیا ہے۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں گھس گھس کر نقصان پہنچایا ہے۔ ابتداً آئرن ڈوم 90فیصد حد تک میزائل تباہ کر دیتا تھا، 10فیصد ایرانی میزائل اسرائیلیوں پر ہلاکت طاری کرتے تھے، یہ شرح بڑھتے بڑھتے 40فیصد اور اس سے زیادہ ہو چکی ہے گویا آئرن ڈوم کمزور ہوتا چلا گیا ہے، اسرائیلی چیخ و پکار نے امریکہ کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ امریکہ نے B-2بمبار کے ذریعے ایرانی جوہری تنصیبات پر 14بنکر بسٹر بم گرائے۔ میزائل بھی داغے۔ امریکہ نے اس حملے کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اگلے روز ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر 14میزائل داغ کر بدلہ لیا۔ اس سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ نے آبنامے ہرمز کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا۔ قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی حملے کے بعد صورتحال اور بھی تشویشناک ہو گئی ہے۔ قطر نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ سعودی عرب میں بھی سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی میڈیا ایران کے عراق میں امریکی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اطلاعات دینے لگا ہے بہرحال امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے جسے اسرائیل نے سراہا ہے گویا قبول کر لیا ہے۔ ایران نے بھی کہا ہے کہ اگر اسرائیل حملہ نہیں کرے گا تو اس پر ایران حملہ نہیں کرے گا گویا ایران نے بھی جنگ بندی قبول کر لی ہے۔ 
ایران۔ اسرائیل و امریکہ جنگ بندی کتنی حقیقی ہوگی، اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہونگے، کیا ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ جائے گا؟ کیا ایران پہلے کی طرح بین الاقوامی جوہری ادارے کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا، انہیں اپنے جوہری مراکز کے معائنے کی اجازت دے گا؟ یہ تمام سوالات جواب طلب ہیں، آنے والے دنوں میں فریقین کا رویہ ہی ان امور کو طے کرے گا لیکن ایک بات طے ہو گئی ہے کہ اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم ایران نے پاش پاش کر دیا ہے۔ اسرائیل کو اندر گھس کر ٹھوکا جا سکتا ہے، اس کی تنصیبات کو، اس کے اڈوں کو، اس کی عمارات کو تاک تاک کر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل پر قہر نازل کیا جا سکتا ہے، اسے تباہ و برباد کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات ایران نے ثابت کر دی ہے۔ عربوں کو اس حوالے سے ایران کا مشکور ہونا چاہئے کہ عرب، اسرائیل کی عسکری طاقت کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اسرائیل نے چن چن کر عربوں کا بھرکس نکالا ہے ان کی عسکریت اور فوجی طاقت کو پاش پاش کر دیا ہے۔ عرب بزدل ثابت ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نفسیاتی طور پر بھی ان پر غلبہ حاصل کر چکا ہے۔ 
عربوں نے تو اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ ایران نے اکیلے ہونے کے باوجود، طویل اقتصادی و فوجی پابندیوں کے باوجود حالیہ 12روزہ جنگ کے دوران جس اولالعزمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اسرائیل امریکہ اور مغربی عیسائی دنیا کے لئے حیران کن بلکہ پریشان کن ہے۔ اس جنگ کا ایران کے لئے بھی ایک سبق ہے۔ اسے دوستیاں بناتے وقت زیادہ تدبر و فکر کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پاکستان اور افغانستان اس کے برادر ہمسایہ ملک ہیں۔ ترکی بھی برادر اسلامی ملک ہے۔ ان کے ساتھ بہتر تعلقات ایران کے اپنے مفاد میں ہے۔ ہندوستان اول و آخر مسلم دشمن ملک ہے۔ عربوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ جو اسرائیل عرب بھائیوں کا دشمن ہے قاتل ہے بھارت اس کے ساتھ شیر و شکر ہے جبکہ وہ عربوں سے بھی مالی مفاد لے رہا ہے عرب اس پر واری صدقے جا رہے ہیں۔ کفر و اسلام کے آخری معرکے میں ہندوستان، اسرائیل کے ساتھ ہی کھڑا ہوگا، عربوں کے ساتھ نہیں۔ ایران کو اب تمام کمزوریوں کا علم ہو چکا ہوگا۔ اسے چاہئے کہ اب جس قدر جلدی ہو، ایٹمی دھماکہ کر ڈالے۔ اس کے سوا بقا کی دوسری صورت نظر نہیں آتی ہے۔

مزیدخبریں