چند روز پہلے لاہور کی ویلنشیا ہائوسنگ سوسائٹی سے ایک انتہائی دلخراش واقعہ رپورٹ ہوا۔ اس سے پہلے اچھرہ کے علاقہ میں بھی کچھ اسی قسم کا واقعہ پیش آ چکا ہے۔ یہ دونوں واقعات اپنی نوعیت میں مختلف ضرور ہیں، لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے عدم برداشت، بے حسی اور ظلم۔ معاشرے میں عدم برداشت اور تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔ بھائی، بھائی کو باپ بیٹے کو قتل کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس تمام صورتحال کی چار بنیادی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔
پہلی وجہ نفسیاتی تھکن ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباو، مستقبل کی بے یقینی اور روزمرہ کے دیگر مسائل نے لوگوں کے اعصاب کمزور کر دیے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو پورا دن مالی پریشانیوں میں گھرا رہے، وہ معمولی بات پر بھی اپنا توازن کھو سکتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ ہمارا سماجی رویہ ہے۔ ہم نے اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ اگر کوئی ہماری بات سے اختلاف کرے تو ہم اسے اپنادشمن سمجھ لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رویے کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ وہاں ہر شخص خود کو مکمل درست اور دوسرے کو مکمل غلط سمجھتا ہے۔ تیسری وجہ قانون پر اعتماد کی کمی ہے۔ جب لوگوں کو یقین نہ رہے کہ عدالتوں سے انصاف ملے گا تو وہ خود ہی فیصلے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی سوچ تشدد کو جنم دیتی ہے۔ اگر ہر شخص خود ہی منصف بن جائے تو معاشرے میں امن کیونکر قائم رہ سکتا ہے؟۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عدم برداشت کی وجہ سے دوسروں کا نقصان کرنے والوں کے لیے صرف قانون سے آگاہی کا ہی نہیں بلکہ ان کی بنیادی تربیت کا بھی انتظام کیا جائے۔ ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی فکر تو کرتے ہیں، مگر انہیں برداشت، صبر، گفتگو کا سلیقہ اور اختلاف کو قبول کرنا نہیں سکھاتے۔ اگر ایک بچے کی شروع سے ہی ہر خواہش پوری کی جاتی رہے تو بڑا ہو کر وہ ’نہیں‘ سننے کا عادی ہی نہیں رہے گا۔ پھر معمولی انکار بھی اس کے لیے اشتعال کا سبب بن سکتاہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر اوقات تشدد کو ہی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جو زیادہ زور سے بولے، جو زیادہ دھمکی دے، جو زیادہ خوف پیدا کرے، لوگ اسے ہی طاقتور سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل طاقت غصے پر قابو پانے میں ہے، نہ کہ دوسروں کو دبانے میں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف معاشی مشکلات ہی عدم برداشت کی وجہ نہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مالی طور پر خوشحال ہیں، مگر غصہ ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف جیب کا نہیں بلکہ ذہن اور تربیت کا بھی ہے۔ بچے گھر میں جو ماحول دیکھتے ہیں، وہی سیکھتے ہیں۔ اگر والدین معمولی بات پر چیخیں، ایک دوسرے کی تذلیل کریں یا ہاتھ اٹھائیں تو بچہ یہی سمجھتا ہے کہ اختلاف کا حل طاقت سے نکالا جاتا ہے۔ پھر یہی بچہ سکول جاتا ہے، دوستوں سے لڑتا ہے، بڑا ہو کر دفتر میں جھگڑتا ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر تشدد کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے برداشت کو کمزوری اور غصے کو بہادری سمجھ لیا ہے۔ اگر کوئی شخص خاموشی اختیار کرے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں ہمت نہیں، جبکہ جو شخص شور مچائے، دھمکیاں دے یا ہاتھ اٹھائے اسے طاقتور تصور کیا جاتا ہے۔ یہی سوچ ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ پھر ایک اور المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی تکلیف کو خبر سمجھتے ہیں، سبق نہیں۔ ہر روز اخبارات اور ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر قتل، تشدد اور خودکشی کی خبریں آتی ہیں۔ چند منٹ افسوس کیا جاتا ہے اور پھر اگلی خبر آ جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ انسان کا دل ان مناظر کا عادی ہو جاتا ہے ، جب معاشرہ کسی برائی کا عادی ہو جائے تو وہ برائی معمول بن جاتی ہے، اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
ویلنشیا اور اچھرہ جیسے واقعات کو اگر صرف دو الگ الگ واقعات سمجھ لیا جائے تو شاید ہم اصل مسئلے تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ دراصل ایک بڑے سماجی بحران کی علامت ہیں۔ چند برس پہلے موٹر وے پر معمولی اوور ٹیکنگ پر فائرنگ کے واقعات، پارکنگ کے تنازع پر قتل، جائیداد کے جھگڑوں میں بھائیوں کا ایک دوسرے کی جان لینا اور گھریلو اختلافات پر خاندانوں کا اجڑ جانا، یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ مسئلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ اس اجتماعی مزاج کا ہے جو عدم برداشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عدم برداشت کے اس ماحول کے لیے یقینا ہم سب یعنی معاشرہ، والدین، تعلیمی اور کام کرنے کے ادارے اور سب بڑھ کر حکومت ذمہ دار ہیں۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں، تعلیمی اداروں، کام کرنے کی جگہوں میں کردار سازی، برداشت، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل پر باقاعدہ تعلیم دی جائے۔ نصاب کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ اچھا انسان بنانے کے لیے بھی ترتیب دیا جائے۔ اگر ایک طالب علم ریاضی اور سائنس تو سیکھ لے مگر انسانوں سے ڈیل کرنے کا سلیقہ نہ سیکھے تو یقینا ہماری تعلیم ادھوری ہی تصور ہو گی۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم ویلنشیا، اچھرہ یا کسی دوسرے واقعے پر چند دن افسوس کرکے اسی قسم کے ایک نئے واقعہ کے ہونے کا انتظار کریں۔بلکہ ضرورت اس بات ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور خود سے پوچھیں کہ کہیں ہم بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے فروغ میں حصہ دار تو نہیں ؟۔
اگر اس سوال کا جواب ہم نے دیانت داری سے تلاش کر لیا تو شاید آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں سانس لے سکیں جہاں اختلاف تو ہو، مگر دشمنی نہیں؛ غصہ تو آئے، مگر ہاتھ نہ اٹھے اور رشتے ٹوٹنے کے بجائے مضبوط ہوں۔ یقینایہی ایک مہذب، پرامن اور زندہ معاشرے کی اصل پہچان ہے۔
ہم اتنے بے رحم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟
09:55 AM, 26 Jul, 2026