توانائی کابحران ۔۔عوام کےلئے طوفان

09:52 AM, 26 Jul, 2026

پٹرول والامسئلہ دردسرتوتھاہی پراب یہ درددل بھی بنتاجارہاہے۔پٹرول ہی توہے جس نے اس وقت کسی ایک شخص اورفردنہیں بلکہ پوری قوم کی ناک میں دم کررکھاہے۔اس کمبخت کی ایک چھلانگ سے نہ جانے کتنوں کی راتوں کی نیندیں اڑاوردن کاسکون غارت ہوتاہے۔یہ نہ امیردیکھتاہے اورنہ غریب سب کوساتھ بہاکرلے جارہاہے کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی رکھنے والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جو روزمرہ استعمال کی اشیاءخریدتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو سامان کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے جس کا براہ راست اثر آٹے، چینی، سبزی، پھل، دودھ اور دیگر ضروری اشیاءکی قیمتوں پر پڑتا ہے۔نتیجتاً مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آتا ہے جس میںایک ایک کر کے پھرسب بہنے لگتے ہیں۔ دنیا اس وقت سیاسی اور معاشی بے یقینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھا¶ اور سپلائی کے خدشات نے کئی ممالک کو معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ہر عالمی بحران کا سب سے زیادہ اور بڑا بوجھ ہمیشہ عام آدمی کے کندھوں پر کیوں ڈالا جاتا ہے۔؟ پاکستان میں تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل اب ایک معمول بن چکا ہے۔ جیسے ہی قیمتوں میں اضافے کا اعلان ہوتا ہے عوام کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہے دوسری طرف پٹرول کی نئی قیمتیں گویا عوام پر ایک اور ''پٹرول بم'' بن کر گرتی ہیں۔ اس بم کی آواز شائد ایوانوں تک نہ پہنچے مگر اس کی گونج ہر اس گھر میں سنائی دیتی ہے جہاں محدود آمدنی میں پورا مہینہ گزارنے کی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ پٹرول صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آتا ہے جس کے سامنے عوام پھر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا اور سوچا جائے تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ایک فیصلہ لاکھوں خاندانوں کے بجٹ کوایسا متاثر کر دیتا ہے کہ جنہیں پھراس مشکل سے نکلنے کاکوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ عام شہری کی آمدنی میں وہ اضافہ نہیں ہوتا جس رفتار سے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ اس ملک میں نجی اداروں کے کارکن، مزدور، ریڑھی بان اور دیہاڑی دار طبقہ پہلے ہی معاشی دبا¶ کا شکار ہے۔ ان کے لئے ہر نیا اضافہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے ایک اور سمجھوتے کا نام بن جاتا ہے۔کوئی بچوں کی تعلیم کا خرچ کم کرتا ہے، کوئی علاج م¶خر کرتا ہے تو کوئی اپنی روزمرہ خوراک میں کمی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔توانائی بحران اوربڑھتی قیمتوں پرحکومت کا م¶قف اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے مقامی قیمتوں پر بھی اثر پڑتا ہے لیکن عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہوتا ہے تو اس کا مکمل فائدہ انہیں کیوں نہیں ملتا۔؟ 
عالمی منڈی میں جب تیل سستاہوتاہے توپھر اس کا پورا فائدہ بھی عوام تک بروقت پہنچنا چاہیے۔ ہر روز پٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل اوراضافہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔ جب امریکہ اورایران کی کشیدگی اوررویوں سے یقین ہوگیاہے کہ یہ مسئلہ اتناجلدحل ہونے والانہیں توپھرہرروزپٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے اس کے لئے کوئی مستقل حل کیوں تلاش نہیں کیا جا رہا۔؟ ریاست کی اصل ذمہ داری صرف معاشی اعداد و شمار کو بہتر دکھانا نہیں بلکہ عوام کے معیارزندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اگر ہر چنددن اور ہفتوں بعد اسی طرح پٹرول بم گرتا رہا اور عوام کی قوت خرید اسی طرح کم ہوتی رہی تو صرف معیشت ہی نہیں پھرمعاشرتی استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لئے متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاًشمسی توانائی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بناکرغیر ضروری سرکاری اخراجات میں فوراًکمی لائی جائے اور ایسی معاشی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جو مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ،مشکل اورآزمائش کامقابلہ اگرعوام اورحکمران مل کرکریں گے توتب ہی کوئی کنارہ ملے گا۔صرف عوام کے کندھوں پرسارابوجھ ڈالنے سے یہ حالات اورمعاملات پھرزیادہ دیرتک نہیں چلیں گے۔عوام نے پہلے بھی ہرمشکل اوربحران میں قربانیاں دیں اوریہ اب بھی دے رہے ہیں لیکن سوال صرف یہ ہے کہ بے چارے عوام اکیلے میں آخرکب تک قربانیاں دیتے رہیں گے۔؟یہ توحکمران بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اصلاحات کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے اور حکومت خود کفایت شعاری کا مظاہرہ نہ کرے تو اعتماد کا رشتہ پھر مضبوط نہیں رہتا۔ عوام اگر مسلسل مہنگائی،بے یقینی اور معاشی دبا¶ کا شکار رہیں تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماجی استحکام، قومی یکجہتی اور مستقبل کی امیدوں پر بھی یہ منفی اثر ڈالتے ہیں۔اس لئے عالمی حالات کا ادراک کرتے ہوئے ایسے فیصلے کئے جائیں کہ جن میں عوامی مشکلات کو اولین ترجیح دی جائے،حکومتی فیصلے اوراصلاحات ایسے ہوں کہ جو خزانے کے ساتھ عوام کے گھروں میں بھی آسانی اور امید لے کر آئیں۔اس مشکل وقت میں اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے،قیمتوں میں استحکام لانے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔ 

مزیدخبریں