جنتر منتر پاکستان

09:53 AM, 26 Jul, 2026

بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی میں ان دنوں کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوانوں کا احتجاجی دھرنا چل رہا ہے۔ اس دھرنے میں گزشتہ دنوں پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے فورس کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے تصادم خاصا بڑھ گیا اور اس دھرنے نے میڈیا کی سرخیوں بٹوریں۔ بھارت کے اس دھرنے کو پاکستان میں بھی خوب پزیرائی ملی جس کی وجوہات غور طلب ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے کرتا دھرتا کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کسی خاص مقصد کے تحت پلانٹ کیا گیا ہے۔ اس تحریک کے بانی ابھی جیت دپتے امریکہ میں زیر تعلیم ہیں اور نوجوانوں کی اس تحریک کو لیڈ کرنے امریکا سے بھارت آئے ہیں۔ دوسرے سرکردہ کلائمیٹ ایکٹیوسٹ سونم وانگ چک ہیں جو بھارت کے متنازعہ علاقے لداغ کی توانا آواز ہیں۔ ایک نوجوان جو اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لاکھوں روپیہ لگا کر امریکہ گیا اس نے بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک طعنے پر آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی شروع کی اور اپنا مستقبل داو پر لگانے کے لئے اڑ کر بھارت پہنچ گیا۔ سونم وانگ چک پر بھارت میں لداغ اور لیہ کے علاقوں میں چین کی در اندازی پر آواز اٹھانے کے جرم میں غداری کے مقدمات درج ہیں۔ وہ حال ہی میں ریاست راجستھان میں جیل کاٹ کر رہا ہوئے اور کاکروچ جنتا پارٹی کے دھرنے میں بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ یعنی انکا بھی حساب الٹا ہے۔ نئی دہلی میں جنتر منتر کا مقام ہر طرح کے دھرنے اور احتجاج کے لئے مختص کردہ جگہ ہے۔ یہاں آئے روز اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں۔ بھارت میں دو ماہ قبل ملک کے سب سے بڑے سرکاری امتحان کے پرچے لیک ہوئے تھے۔ جس پر کچھ طلبہ نے اپنی جان لے لی تھی۔ ملک بھر کے طلبہ میں غم و غصہ اس وقت بڑھا جب اس تعلیمی سکینڈل کو بھارتی حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی نے درست طریقے سے حل نہیں کیا۔ جب امتحانی بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے تو بھارتی طلبہ نے وزیر تعلیم کا استعفیٰ طلب کرنا شروع کیا۔ اس پچیس روزہ دھرنے کا مقصد بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا۔ اب وزیر تعلیم نے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ جنتر منتر کو روزانہ کی بنیاد پر دہلی پولیس لاٹھی چارج اور گرفتاریوں سے خالی کروا رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نیٹ کے امتحانی پرچے آﺅٹ ہونے کے معاملے میں فیصلہ کیا ہے کہ نیٹ امتحان کے پرچے لیک کرنے پر دس سال کی سزا اور دس کروڑ روپے کا جرمانہ کیا جائے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ہسپتال میں بھرتی سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال ختم کروا دی گئی ہے مگر پاکستان میں اس دھرنے، مطالبات، پارلیمان کی جانب مارچ، پولیس کے لاٹھی چارج ، طلبہ کی آہ و بکا، گرفتاریاں، ویڈیوز اور ہر لمحے پر خصوصی توجہ اور میڈیا پر مکمل کوریج دی گئی۔ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ کون سا میڈیا بھارت کا ہے اور کون کا میڈیا پاکستان کا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے پاکستانی عوام کو دھرنوں جلسوں جلوسوں سے بہت انسیت ہے۔ جس کی تشہیر پاکستانی میڈیا نے کی اور سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین بھارتیہ جنتا پارٹی کی مذمت اور کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت کرتے نظر آئے۔ پاکستانی عوام میں سیاسی دلچسپی تو کوٹ کوٹ کر بھری ہے مگر سیاسی شعور کا فقدان ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں ہر سال ایک بڑا دھرنا ضرور ہوتا ہے جبکہ چھوٹے موٹے احتجاجی دھرنے تو ہونا معمول ہے۔ گزشتہ دو سال سے پاکستان کے خوبصورت ترین علاقے آزاد کشمیر میں دھرنے، جلسے وطن عزیز کو چین نہیں لینے دے رہے ہیں۔ 
پاکستانی عوام کو یہ شعور دینا بہت ضروری ہے کہ ان دھرنوں میں خونی تصادم بھی ہوتے ہیں جن میں عوام اور پولیس فورس دونوں میں شہادتیں ہوتی ہیں۔ یہ لمحہ فکر یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی نظر میں انسانی جان کی وقعت نہیں ہے۔ ایک شخص کی موت ایک پورے خاندان کی موت ہوتی ہے اور انسانی جان کا نعم البدل کچھ نہیں ہے۔ دھرنوں جلسوں اور ملک و قوم اور ریاست کے خلاف کھڑے ہونا بہادری نہیں بلکہ بزدلی ہے جو پاکستانی قوم کو گمراہ کر رہی ہے۔ 
تحریک آزادی ، تحریک انقلاب، تحریک کاکروچ سب میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔موبائل انٹرنیٹ سروس بند ہوتی ہے۔ شہری زندگی مفلوج ہوجاتی ہے۔ حکومتوں کو کرفیو تک لگانے پڑتے ہیں مگر پاکستانی عوام اپنے ملک اور ہمسائے ملک دونوں میں دھرنے جلسے تفریح کے طور پر پسند کرتی ہے۔ پاکستان میں عوام کا رجحان اور سپورٹ دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے جنتر منتر پاکستان میں ہے اور کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا پاکستان میں چل رہا ہے۔

مزیدخبریں