جنوب ایشیا میں نوجوانوں کی حالیہ تحریکیں

09:51 AM, 26 Jul, 2026


جنوب ایشیا کا خطہ اس وقت ایک عظیم سیاسی، سماجی اور فکری زلزلوں کی زد میں ہے جس کی باگ ڈور کسی روایتی سیاسی جماعت یا کہنہ مشق سیاست دانوں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ اس خطے کے ا±س نوجوان طبقے کے پاس ہے جسے دنیا "جنریشن زی" کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ایشیا کے اس حصے میں طویل عرصے سے قائم بوسیدہ جمہوری نظام، خاندانی سیاست، مالیاتی بدعنوانی، معاشی ناہمواری اور نوجوانوں کے مستقبل سے برتی جانے والی لاپروائی نے ایک ایسا لاوا پکا دیا تھا جو بالآخر حالیہ برسوں میں دھماکے کی صورت پھٹ پڑا۔ اگر ہم بین الاقوامی تناظر اور خاص طور پر عالمی صحافتی اسلوب کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ڈھاکہ کی سڑکوں سے لے کر کولمبو کی ساحلی پٹی اور نئی دہلی کے تعلیمی اداروں تک، نوجوان صرف احتجاج نہیں کر رہے بلکہ وہ طاقت کے روایتی مراکز کو یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ فیصلے کرنے کا پرانا انداز اب قابلِ قبول نہیں رہا۔ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم میں اصلاحات کے مطالبے سے جنم لینے والی طالب علم تحریک نے جس طرح چند ہفتوں کے اندر ایک مضبوط اور کئی دہائیوں سے قائم آمرانہ طرزِ حکومت کو کافور کیا، اس نے دنیا بھر کے بین الاقوامی ماہرینِ سیاست کو ششدر کر کے رکھ دیا۔ یہ محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک نئی نسل کا اپنے مستقبل پر حقِ ملکیت کا اعلان تھا۔
بنگلہ دیش کے اس ڈرامائی انقلاب نے سرحد پار بھارت میں بھی ارتعاش پیدا کیا، جہاں لاکھ کوششوں کے باوجود نوجوانوں کا بے چین سمندر اب مزید خاموش رہنے کو تیار نہیں۔ بھارت میں حالیہ دنوں میں تعلیمی امتحانات کے نظام میں شفافیت کی عدم دستیابی، قومی سطح کے داخلہ امتحانات جیسے این ای ای ٹی کے پرچوں کے افشا ہونے اور فوج میں مختصر مدت کے لیے بھرتی کی متنازع "اگنی پتھ" اسکیم کے خلاف جس طرح لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکلے اس نے ریاستی ایوانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ اگرچہ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے مگر اس کے اندرونی نوجوان طبقے میں روزگار کی عدم دستیابی اور تعلیمی بدعنوانی پر پایا جانے والا غصہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا اور لداخ کے برفانی پہاڑوں میں سونم وانگ چک کی قیادت میں ماحولیاتی و آئینی حقوق کے لیے اٹھنے والی شباب کی آواز اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارت کا نوجوان بھی اب جغرافیائی و مذہبی حد بندیوں سے بالاتر ہو کر اپنے بنیادی حقوق کا تقاضا کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں اگر سری لنکا پر نظر دوڑائی جائے تو چند برس قبل جنم لینے والی "ارگالیا" یعنی عوامی و یوتھ تحریک اس خطے میں عوامی طاقت کی ایک نئی تاریخ رقم کر چکی ہے، جہاں معاشی تباہی، غیر ملکی قرضوں کے بوجھ اور ایندھن و ادویات کی قلت سے تنگ آئے ہوئے نوجوانوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر کے حکمران اشرافیہ کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ 
خطے کے تمام ممالک میں ایک یکسانیت دکھائی دیتی ہے جہاں پڑھے لکھے نوجوانوں کے پاس روزگار کے یکساں مواقع موجود نہیں، تعلیمی نظام دورِ حاضر کے عالمی تقاضوں سے میل نہیں کھاتا اور حکمران اشرافیہ اپنے ذاتی و خاندانی مفادات کی حفاظت کے لیے جمہوریت کا سوانگ رچا رہی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ موجودہ ڈیجیٹل دور نے ان نوجوانوں کو ایک ایسا طاقتور ہتھیار فراہم کر دیا ہے جو ماضی کی نسلوں کے پاس نہیں تھا یعنی سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن نیٹ ورکس، جن کے ذریعے یہ نوجوان چند گھنٹوں میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں اور روایتی میڈیا پر سنسرشپ کے باوجود اپنا بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔بین الاقوامی پالیسی سازوں اور واشنگٹن جیسے طاقتور ایوانوں کے لیے جنوب ایشیا کی اس یوتھ ویو (Youth Wave) کا باریک بینی سے جائزہ لینا انتہائی ضروری ہو چکا ہے کیونکہ یہ خطہ دنیا کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ اور سب سے زیادہ جوان فورس رکھتا ہے۔ 
ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے ان مظاہروں سے ایک واضح سبق سامنے آتا ہے کہ اب ریاستیں محض حب الوطنی کے روایتی بیانیے، مذہبی یا سیاسی پولرائزیشن، انٹرنیٹ اور میڈیا پر پابندیاں عائد کر کے نچلی سطح پر پکنے والے غصے کو نہیں دبا سکتی۔ جنوب ایشیا کا نوجوان اب زبانی جمع خرچ کے بجائے فوری عملی اقدامات، شفافیت، احتساب اور اپنی صلاحیتوں کے اعتراف کا طالب ہے۔ جو حکومتیں وقت کے اس تقاضے کو سمجھ کر فوری اور بنیادی معاشی و سیاسی اصلاحات کی طرف نہیں بڑھیں گی، ان کا حشر بھی ڈھاکہ اور کولمبو کے حکمرانوں سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ اس خطے کے نوجوانوں نے اب اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ طاقت کے فرسودہ بتوں کو پاش پاش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔اسی لیے بین الاقوامی سطح پر اس بدلتی ہوئی صورتِ حال کا احاطہ کرتے ہوئے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ جنوب ایشیا کا یہ طوفان محض عارضی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک پائیدار فکری انقلاب کی بنیاد ہے۔ 

مزیدخبریں